Global Editions

دماغ کا حفاظتی نظام ہی اگر بغاوت پر اتر آئے تو کیا ہو گا؟

انسان کے جسم میں دماغ پیچیدہ ترین نظام کا حامل ہے۔ اس میں مکمل حفاظتی نظام موجود ہے جو بیماریوں سے تحفظ دیتا ہے۔ اس حفاظتی نظام کا اولین دستہ مائیکروگلیا(Microglia)سیلز ہیں جس پر تحقیق ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔ ان سیلوں کو ایک عرصہ تک طبی تحقیق میں نظر انداز کیا جاتا رہا لیکن یہ دماغ کے حفاظتی نظام کا اہم ترین حصہ ثابت ہور ہے ہیں ایک تشویش کی بات یہ ہے کہ جب ان سیلوں میں خرابی پیدا ہو جاتی ہے تو یہ بیماریوں سے حفاظت کرنے کی بجائے تباہی کا سبب بننا شروع ہو جاتے ہیں اور انسان مختلف دماغی بیماریوں کا شکار ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ بوسٹن میں ہارورڈ یونیورسٹی میں بچوں کے ہسپتا ل میں لیبارٹری کی سربراہ بیتھ سٹیونز (Beth Stevens)تو بعض اوقات دماغ پر تحقیق کرتے ہوئے انہی مائیکروگلیا (Microglia)سیلز کے بارےمیں سوچتے ہوئے مرنے کی حد تک جنجھلاہٹ کا شکار ہو جاتی تھیں ۔ اپنے کیرئیر کی ابتدا میں جب سٹیونز نے دماغ کے ٹشوز کا جائزہ لینا شروع کیا تو اس نے دیگر نیورومحققین کی طرح مائیکروگلیا (Microglia)سیلوں کو نظر انداز کردیا لیکن آہستہ آہستہ انہیں احساس ہوا کہ وہ غلطی پر ہیں۔ تب انہوں نے اپنی ساری توجہ ان پر مرکوز کردی۔

بیتھ سٹیونز (Beth Stevens)نے دو سال قبل سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ بہترین سائنسی میگزین میں دماغ پر تحقیق پر آرٹیکل لکھے گی۔بیتھ سٹیونز کہتی ہیں کہ مائکروگلیا (Microglia)سیلز نارمل دماغ میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں کو سمجھنے کی کنجی ہیں ۔ یہ دماغ کا حفاظتی نظام ہیںلیکن اگر یہ باغی ہو جائیں تو الزائیمر (Alzheimer)، ہنٹنگٹن(Huntington)، آٹزم(Autism)، شیزوفرینیا(Schizophrenia) اور دیگر دماغی بیماریوں کا سبب بھی یہی بنتے ہیں۔ مائیکروگلیا سیلوں کی ایک بڑی کلاس گلیا(Glia)سے تعلق رکھتے ہیں۔ جو دماغی خلیات کے افعال کو منظم کرتا ہے۔ جو بیماریوں کے خلاف مدافعتی نظام کو چلانے اور دماغ میں ہونے والی تبدیلیوں کی رہنمائی کرتا ہے۔ پنتالیس سالہ بیتھ سٹیونز نے سٹینفورڈ ماہر حیاتیات بین بیرس (Ben Barres)اور دیگر ساتھیوں سمیت مائیکروگلیا پر تحقیق کی۔ انہوں نے اپنی تحقیق میں یہ اہم نشاندہی کی کہ دماغ کی افعال بگڑنے کی وجہ ہمارے اپنے دماغی دفاعی نظام کی خرابی ہوتی ہے۔

