Global Editions

ذ ہنی ٹول کٹس

جاپانی کمپیوٹر سائنس دان یو کیہیرو میتسو موتو(Yukihiro Matsumoto)نے روبی (Ruby) نامی پروگرامنگ زبان جو ٹویٹر (Twitter)،ہولو (Hulu)اور دورِ حاضر کی بہت سی سائٹس پر استعمال ہوتی ہے، کی تخلیق کا فیصلہ کیا تو اس کے ذہن میں دراصل 1966ء میں شائع ہونے والے سیمیول آر ڈِلا نے (Samuel R. Delany)کے ایک سائنس فکشن ناول بیبل17 – (Bable-17)کی کہانی کا بنیادی خاکہ تھا ۔کہانی میں ایک ایسی نئی زبان کا ایجا د کا تذکرہ ہے جو اپنے بولنے والوں کی ذہنی صلاحیت کو ایک درجہ بڑھا دیتی ہے ۔ اسکا خالق ایک جگہ کہتا ہے : بیبل 17 – ایک ایسی تجزیاتی زبان ہے کہ یہ آپ کو کسی بھی تکنیکی صورت حال سے نبرد آزما ہو نے کے قابل بنا دیتی ہے ۔’روبی کے ذریعے میتسو مو تو بھی کچھ ایسا ہی چاہتا تھا ؛ گویا پروگرامنگ کو بہتر کیا جائے اور پروگراموں کے اندازِ فکر کو ترقی دی جا سکے ۔بظاہر یہ ایک انہونا خیال ہوتا ہے لیکن میتسومو تو اس میدان میں کوئی اجنبی نہیں تھا ۔ سافٹ وےئر ڈیویلپر بطور گروہ کچھ یو ں سوچتے ہیں کہ پروگرامنگ زبانیں ذہن پر اس قدرحاوی ہوتی ہیں کہ یہ کسی مسئلہ کے حل میں آپ کے انداز فکر کوبدل سکتی ہیں ، حتیٰ کہ اس کا حل طلب مسئلہ بھی بدلا جا سکتا ہے۔ یہ لوگ اسی طرح اپنی کمپنیاں ، اجناس اور اپنے گروہ بناتے ہیں ، ’ آپ کونسی زبان استعمال کرتے ہیں ؟‘

عام افراد اس تناظر میں سافٹ وےئر کمپنیوں کی نوعیت کو سمجھ سکتے ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مضبوط سے مضبوط تر ہو تی جا رہی ہیں اسی طرح ان کی اجناس اور خدمات جو ہماری زندگی پر حاوی ہیں خاصی اہمیت کی حامل ہو گئی ہیں ۔یہ سوال انتہائی اختصاصی سا معلوم ہو تا ہے کہ کوئی شخص کوئی چیز بنائے ، فرض کیجئے روبی ، پی ایچ پی یا سی کا استعمال کر کے ، تو کیا ہماری زندگی پر فی الفور یہ عمل اثر انداز ہو سکتا ہے۔ اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ فیس بک ایسی کیوں نظر آتی ہے ، جیسے وہ کام کرتی ہے ، اور (فیس بُک )مستقبل میں ہمارے لیے اور ہمارے ساتھ کیا کر سکتی ہے ، تو آپ کی پی ایچ پی کے متعلق کچھ نہ کچھ جاننا ہو گا ، وہ پروگرامنگ زبان جس کے ساتھ مارک زکر برگ (Mark Zuckerberg)نے اسے بنایا تھا ۔
پروگرامر پروگرامنگ زبانوں میں شائد پی ایچ پی کو سب سے کم عزت کی نگا ہ سے دیکھتے ہیں۔ ایک معروف بلاگ پوسٹ میں اس کی برائیاں بیا ن کرتے ہوئے اسے’بے ہنگم ساخت کا ایک مجموعہ‘ قرار دیا گیا اور چاہتے ہوئے اس استعمال کرنے والے بے وقوف کہلائے ۔’ فیس بُک میں استعمال کی گئی باکمال انجینئرنگ کی بس اتنی سی کہا نی ہے ‘ پروگرامنگ کی حوالہ سے سوال و جواب کی معروف سائٹ ،’Stack Overflow‘کا شریک خالق جیف اَ ٹوُڈ (Jeff Atwood)کہتا ہے ۔’لیکن وہ وینڈو ز ایکس پی(Windows XP)میں کو ڈ تشکیل دے رہے تھے۔غیر مہذَّب انداز میں بات کی جائے تو وہ ہیکر تھے ۔‘دس منٹ کے عرصے میں اَٹوُڈ نے پی ایچ پی کو’ لڑکھڑا تا ہو ا دیو‘قرار دے دیا ۔ ’ایک وباء‘، خوف میں گھرا ہوا ایک گھر جس کے رہائشیوں کو بھوتوں سے محبت ہو گئی ہو ۔

