Global Editions

دماغی خلیوں میں تبدیلی سے بڑھتی عمر پر قابو پایا جا سکتا ہے، نئی تحقیق

ہمارے دماغی خلیے عمر کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں یہ بدلائو کارکردگی اور ہیت کے اعتبار سے بھی ہو سکتا ہے کیونکہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ کئی جینز زیادہ یا کم موثر ہوتے رہتےہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ جھلی جو خلیوں کے نیوکلیس کو جوڑے رکھتی ہے اس کی کارکردگی بھی عمر کے ساتھ ساتھ کم ہونے لگتی ہے، مالیکیولز اور توانا خلیے بھی ایک دوسرے الگ ہو کر بکھر یا غیر منظم ہو جاتے ہیں۔ اب سائنس دانوں کو عام جلد کے خلیوں کو انسانی نیوران کے ساتھ تبدیل کرنے کا راستہ مل گیا ہے اور شائد وقت کے اثرات کو ختم کرنا ممکن ہو جائے۔ ماضی میں سائنس دان بڑھتی عمر پر قابو پانے کے لئے سٹیم سیل (وہ خلیہ جس میں سے خصوصی خلیے ابھرتے ہیں) ٹیکنالوجی کی مدد سے نیوران تیار کرتے تھے تاہم ان کوششوں کے نتیجے میں صرف ایمبریونک نیوران (Embryonic Neurons) ہی دستیاب ہوتے تھے۔ تاہم اب سالک انسٹی ٹیوٹ فار بائیولوجیکل سٹیڈیز کے جیروم مارٹن (Jerome Mertens) اور ان کی ٹیم نے مختلف عمر کے لوگوں کی جلد کے خلیے رضاکارانہ طور پر حاصل کر کےانہیں نیورونز میں تبدیل کیا جس کی مدد سے بڑھتی عمر کے اثرات پر قابو پانا ممکن ہو سکے گا۔ اس تکینک نے بڑھتی عمر کے حوالے سے اثرات اور ان اثرات کو دور کرنے کے حوالے سے طویل عرصے سے جاری مطالعے کو ایک نئی سمت دی ہے اور اس تکنیک کی مدد سے نہ صرف بڑھتی عمر کے اثرات کو روکا جا سکتا ہے بلکہ کئی طرح کے امراض کا علاج بھی ممکن ہو سکتا ہے۔ جن میں جلدی امراض بھی شامل ہیں۔ اب امید کی جا سکتی ہے کہ بڑھتی عمر کو روکنے کے لئے دوا کی تیاری ممکن ہے جسے آج سے پہلے ناممکن قرار دیا جاتا تھا۔ یونیورسٹی آٖف پینسلوانیا کے شعبہ ری جنریٹو میڈیسن کے ڈائریکٹر جان گئیرہارٹ (John Gearhart) کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کے نتائج یقینناً اہم ہیں۔ اس تحقیق کے نتائج سے نہ صرف بڑھتی عمر کے حوالے سے جاری تحقیق کو مزید آگے بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے بلکہ پرانے خلیوں کو نئے خلیوں سے بدلنے یا جسم کے کسی متاثر عضو کو تبدیل کرنے کے حوالے سے بھی جاری تحقیق میں بھی مدد ملےگی۔ گئیر ہارٹ کا مزید کہنا تھا کہ اس تحقیق نے ایک اور سوال کو جنم دیا ہے کہ کس طرح جلد کےخلیات پر مبنی نیورون دماغی خلیوں کے نیورون سے مختلف نہ بھی ہوں تو کیا وہ انسانی دماغ میں نارمل انداز کے تحت پرورش پا سکتے ہیں۔ اس سوال کا جواب تو مزید تحقیق سے ہی مل سکتا ہے۔

تحریر: فائی فالم (Faye Flam)

Read in English

Authors

*

Top