جنوری میں سٹیونز ، ہارورڈ اور ایم آئی ٹی کے براڈ انسٹیٹیوٹ کے تحقیق کاروں نے انکشاف کیا کہ مائیکروگلیا (Microglia)اگر بغاوت کر جائیں تو ممکنہ طور پر شیزوفرینیا کی بیماری سمیت دیگر حفاظتی سیلوں کی بڑے پیمانے پر تباہی کا سبب بنتے ہیں۔ اگرچہ تحقیق کاروں نے اس دماغی بیماری کا ابھی علاج دریافت نہیں کیا لیکن وہ اسے ختم کرنے یا اسے کم کرنے کے راستے پر چل پڑے ہیں۔ مارچ میں سٹیونز اور اس کے ساتھی تحقیق کاروں نے اس نتیجے پر پہنچے کہ مائیکروگلیا بگڑنے کی صورت میں الزائمر کی بیماری کا بھی سبب بنتے ہیں۔ یہ تو ابھی آغاز ہے سٹیونز تو مائیکروگلیا (Microglia)کا تعلق دیگر دماغی بیماریوں میں بھی تلاش کررہی ہے۔ اسے گزشتہ سال ستمبر میں اپنے کام کا صلہ میک آرتھر فائونڈیشن کی طرف سے جینئس ایوارڈ 625000ڈالر کی صورت میں ملا۔ مائیکروگلیا سیلوں پر اس تمام کام سے کچھ دلچسپ سوالات پیدا ہوتے ہیںکہ کہیں تمام دماغی بیماریوں کی الگ وسیع علامات کے باوجود ان کا مجرم ایک ہی تو نہیںاور جو ہمارے مدافعتی نظام کا ایک عنصر ہے۔ اگر ایسا ہے توکیا ان عوارض کا علاج ایک ہی طریقے سے ان بدمعاش خلیوں کو روک کر کیا جاسکتا ہے۔
مکمل مشینری

یہ بات حیرت انگیز ہے کہ سائنسدانوں نےکیوں دماغ کے عصبی نظام کو بچانے کی تحقیق کے دوران مائیکروگلیا یا گلیا کی قسم کے خلیات کو ایک عرصہ نظر انداز کئے رکھا۔ مائیکروگلیا سیل نیورانز کے ساتھ اشتراک سے اپنے افعال سرانجام دیتے ہیں ،نیورانز ہمیں سانس لینے، سوچنے اور عمل کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ ہم نیورانز کو استعمال کرتے ہوئے دیکھتے، سنتے اور محسوس کرتے ہیں۔ ایک دوسرے سے ملتے وقت جب یہی نیورانز خود کو مضبوط بناتے ہیں تو ان کی مدد سے ہم یادیں اور معاشرے میں ایک دوسرے سے تعلق قائم کرتے ہیں ۔ دماغی سائنسدان کہتے ہیں کہ نیورانز ہمارے شعور کی تعمیر کرتے ہیں۔
سائنسدانوں کو گلیا سیلوں کے بارے میں 1800ء میں علم ہو ا جب ایک سائنسدان روڈلف ورچو (Rodulf Virchow)نے نیورونز کے درمیاں خوردبینی سیلوں کی نشاندہی کی اور انہیں نروینکٹ (Nervenkitt)یا نیوروگلیا(Neuroglia)کا نام دیا۔ جنہیں ہم خالی جگہ بھرنے والے یا گلُوکا نام دے سکتے ہیں۔دوسری طرف گلیا سیلوں کے بارے میں پرانا تصور یہی تھا کہ یہ نیورانز کو غذا، آکسیجن ، کیمیکلز کے برے اثرات کو ختم کرنے اور گندگی کو صاف کرنےجیسے عمومی فرائض سرانجام دیتے ہیں۔ ان سیلوں کی ایک قسم آسٹروسائیٹس کو 1898ء میں دریافت کیا۔پھر 1920ء میں ہسپانوی سائنسدان پیو ڈیل ریو ہورٹیگا (Pio del Rio Hortiga)نے دماغی خلیوں کو الگ کرنے کا طریقہ کار بنایا۔ جس کی مدد سے انہوں نے گلیا سیلوں کی مزید دو اقسام دریافت کیں جن میں ایک مائیکروگلیا تھے جوسبھی سیلوں سے بہت چھوٹے ہیں۔ یہ اپنی مکڑی کی شکل اور مختلف شاخوں کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب دماغ کو نقصان پہنچتا ہے تو یہ خلئے اس جگہ پر پہنچ کر مردہ یا نقصان زدہ سیلوں کی صفائی کرتے ہیںاور نقصان کو کم سے کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