تمام کامیاب پر وگرامنگ زبانیں اپنا مخصوص فلسفہ یا رہنما اصول رکھتی ہیں جن کے مطابق ان کی فرہنگ اور قواعد ، یعنی ممکنہ ہدایات کا سانچا ترتیب پاتا ہے ۔یہ سب کچھ مجموعی طور پر کام کرنے والوں کو دستیا ب ہوتا ہے ۔ لیکن پی ایچ پی میں ایسا کچھ نہیں ہے۔ اس کا خالق ریزمس لرڈورف(Rasmus LerDorf)برملا اس امر کا اعتراف کرنا ہے کہ اس نے بس یوں ہی اسے جوڑ دیا ہے ۔2003ء کے ایک انٹرویومیں اس نے کہا :’میں نہیں جانتا اسے کیسے روکا جا سکتا ہے۔‘ ’مجھے پروگرامنگ زبان لکھنے کا ہر گز کچھ پتا نہیں ۔ میں تو بس اگلے سے اگلا منطقی مرحلہ جوڑتا چلا گیا ۔‘
اس سلسلہ میں پروگراموں کی من پسند مثال پی ایچ پی کا مسکل اسکیپ سٹرنگ (MYSQL_ESCAPE_STRING)ہے جو ڈیٹابیس کو مواد بھیجنے سے پہلے ایک خطرناک کام کرتا ہے۔ (اس خطرناک کام کو سمجھنے کے لیے فرض کیجئے آپ ویب سائٹ پر کوئی ایسا فارم بھر رہے ہیں جو آپ کا ای میل ایڈریس مانگتا ہے۔اس موقع پر کوئی ہیکر اس جگہ پر ایسے کوڈ لگا سکتا ہے جس سے ویب سائٹ پا سوَرڈ بتا دے۔) یہ خامی دریافت ہوئی تو مِسکل رےئل اسکیپ سٹرنگ (mysql_real_escape_string)نامی ایک نیا نمونہ فنکشن میں شامل کر دیا گیا لیکن اصل کو بدلا نہیں گیا۔ اس کا نتیجہ کچھ ایسا ہی ہے کہ ایک ہوائی جہاز کے کوکپٹ میں ایک دوسر ے کے آگے پیچھے ایک جیسے دو بٹن لگا دیے جائیں ، ایک کاکام لینڈگ گےئر کو نیچے کرنا ہو او ر دوسرے کاا سے محفوظ طور پر نیچے کرنا ۔ یہ کامن سینس کے بر خلاف ہی نہیں ، تباہی کا نسخہ ہے ۔
پی ایچ پی کے متعلق اس تمام تر حرکات کے باوجود ایک بڑا حصہ اسی پر تعمیر کیا گیا ۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا کی تمام ڈومینوں میں 39% اسی پر تعمیر کی گئی ہیں۔فیس بُک ، ویکی پیڈیا اور دنیا کا سب سے بڑا اشاعتی پلیٹ فارم ورڈپریس سب پی ایچ پی پر ہیں ۔اس کا سبب یہ ہے کہ اپنے تمام تر مسائل کے باوجود پی ایچ پی شروعات کے لیے بہترین ہے۔ پی ایچ پی کا پورا نام ’Personal Home Page‘تھا ۔ اس سے ’Static HTML‘پیج پر
’Dynamic Content‘مثلاً تاریخ اور نام وغیرہ چڑھانا آسان ہو گیا۔ اس نے ویب ایپلیکیشن ترتیب دینا بھی قابلِ تصور حد تک آسان اور مختصر ترین کر دیا ۔ ایسا کرنے کے لیے ضروری نہیں کہ آپ اس میدان میں ماہر ہوں ۔

