Global Editions

ذہنی معذوری کے علاج میں رکاوٹیں

تھامس انسیل اپنے ایک مضمون میں دماغی بیماریوں پر اپنی رائے دیتے ہوئے کہتا ہے کہ ہم اس جدید دور میں بھی ذہنی بیماری کو اتنی شدت سے نہیں لے رہے جتنا ہمیں لینا چاہئے۔ اس وقت دماغی عارضوں میں مبتلا صرف ساڑھے بارہ فیصد لوگ ہی صحت یاب ہورہے ہیں۔ ہمیں علاج معالجے کی سہولتوں میں بہتری کی ضرورت ہے اگر ہم علاج معالجے کی سہولتوں کو بہتر بنا لیں تو دماغی عارضوں کی شرح میں نمایاں کمی کی جا سکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ذہنی بیماری سے بہت سے تلخ حقائق وابستہ ہیں۔ پہلی حقیقت یہ ہے کہ ذہنی معذوری تمام طبی معذوریوں سے زیادہ شدید ہوتی ہے۔ کینسر اور دل کی بیماریوں کے برخلاف ذہنی معذوری 30 سال کی عمر سے پہلے شروع ہوجاتی ہے اور انسان کا تمام ابتدائی کیئریئر اس سے متاثر ہوتاہے اور اکثر یہ بیماری جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔ مثلاً خودکشی کو ماہرین نے ذہنی معذوری سے ہی تشبیہہ دیا ہے جس میں شرح اموات سینے کے سرطان یا ایڈز سے بھی زیادہ ہے۔ صرف امریکہ میں سالانہ 40 ہزار سے زیادہ لوگ خود کشی کرلیتے ہیں۔ ایک اور تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ذہنی دباؤ ، نفسیاتی طور پر بھوک کا مرجانا، شیزوفرینیا جیسے دماغی عارضوں پر صدیوں سے تحقیق ہو رہی ہے لیکن کا تاحال کوئی علاج دریافت نہیں ہو سکا۔ جدید ترقی کے اس دور میں ہمارے موجودہ سائنسی آلات تاحال ذہن میں آنے والے خیالات کی رفتار کو پکڑنے میں ناکام رہے ہیں۔ موجودہ دور میں دماغی بیماریوں کے علاج معالجے، اس کیلئے نت نئے سائنسی آلات بنانے میں امریکی ادارے BRAIN کے نیورولوجسٹس، انجینئیرز، کمپیوٹر ماہرین گراں قدر خدمات انجام دے رہے ہیں مگر تاحال انہیں کامیابی نہیں مل سکی ۔

ہمارے دماغی علاج معالجے کے طریقوں میں وقت کے ساتھ ساتھ بڑی انقلابی تبدیلیاں آئی ہیں۔ پہلے ہم نفسیاتی مسائل کوتجزیہ کرکے ان کو حل کرنے کی کوشش کرتے تھے پھر ہم نے اس کو کیمیائی عدم توازن قرار دیا جسے ادویات کی ضرورت ہے اور اب حال ہی میں تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دماغی عارضہ ذہن کا باعث ، برقی اشاروں کی غیرمعمولی سرگرمی ہے جو کہ دل کی دھڑکنوں میں بے قاعدگی سے مشابہہ ہے۔ دماغ کی اس غیر معمولی سرگرمی کو دور کرنے کیلئے ایسے آلات بنائے گئے ہیں جو مقناطیسی قوت سے برقی اشارے بھیجتے ہیں۔ لیکن ایک مشکل یہ ہے کہ ہرکوئی نفسیاتی علاج کے مختلف طریقوں کیلئے استعمال ہونے والی ادویات یا آلات پر ردعمل ظاہر نہیں کرتا۔ ہم ابھی تک نہیں جانتے کس شخص کیلئے کون سا طریقہ علاج بہتر ہے۔ کچھ لوگ دماغی دباؤ کے عارضوں پر نفسیاتی تجزئیے پر ردعمل ظاہر کرتے ہیں ، کچھ افراد کیلئے ادویات استعمال کرنا پڑتی ہیں اور کچھ افراد پر دماغی کی گہرائیوں میں برقی اشاروں کا علاج آزمانا پڑتاہے۔

ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتاہے کہ اتنے کم لوگوں کا علاج کیوں ہو رہاہے۔ دماغی عارضے میں مبتلا لوگوں میں سے آدھے سے بھی کم لوگ علاج کیلئے رجوع کرتے ہیں۔ ان زیر علاج لوگوں میں سے تقریباً نصف کو علاج معالجے کی سہولتیں میسر آتی ہیں۔ اور جنہیں بہتر سہولتیں میسر آتی ہیں ان میں سے آدھے صحتیاب ہوپاتے ہیں۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس کے علاج جدید سائنس کا سہارا لیتے ہوئے اعلی طبی سہولیت فراہم کریں۔

نوٹ: یہ مضمون تھامس انسیل نے تحریر کیا۔ وہ 2002 ء سے امریکہ میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ کا سربراہ رہا ہے تاہم اب اس نے اعلان کیا ہے کہ وہ این آئی ایم ایچ کو چھوڑ کر گوگل لائف سائنسز کا حصہ بننے جارہا ہے۔

تحریر : تھامس انسیل

عکاسی: Andy Friedman

Read in English

Authors
Top