مائیکروگلیا اور آسٹروسائٹس کو گلیوسس (Gliosis)کا نام دیا گیا۔ بین بارس کہتے ہیں کہ ان کے افعال کا جائزہ لینا بڑا دلچسپ کام ہے۔ ان میں بڑے اسرار چھپے ہوئے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ اچھےہیں یا بُرے؟کیا یہ بیماری میں اضافہ کرتے ہیں یادماغ کے متاثرہ حصے کی مرمت کرتے ہیں۔ بین بارس ان سوالوں کے جوابات کیلئے تحقیق کررہے ہیں۔ وہ جائزہ لے رہے ہیں کہ ان سیلوں کی افزائش کیسے ہوتی ہے۔ ان کے افعال کا جائزہ لینے کیلئے انہوں نے نئی تکنیک اپنائی ہے۔ جس سے وہ ان کی الیکٹریکل خصوصیات کا جائزہ لے سکیں گے۔ اسی تکنیک کے تحت وہ ان کے دیگر سیلوں کو بھیجے گئے مختلف افعال کیلئے بائیو کیمیکل سگنلز کا مشاہدہ کرتے ہیں۔

بارس کہتے ہیں کہ جب میں نے دوسری بار ان گلیال سیلوں کی ریکارڈنگ شروع کی تو میرے منہ سے بے اختیار نکل گیاـ’’ اوہ میرے خدا‘‘ یہ تو بڑے پیچیدہ اور وسیع پیمانے پر برقی اشارے دیتے ہیں۔باریس کا کہنا ہے کہ گلیال سیلوں کے پاس نیورونز سے ابلاغ کرنے کی مکمل مشینری موجود ہے اور دماغ میں مختلف سرگرمیوں پر ردعمل بھی دیتاہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر انہیں نے مردہ سیلوں کی ہی صفائی کرنی ہے تو انہیں اس مشینری کی کیا ضرورت ہے؟ اور اگر ان کے پاس مکمل مشینری موجود ہے تو پھر وہ کیا کام کررہے ہیں؟ یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ اگر گلیا سے سگنل موصول نہ ہو تومتعلقہ نیورون سیل مردہ ہو جاتا ہے دوسرے الفاظ میں وہ خودکشی کرلیتا ہے۔ بارس کی تحقیق کے مطابق آسٹروسائیٹس سیل عصبی خلیوں کے باہمی رابطے کا کام کرتے ہیں ، یہ رابطہ ہماری یادداشت کی نمائندگی کرتا ہے۔ نیورونز انسانی دماغ کی یادداشت تک پہنچنے کیلئے ہدایات تو وضع کرلیتے ہیں لیکن ان کا باہمی رابطہ آسٹروسائیٹس کے بغیر ممکن نہیں۔

بیتھ سٹیونسن نے حادثاتی طور پر گلیا سیل پر تحقیق شروع کی۔ 1993 میں گریجویشن کرنے کے بعدسٹیونز نے ملازمت کی تلاش کیلئے مختلف جگہوں پر درخواست دی۔

چند ماہ بعد انہیں ڈائوگ فیلڈ (Doug Field) کی فون کال موصول ہوئی۔ انہیں اپنی لیب میں نیورانز کی کوٹنگ کیلئے مدد کی ضرورت تھی۔ڈائوگ فیلڈنے مشاہدہ کیا کہ نیورانز کو الگ کرنا الیکٹریکل اشاروں کیلئے ضروری ہے۔ سٹیونز نے مشاہدہ کیا کہ جب نیورانز کو الگ کیا جاتا ہے تو گلیال سیل ان سے رابطہ کرنا شروع کردیتے ہیں۔ سٹیونز نے بین بیرس کی لیب میں مشاہدہ کیا آسٹروسائٹس سیلوں میں جب کیمیائی کمپائونڈ ملایا تو اس نے سی ون کیو(C1q)نامی پروٹین بھی خارج کی۔