ویکی میڈیا(Wikimedia)کی پرینسل سافٹ وےئر انجینئر،اور ی لیو نیہ (Ori Livnech) کا کہنا ہے کہ پی ایچ پی کے فی الفور شروع ہو جانے کی صورت نے ویکی پیڈیا کی کامیابی میں اہم کر دارادا کیا ۔ ’مجھے ہمیشہ پی ایچ پی سے نفرت رہی ہے ‘، اُس نے مجھے بتا یا ۔اس زبان پر انحصار کی بدولت پروجیکٹ کو ڈیزائن کے حوالہ سے بہت سے نقصانات کا سامنا رہتا ہے ۔(کافی حد تک اسی کے باعث 2008ء تک ویکی پیڈیا کا موبائل وژن متعارف نہیں کروایا جا سکا تھا اور وہ تبدیلی و اضافہ ( Editing) کے لیے 2013ء تک دوست منش انٹر فیز مہیا نہیں ہو سکا)لیکن پی ایچ پی کی بدولت وہ لوگ بھی اس میں بہت سے اضافے کرنے پہ قادر ہوگئے جو یا تو سافٹ وےئر انجینئر نہ تھے یا اس میدان کا واجبی سا علم رکھتے تھے ۔ اس طرح ویکی پیڈیا والے یونانیات کے صفحات پر علامتی طرز تحریر دکھانے پر قادرہوئے یا شیٹ موسیقی سے نمٹنا ممکن ہوا۔گوگل کو پی ایچ پی میں نہیں بنایا جا سکتا تھا کیونکہ گوگل کے گوگل ہونے کے لیے ایک کام ضروری تھا ، وہ یہ کہ اسے انتہائی تیزی سے اور انتہائی مرتب نوعیت کی تلاش کرنا تھی ۔ چنانچہ اسے زیادہ بہتر اور طاقت ور زبانوں جاوا اورسی پلس پلس (Java and C++)میں بنایا گیا ہے۔دوسری طرف فیس بک چھوٹے چھوٹے تجربات کا بازار ہے ،جس میں مختلف طرح کے بٹن ، فیڈر اور انجانی چیزیں آپ کی توجہ مبذول کرواتی نظر آتی ہیں ۔پی ایچ پی، تیزی سے مختلف طرح کے فیچر بنانے کے کام آتی ہے ۔

