Global Editions

دل کی دھڑکن اور نبض کی رفتار دیکھیں، سمارٹ فون سے

اگر آپ بلڈ پریشر یعنی فشار خون کا شکار ہیں تو آپ کو اپنے جسم میں دوڑنے والے خون کی شرح سے آگاہ رہنا بہت ضروری ہے کیونکہ آگاہ نہ رہنے کی صورت میں بیماری کے بڑھنے، امراض قلب میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہے اور یہ بیماری جان لیوا بھی ہو سکتی ہے اگرچہ ایسی بہت سی ایپلی کیشنز موجود ہیں جنہیں سمارٹ فون میں انسٹال کرکے آپ بلڈ پریشر جان سکتے ہیں لیکن وہ درست نہیں ہیں۔ لیکن اب جسم میں دوڑنے والے خون کی شرح سائنسی اور طبی طور پر جاننا زیادہ دور کی بات نہیں۔ ایم آئی ٹی کے تحقیق کاروں نے ایسے پراجیکٹ پر کام کیا ہے جسے بائیو فون(Biophone) کا نام دیا گیا ہے۔ اس تحقیق کے ذریعے سمارٹ فون میں موجود (accelerometer) ایکسلیرومیٹر کے ذریعے جسم کی معمولی حرکات کے تحت دل کی دھڑکن میں ہونے والی تبدیلیوں کر ریکارڈ کرتا ہے یہ سانس کی آمدورفت کا جائزہ چھاتی کے اتار چڑھائو سے لیتا ہے اور اس کو بھی ریکارڈ کرتا ہے۔ اس تحقیق پر ورکنگ پیپر اگست میں ہونے والی ایک کانفرنس میں پیش کیا گیا تھا۔ ایم آئی ٹی (MIT) میڈیا لیب کے تحقیق کار اور اس پیپر کے راقم جاوئیر ہرناندیز (Javier Hernandez) کا کہنا ہے کہ یہ ڈیوائس اس وقت جسم میں ہونے والی تبدیلیوں کو ریکارڈ کرتی ہے جب جسم آرام کی حالت میں ہو یا بہت کم حرکت کر رہا ہو کیونکہ بہت زیادہ حرکت پزیری میں تمام اعضا اور ان کے ذریعے ہونے والی تبدیلیوں کو مانیٹر کرنا مشکل امر ہے یہ ڈیوائس اس وقت بھی کام جاری رکھ سکتی ہے جب فون آپ کے بیگ میں ہو۔ انہوں نے بتایا حاصل ہونے والے ڈیٹا کی مدد سے آپ کو صورتحال سے عہدہ برا ہونے کے لئے مدد مل سکتی ہےسمارٹ فون آپ کو تجویز کر سکتا ہے کہ آپ کو سانس کی مشقیں کرنا چاہیں یا کسی چاہنے والے سے فون پر بات کریں اور خود کو اعتدال پر لائیں۔ بائیو فون کی افادیت جانچنے کے لئے درجن بھر خواتین و حضرات کی خدمات حاصل کی گئیں اور ان میں چند کو کھڑا کیا گیا، چند کو بٹھایا اور چند کو لٹایا گیا اور بائیو فون کی مدد سے ان کا ڈیٹا حاصل کیا گیا بعد ازاں انہیں ایکسرسائز بائیک چلانے کا بھی کہا گیا اور ایسی حالت میں انہیں ہدایت کی گئی کہ وہ بائیو فون اپنی جیب میں رکھیں۔ اس سٹڈی میں ایف ڈی اے سے منظور شدہ سینسر استعمال کئے گئےتاکہ سمارٹ فون کے ذریعے حاصل ہونے والے ڈیٹا قابل اعتماد ہو۔ حاصل شدہ معلومات کے جائزہ سے معلوم ہوا کہ شرکا کے دل کی دھڑکن کی شرح نسبتاً معمولی زیادہ تھی۔ تاہم ایمل جوانوف(Emil Jovanov) جو یونیورسٹی آف الباما کے ایسویس ایٹ پروفیسر بھی ہیں کا کہنا تھا کہ خون کی رفتار کی شرح میں ریکارڈ کیا جانے والا معمولی اضافہ سمارٹ فون کے سگنلز کے شور کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے ان کا مزید کہنا تھا کہ اس تحقیق کے لئے استعمال ہونے والے سینسر بہت اچھے میعار کے تھے تاہم ایسی حساس معلومات کو ریکارڈ کرنے کےلئے اس سے بھی اچھے سینسرز کی ضرورت ہے۔ اس تحقیق کے روح رواں ہرناندیز (Hernandez) کا کہنا تھا کہ ابھی بہت سے چیلنجز سے عہدہ برآ ہونا باقی ہے جیسے اگر فون پتلون کی پچھلی جیب میں ہو، ٹی شرٹ کی سامنے والی جیب میں یا پرس میں تو معلومات کیسے حاصل کی جائیں گی۔مختصر یہ کہ آپ کا سمارٹ فون دل سے جتنا دور ہو گا اتنا ہی درست معلومات حاصل کرنا مشکل ہوگا۔

Rachel Metz تحریر: ریچل میٹز

Read in English

Authors
Top