ٍٍ روایتی نظریہ تو یہ تھا کہ سی ون کیو پروٹین صرف بیمار افراد میں پیدا ہوتی ہےاور دماغ سے باہر ہمارے مدافعتی خلیات ختم کردیتی ہے۔ لیکن بیرس کو یہ عمل صحت مند دماغ کے اندر بھی ملا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سی ون کیو پروٹین کیا کرتیہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ سی ون کیو پروٹین صرف بیماری کوختم کرنے کیلئے اہم نہیں بلکہ نشوونما کیلئے بھی ضروری ہے۔ جیسے جیسے دماغ کی نشوونما ہوتی ہے نیورانز کو دماغ کے عصبی رابطوں کو مضبوط کرنے کیلئے زیادہ وسیع نیٹ ورک کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن ان کا دائرہ کار ابھی تک نامعلوم ہے کیا سی ون کیو پروٹین غیر ضروری نیورانز کو ختم کرنے میں مدد کرتا ہے۔

سٹیونز اور بیرس نے 2007ء میں اپنی تحقیق شائع کی کہ دماغ کی نشوونما کے دوران سی ون کیو غیر ضروری نیورانز کو ختم کردیتے ہیں۔ اس بات کے شواہد ملے ہیں کہ دماغی بیماریوں پارکنسن، الزائیمراور ہنٹنگٹن میں دماغی عصبیوں سے رابطہ ختم ہو جاتا ہے۔ اس سلسلے میں سٹیونز اور بیرنز نے چوہوں کے دماغ پر تجربہ کیا تو معلوم ہوا کہ دماغی بیماری پیدا ہونے کے بعد اس کے پھیلنے اور سیلوں کے مرنےسے پہلے ہی سی ون کیوحرکت میں آتے ہیں اور بیماری کا سبب بننے والے کچرے کی صفائی کر جاتے ہیں۔ لیکن یہی سی ون کیو بیماری میں اضافے کا سبب بھی بن سکتا ہے اگر وہ کچرا صاف کرنے کا اپنا فرض ادا نہ کرے۔

اب سائنسدانوں کو ایک نئی پہیلی کا سامنا ہے۔ اسی طریقہ کار کو ایک نشوونما پانے والے دماغ پر آزمایا گیا۔ بیرس کے مطابق سی ون کیوبیماری کے راستے مسدود کرسکتا ہے۔ بیرس کو اپنی مدد کیلئے اینیکسن بائیوسائنس کی کمپنی بھی مل گئی جس نے دوائی بنائی ہے کہ اگر سی ون کیوکام کرنا چھوڑ دے تو اسے دوبارہ فعال کیا جاسکے۔ مارچ میں شائع ہونے والے پیپر میں بیرس اور تحقیق کاروں نے بتایا کہ انیکسن کے بنائے ہوئے کمپائونڈ نے چوہے میں الزئیمر بیماری کو روکنے کیلئے بہتر نتائج ظاہر کئے۔ اب وہ اگلے دو سال میں اس دوائی کو انسانوں پر آزمائیں گے۔

علاج کا طریقہ

یہ طے شدہ بات ہے کہ جسم میں موجود سفید خلئے (White Cell)جنہیں مائیکروفیگس بھی کہا جاتا ہے،بیمار خلیوں کو کھا جاتے ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ مائیکروفیگس دماغ میں نہیں ہوتے تاہم دماغ میں ان کا کام مائیکروگلیا کرتے ہیں۔ اب سٹیونز نے اپنا نصف وقت مائیکروگلیا کی سرگرمیوں پر توجہ مرکوز کرنے کیلئے وقف کردیا ہے۔ یہی وہ سیلز ہیں جو دماغ کی نشو ونما اور اس کو بیماریوں سے بچائو کیلئے کام کرتے ہیں۔