یوں سمجھ لیجئے کہ زکر برگ ہارورڈ میں اپنے کمرے میں بیٹھا تھا کہ اس فیصلہ کن روز جب فیس بُک کی پیدائش ہو ئی ، اس نے ممکنہ حد تک کم سے کم لمحہ امر کرنے کے لیے محض یہ ضروری ہے کہ آپ سب سے پہلے کی دوڑ میں آجائیں ۔ یہ بات قطعن غیر اہم ہے کہ اس نے ( بے ہنگم کوڈترتیب دینے کے لیے پروگراموں سے بھرپور اساسی علم ادھار لینے کی خاطر)گارے کا باؤل تیا رکیا یا سپیگیٹی کی پلیٹ یا ہوزی کی خوف ناک کیبنٹ ، اس کا کام ہو گیا ۔لوگ اسے استعمال کر سکتے تھے ۔ وہ معیاری کوڈوں کے متعلق نہیں سوچ رہا تھا ۔ اسے تو یہ خواب آرہے تھے کہ اس کے دوست لاگ اِن ہو کر اپنی ’فیس بُک ‘پر جان پہچان کی لڑکیوں کی تصاویر دیکھ سکتے تھے ۔
آج فیس بُک کی مالیت دوسو ارب ڈالر سے زائد ہے اور اس کے دفاتر کی دیواروں پر ہر طرف لکھا ہے : ’کچھ کر لینا مثالی ہونے سے بہتر ہے ‘، ’تیزی سے حرکت کرو اور سب کچھ توڑ ڈالو‘۔ ان اکسانے والے پیغامات کا مقصد ملازمین کو کمپنی کی ’ہیکر‘روایت کے مطابق رکھنا ہے ۔لیکن فی الحقیقت یہ پی ایچ پی کی اقدار کے عین مطابق ہیں ۔تیزی سے بڑھنا اور سب کچھ توڑ ڈالنا ، اس قدر پی ایچ پی کی گھٹی میں شامل ہے کہ جو کوئی بھی اس زبان ’میں بولتا ‘ہے وہ ایسا ہی سوچنے لگتا ہے ،یا شائد یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس زبان ہی نے فیس بُک کا موجود ہ طرزِ عمل تخلیق کیا اوراسے جاری رکھے ہو ئے ہے۔

خفیہ ہتھیار:
اگر آپ دیکھنا چاہتے ہیں کہ پی ایچ پی کے عین متضاد کیا ہے اور اس کی نوعیت کیاہے ؟ تو فطری تجربے کے طور پر زیریں مینہیٹن ہیڈ کوارٹر کی ایک مالیاتی فرم جین سٹریٹ کیپیٹل (Jane Street Capital)سے بہتر مثال نہ ملے گی ۔ چار سو ملازمین پر مشتمل کمپنی کا دعوٰی ہے کہ وہ امریکا کی کُل یومیہ ترسیلی مالیات کے حجم کے دو فی صد کی ذمہ دار ہے۔ میں جین سٹریٹ کے تکنیکی سربراہ یرون مینسکی (Yaron Minsky) سے ملا تو وہ ایک ڈیسک پر بیٹھا تھا ۔ اس کے پاس جنگِ عظیم دوم کی چند درجن کوڈ مشینوں میں سے ایک انِگما مشین تھی جو چالو حالت میں تھی ۔ میں اسے کمرے میں موجود بہترین خفیہ ہتھیار کے انعام کا حق دار تصور کرتا اگر وہ (منسکی)اوکیمل (Ocaml)نامی عجیب و غریب زبان کے متعلق گفتگو سے باز آجاتا ۔ کمپیوٹر سائنس پر منتقل کر لیا جائے ۔ اس سے قبل اس زبان کو اس کام کے لیے شائد کبھی استعمال نہیں کیا گیا تھا ۔ یہ زبان خود کا رنظام کے تحت ریاضی کے تھیورم کا جواب دینے والے ایک کمپیوٹر سسٹم میں بہتری لانے کے لیے فرانس کے ایک تحقیقی ادارے کے شعبہ تدریس نے تخلیق کی تھی ۔ لیکن منسکی کا خیال تھا کہ او کیمل جو اس نے گریجو ایٹ سکول میں سیکھی تھی ، جین سٹریٹ ٹریڈنگ سسٹم کی پیچیدہ ایکسل سپریڈ شیٹوں کا متبادل ہو سکتی ہے ۔
او کیمل کی فروخت کا اہم ترین نکتہ اس کا ’ٹائپنگ سسٹم ‘ہے۔ یہ مائکرو سافٹ ورڈ جیسا ہے ۔ دونوں میں یہ فرق ہے کہ یہ غلطی کی صورت میں محض ایک مبہم سب لائن لگانے کی بجائے جس کوڈ کو یہ غلط سمجھتا ہے، اس کی درستی تک اسے چلانے نہیں دے گا ۔ٹائپنگ سسٹم کے ذریعے تشکیل دیے گئے پروگرام ایسے پروگراموں سے بہت زیادہ قابلِ اعتماد ہیں جن میں ایسا کوئی نظام نہیں او ربعد میں جب کسی روز وہ تیس ہزار ملین ڈالر ٹریڈ کر رہے ہوں او ران میں پائے جانے والے مسائل ابھرنے لگیں ۔

