Global Editions

دوگنا توانائی ذخیر کرنے والی، کم قیمت ، وزن میں ہلکی فوم سے بنی بیٹیریاں مارکیٹ میں آنے کو تیار ہیں

اب بیٹیریاں ہلکے وزن اور نئی قسم کے جزب کرنے والےمٹیریل (Porous Material)سے تیار ہوں گی اس سے بنی ہوئی بیٹیریاں جلد توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو بدل کر رکھ دیں گی۔ اگرچہ توانائی کے شعبے میں سالانہ اربوں ڈالر خرچ کئے جارہے ہیں اور نئی اعلیٰ صلاحیتوں کی حامل کمپنیاں قائم کی گئی ہیں لیکن توانائی کے شعبے کو اب بھی بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔اب بھی کم قیمت، طویل مدت تک توانائی ذخیرہ کرنابہت مشکل ہے۔ بہت سے تحقیق کاروں کو امید ہے کہ وہ تھری ڈی بیٹریوں سے یہ مسئلہ حل کرلیں گے۔ گزشتہ کئی ماہ سے نئی کمپنی پرائیٹو بیٹری (Prieto Battery) نے فورٹ کولنز(Fort Collins)میں تھری ڈی بیٹری بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے جو روائتی بیٹریوں کی طرح نہ صرف چارج اور ڈسچارج ہو سکتی ہے بلکہ اس کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ بنانے میں سستی، تیزی سے چارج ہونے ، زیادہ محفوظ، حجم میں چھوٹی اور کم ماحولیاتی آلودگی پھیلانے والی ہوگی۔ اس کے علاوہ وزن میں کم ، قدرے لچکدار اور بے شمارشکلوں میں بنائی جاسکے گی۔ سب سے بڑی خصوصیت یہ ہوگی کہ اس میں توانائی تصور سے بھی زیادہ ذخیرہ کی جاسکے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بیٹری کو بنانے کیلئے دو باتوں کا جاننا ضروری ہے کہ بیٹری کس مٹیریل سے اور کیسے بننی ہے؟ ایسی ہی ایک تجرباتی بیٹری بنانے کیلئے پرائیٹو لیب کی میز پر ایک ڈبے کے آٹھ خانوں میں پانی بھرا ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مختلف کثافتوں پر مشتمل فوم میں لپٹا ہوا کاپر موجود ہے، یہ فوم بیٹری کیلئے خام مواد کا کام دیتاہے۔ جس میں اینوڈ(Anode) لگایا جاتا ہے جو اینٹی مونائیڈ (Antimonide)کاپر سے بنا ہو اہوتا ہے۔ فوم میں جذب کرنے کی بہت صلاحیت ہے اس میں زیادہ تر ہوا ہے۔ لیکن اس کا ایک چھوٹا سا ٹکرا بھی سطح کے بڑے حصے کو ڈھانپ لیتا ہے۔ سطح کے حصے کو بڑھانے سے آئینز(Ions) کا سفری فاصلہ کم ہو جاتاہے۔ جس سے بجلی اور توانائی کی کثافت میں اضافہ ہوتاہے۔ جب فوم پر اینوڈ کی تہہ لگا دی جاتی ہے تو اس میں کثیرسالمی الیکٹرولائیٹ (Polymer Electrolite) بن جاتے ہیں جو آئینز کی حرکت کو محدود کردیتے ہیں۔ تب اس میں کیتھوڈ(Cathode) شامل کیا جاتاہے اور آخر میں بیٹری پر کاغذ کی شیٹ جتنا پتلا فوم رکھا جاتا ہے جو پلاسٹک کی ڈبی میں بند ہوتا ہے۔ پرائیٹو بیٹریاں تیزی سے چارج ہو سکتی ہیں۔ روائتی بیٹریوں سے دوگنا توانائی ان میں ذخیرہ کی جاسکتی ہے نیز اس میںلیتھئیمکے آئنز نہیں ہوتے۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ ایسی بیٹریاں گرم جلد ہو جاتی ہیں۔ انجذابی مٹیریل کو بیٹیروں کیلئے استعمال کرنے کا تصور نیا نہیں ہے۔ بہت سی روئتی بیٹیریوں میں اینوڈ میں فوم استعمال کیا جاتاہے۔ پوری بیٹری کو فوم سے بنانے کا تصور اس وقت شروع ہوا جب 1990 کے آغاز میں تیل کے سیلوں کیلئے نئے عمل انجذاب کے ذریعے کیمیائی تبدیلی مٹیریل (Catalyst Material)پر تحقیق کی گئ۔ 1998میں پرائیٹونے کاربن اور انجذابی مٹیریل سے تھری ڈی بیٹری بنانے کا تصور پیش کیا۔ لکڑی کے گودے سے لچکدار فوم کی بیٹریاں بنانے پر تحقیق کرنے والے میکس حامدی(Max Hamedi)کا کہنا ہے کہ پرائیٹو بیٹری کی ٹیکنالوجی روائتی دو رخی نظام کی بیٹریوں کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ پرائیٹو نے بیٹری بنانے کا کام عام دستیاب اور سستے مٹیریل سے شروع کیا۔ کمپنی نے سب سے پہلے مکمل بیٹری کی بجائے صرف کاپر فوم سے بنے ہوئے اینوڈ متعارف کروائے جو روائتی بیٹری میں گریفائٹ اینوڈ کی جگہ لیںگے۔ پرائیٹو کمپنی 2016میں پہلا اینوڈ متعارف کروائے گی جبکہ 2018میں بیٹری مارکیٹ میں لے آئے گی۔ دوسری کمپنیاں بھی بیٹریوں پر کام کررہی ہیں ۔ سیکٹی تھری (Sakti 3)کمپنی لیتھیئم آئین پر کام کررہی ہے جو حجم میں چھوٹی ہوگی لیکن توانائی روائتی بیٹیریوں جتنا ہی ذخیرہ کرے گی۔ کیلیفورنیا میں قائم سی او(Seeo) کمپنی بھی لیتھئیم میٹل اینوڈ بنا رہی ہے جسے حال ہی میں بوش(Bosch)نے گاڑیوں کی بیٹریوں میں استعمال کیا ہے۔ ان میں سے کوئی بھی کمپنی تھری ڈی فوم بیٹری پر کام نہیں کررہی۔

تحریر: رچرڈ مارٹن Richard Martin

Read in English

Authors

*

Top