اس دوران سٹیونز نے اپنی نصف توجہ دماغ میںموجود دیگر مادوں کی کارکردگی پر مرکوز کردی۔ سٹیونز کہتی ہیں کہ دماغ میں حفاظتی مالیکیولز کی قسم بھی پائی جاتی ہے۔ جو مائیکروگلیا کے منفی کام کرنے کے صورت میں توازن پیدا کرتے ہیں۔ اس بات کے ثبوت پائے جاتے ہیں کہ مائیکروگلیا کے بگڑنے کی صورت میں یہ بہت سے دماغی اور نفسیاتی مسائل کا سبب بنتے ہیں۔ میکارل کہتے ہیں کہ شیزو فرینیا عموماً نوجوانی کے آغاز میں ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا باغی مائیکروگلیا سیل شیزوفرینیا کا سبب بنتے ہیں؟ یہ جاننے کیلئے سیکر اور میکارل تحقیق میں معلومات شئیر کرنے کیلئے سٹیونز سے رابطہ کرتے رہتے ہیں۔

انہوں نے تحقیق کی کہ سی فور (C4)نامی سیل اضافی نیورانز کی صفائی کرتا ہے ۔ اس تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ سیلوں سے اگر پروٹین زیادہ خارج ہو تو سی فور پرصفائی کا کام بڑھ جاتاہے۔زیادہ پروٹین کا اخراج دماغ کے ٹشوز کو کمزور کرتا ہے۔پارکنسن اور الزئیمر کے مریضوں کا دماغ ڈھلتی عمر میںوقت کے ساتھ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے ۔ اس کی علامات بہت بعدمیں ظاہر ہوتی ہیں۔ بیرس کہتے ہیں کہ دماغ عام طور پر متاثرہ حصوں کی کمی نئے نیورانز پیدا کرکے پوری کردیتا ہے ۔لیکن اس سے پروٹین کی رطوبت زیادہ خارج ہوتی ہے اسی لئے بہت بعد میں جاکر پارکنسن اور الزائیمر کی علامات ظاہر ہونا شروع ہوتی ہیں۔ پارکنسن اور الزائیمر کی بیماریوں سے اخذ کردہ نتائج کو علاج میں بدلنا ابھی بہت دور کی بات ہے۔ سٹیونز یہ بھی کہتی ہیں کہ شیزو فرینیا کی بیماری کسی ایک مائیکروگلیا کے سیل کی خرابی کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ ان سیلوں کی کالونیاں شیزوفرینیا کا سبب بنتی ہیں۔

اگر یہ کہنا درست ہے کہ ہمارے حفاظتی نظام میں ہی تباہ کن خصوصیات پوشیدہ ہیں تو یہ ایک چونکا دینے والا انکشاف ہوگا۔ ہمیں ابھی یہ پتہ نہیں ہے کہ کس مکینزم کی خرابی نے بیماری پیدا کی۔ محققین ابھی صرف بیماری کی علامات کا پتہ چلانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ الزائیمر جیسی دماغی بیماریوں کو روکنے یا ان کے اثرات کم کرے کی ابھی کوئی دوا نہیں بنائی جاسکی۔کچھ دوائیں ایسی ہیں جو مریض کو وقتی طور تو فائدہ پہنچا دیتی ہیں لیکن ان سے بھی بیماری کے اثرات کم نہیں ہوتے دماغ میں سیلوں کی تباہی کی شرح کو روکتی ہیں۔ سٹیونز کہتی ہیں کہ ہم دوا بنانے میں کامیاب نہیں ہوئے لیکن اسے بنانے کے راستے پر گامزن ہیں۔

glia34

Read in English

Authors

*

Top