منسکی کا کہنا کہ اوکیمل کا ٹائپنگ سسٹم مسائل کی نشاندہی کر کے اوکیمل جین سٹریٹ کے کوڈوں کو بڑے مسائل پر مرتکز ہونے کا موقع دیتا ہے ۔یوں بھی سوچا جا سکتا ہے کہ اگر انہوں نے غلطی پر مستقلاًنظر رکھنے کا نظام وضع کر لیا ہے تو کیا اوکیمل کو ایسا نگران تصور کیا جا سکتا ہے جو غلط سوچنے ہی نہیں دیتا !

ٹائپ کا چیکر کا مکمل فائدہ اُٹھانے کیلئے پروگراموں کو اپنے کوڈز میں پیچیدہ ہدایات دینا پڑتی ہیں ۔یہ ایساہی ہے کہ گریمر چیکر مستفید ہونے کے آپ سے جملوں کو ڈایا گرام کی صورت میں بیان کر نے کو کہتا ہے۔ ٹائپنگ کی تجدید کے ساتھ کوڈ لکھنا انتہائی ناپسندیدہ ہو سکتا ہے اور بسا اوقات حوصلہ شکنی بھی ۔صورتِ حال کو مزید تر بناتے ہوئے او کیمل گہرے تجریدی ریاضی کی طرح کام کرتی ہے اور بہت سے پروگراموں کی سمجھ سے باہرہو جاتی ہے ۔ زبان کے یہ مسائل لوگوں کے لیے ناگواری کا باعث ہو سکتے ہیں لیکن جین سٹریٹ کو اس سے یہ غیر معمولی فائدہ ہو تا ہے کہ کمپنی روزگار فراہم کرنے کے حوالہ سے سخت گیر ہو سکتی ہے۔سافٹ وےئر انجینئرپی ایچ پی کے باوجود بالعموم فیس بُک اور ویکی پیڈیا وغیرہ جانا پسند کرتے ہیں ۔ منسکی کہتاہے کہ اوکیمل اور اس کی کتاب ’Real World Ocaml‘معیاری امیدواروں کی رسد کو زیادہ متاثر نہیں ہو نے دیتی ۔ کشش صرف زبان میں نہیں بلکہ اس بات میں ہے کہ کون لوگ اسے استعمال کرتے ہیں ۔ جین سٹریٹ ایک ایسی کمپنی ہے جس میں بریک روم میں وہ لو گ چار شرکاء کے ساتھ شطرنج کھیلتے ہیں ۔ یعنی ذہانت کا مقابلہ اور تصوراتی پروگرامنگ زبان کے استعمال کا جذبہ بین بین چلتے ہیں۔

اعلیٰ کار کردگی کی ایک نئی پروگرامنگ زبان گو (Go)کے ساتھ گو گل بھی کچھ ایسا ہی کرنا چاہتی ہے ۔ ویب کی کارکردگی کو مزید بہتر اور مستعد بنانے کے لیے وسیع وعریض ویب سرویسز کے درپردہ سروسز کے مجموعے کو چلانے کی خاطر ایک
ہائی سٹیک سافٹ وےئر کی تشکیل مستحسن قدم ہے ۔جدت اور مشکلات کے متلاشی پروگراموں کے لیے یہ تنبیہی سیٹی کا کام بھی دیتا ہے ۔
بہتری اور ترقی :

2010ء کے آخر میں فیس بُک کو بحران کا سامنا تھا ۔پی ایچ پی کو اعلیٰ کار کردگی کے لیے نہیں بنایا گیا تھا لیکن اس سے اب اس بات کا تقاضہ تھا ۔سائٹ اس قدر تیزی سے مقبولیت حاصل کر رہی تھی کہ خیال تھا کہ اگر فی الفور مطلوبہ تبدیلی نہ لائی گئی تو سب کچھ دھڑام سے گرنے لگے گا ۔ پوری زبان کو یک لخت بدل دینا ممکن نہ تھا ۔ فیس بُک میں پی ایچ پی کوڈ کی لاکھوں لائنیں تھیں جنہیں ہزاروں انجینئروں اور ماہرین نے ترتیب دیا تھا اور نصف ارب سے زائد صارفین بھی تھے۔اس کے بر خلاف سینےئرانجینئر وں کی ایک مختصر سی ٹیم کو یہ خصوصی ہدف دیا گیا کہ فیس بُک کی مادری زبان کو ترک کیے بغیر اس کے چالو رہنے کا کوئی حل نکالا جائے ۔

ممکنہ حل کی ایک صورت یہ تھی کہ ایک ایسا سافٹ وےئر بنایا جائے جو پی ایچ پی کوڈ کو کہیں تیز تر سی پلس پلس کوڈ میں منتقل کر دے ۔ دوسری صورت کمپیوٹر لینگویج انجینئرنگ کی تاریخ میں ایک کارنامہ تھا کہ فیس بُک کے پی ایچ پی کلچر کو برقرار رکھا جائے لیکن مستند کوڈ لکھے جائیں ۔نجات دہندہ دستے نے کر دکھایا ۔انہوں ہیک (Hack)نامی پی ایچ پی کی ایک ذیلی زبان ایجادکرڈالی۔ہیک اختیاری ٹائپنگ سسٹم کے ساتھ ایک طرح کی پی ایچ پی ہی ہے ۔یعنی آپ چاہیں تو پی ایچ پی کے سادہ ، پرانے اور گھٹیا کوڈ لکھ لیں اور چاہیں تو خود کو ایک کلیے سے باندھ کر ایسی ہدایات کا اندراج بھی کر لیں کہ آپ کے کوڈ کی درستی بھی چیک ہو سکے ۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ یہ ٹائپ چیکر مکمل طور پر اوکیمل میں لکھا گیا ہے ۔ فیس بُک اپنے کوڈوں کو مادری زبان میں دستیاب آسان روی دے کر تیز تر تو رکھنا چاہتی تھی لیکن یہ انہیں سب کچھ توڑنے نہیں دینا چاہتی تھی جیسا کہ انہوں نے پہلے کیا تھا ۔گزشتہ برس زکر برگ نے نئے انجینئر نگ نعرے کا اعلان کیا ۔’مستحکم بنیاد کے ساتھ تیز چلو ‘بنیادی ڈھانچے کے لیے ہیکر شارٹ ہینڈ استعمال کرتے ہوئے جس سے سائٹ چالو رہتی ہے ۔

تقریباًان ہی دنوں ٹیوٹر بھی ایسی ہی تبدیلی سے گزری ۔یہ سرویس اصلاً روبی آن ریلز(Ruby on Rails)ایک معروف پروگرامنگ فریم ورک جو میتسو موتو کی روبی پی ایچ پی سے متاثرہ فکر ، کے تحت تشکیل دی گئی تھی ۔ پھر صارفین کا ایک سیلاب آگیا ۔ جب سینکڑوں ہزاروں پیروکار رکھنے والے صارف ٹویٹ کرتا توسینکڑوں ہزاروں صارفین کی ٹائم لائن کو اپڈیٹ کرنا پڑتا ۔ایسے ٹویٹ جو بالعموم ہوتے رہتے تھے ، انجینئر وں کو مجبور کر دیتے کہ وہ سائٹ بند کر کے مطلوبہ اپڈیٹ مکمل کر سکیں ۔انہوں نے ایسا اس قدر زیادہ کیا کہ سائٹ کے مینٹیننس پیج پر ’فیل ویل‘(Fail Whale) خاصہ مشہور ہو گیا ۔ ٹویٹر نے اس تعطُّل کو خاتمہ سرویس کے بڑے حصے سکالا (Scala)نامی ایک اور پروگرامنگ زبان سے جوڑ کر کیا ۔اس امر میں کوئی حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ اوکیمل کی طرح سکالا بھی شعبہ تدریس کی ایجا دہے ۔ اور اس کا ٹائپنگ سسٹم بھی انتہائی مضبوط ہے اور یہ بھی پروگراموں کو بہت سی سہولیات دیتی ہے ۔
بہت سے نئے منصوبہ ساز جو اس قدر پختہ کار ہو چکے ہوں کہ جانتے ہوں کہ ریونیو کیسے جمع ہو گا ، ادارتی نفسیات پر حاوی ہونے کے لیے پروگرامنگ زبان کی طاقت کا استعمال کر سکتے ہیں ۔ پروگرامنگ زبان ساز گویڈو وین روسم
(Guido Van Rossum)جو سات سال گوگل میں کام کر چکا ہے اور ’ ڈروپ باکس ‘ سے وابستہ ہے ، کا کہنا ہے کہ جب کو ئی بھی سافٹ وےئر کمپنی ایک خاص حجم کی ہو جائے تو بحرانی کیفیت سے بچاؤ کا صرف یہی راستہ ہو تا ہے کہ ایسی پروگرامنگ زبان کا استعمال کیا جائے جو پروگراموں سے خلوص کا تقاضہ کرے ۔ ’ایسامحسوس ہوتا ہے کہ آپ کی رفتار سست ہو تی جا رہی ہے ‘ کیونکہ ہر بات تین تین بار کہنا پڑتی ہے ‘روسم کہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عموماً نئے منصوبے جب تک ممکن ہو زبانوں کی مہاجرت نہیں کرتے ۔ وہ مغرورہیکر جن کی بدولت آپ نے کا م شروع کیا تھا، ساتھ چھوڑ جاتے ہیں اور ممکنات کے مختصر ٹیمیں آپ کے لیے نئے فیچر تلاش کرلیں گے ۔ لیکن ایک زبان زیادہ حتمی زبان ہوتی ہے جو پوری کمپنی کے لوگوں کے لیے معاون ثابت ہوتی ہے کیونکہ وہ ایک دوسرے کے کوڈ جانتے ہیں اور کمپنی کو وہ مطلوبہ استحکام دے سکتے ہیں جو اسے در کار ہو تا ہے ۔
ایسے سافٹ وےئر منصوبے دیگر پر حاوی ہو سکتے ہیں اور ممکن ہے وہ بتا بھی دیں کہ وہ اس قدر طاقت ور کیسے ہو ئے ۔

کمپیوٹر کی بڑھتی ہوئی رسائی بھی اس کا حصہ ہے لیکن ان کمپنیوں میں خودکو از سر نوقائم کر لینے کی بھی انوکھی صلاحیت موجود ہوتی ہے ۔ ان کا بدلنا اور ترقی کرنا تجویز کرتا ہے کہ وہ آرگ چارٹ (Org Chart)کو از سرِنو بنانے سے زیادہ بھی کچھ کر سکتی ہیں ۔ چونکہ ان کی تشکیل کو ڈ میں ہوتی ہے اس لیے وہ اس سے کہیں زیادہ تباہ کن ہو سکتی ہیں ۔وہ خود کی تشکیلِ نو کر سکتی ہیں اپنا کلچربدل سکتی ہیں اور اپنے اندازِ فکر میں انقلا ب لا سکتی ہیں ۔
جیمز سومرز نیو یارک کے ایک لکھاری اور پروگرامر ہیں وہ ’Genius.com‘میں کام کرتے ہیں۔

مترجم: ڈاکٹر فیصل کمال حیدری

Authors

*

Top