Global Editions

خود کار دستانے معذوروں کی مدد کریں گے

ایسے لوگ جو کسی حادثے، اعصابی کمزوری، متاثرہ ریڑھ کی ہڈی یا اے ایل ایس بیماری کے سبب اپنے ہاتھوں کو حرکت دے کر کسی شے کو گرفت میں نہیں لے پاتے ان کے لئے یہ صوتحال بڑی تکلیف دہ ہوتی ہے لیکن ان کی پریشانی اور تکلیف ختم ہونے کو ہے۔ امریکہ میں ہارورڈ کے انجینئروں نے ایسے ہلکے ، نرم اور خودکار دستانے متعارف کروائے ہیں جو ان مریضوں کی مدد کریں گے۔ یہ دستانے پہن کر وہ معذور افراد، جو ہاتھ کو بہت کم حرکت دے پاتے ہیں،ہلکی پھلکی اشیا کو آسانی سے پکڑ کر اٹھا سکتے ہیں۔ یہ دستانے امریکہ میں 60لاکھ 80ہزار افراد کی زندگی آسان بنا سکتے ہیں جنہیں اپنے ہاتھوں کو کم یا زیادہ حرکت دینے میں مشکل یا تکلیف کا سامنا ہے۔ ان دستانوں کو متاثرہ ریڑھ کی ہڈی والے، اے ایل ایس کا شکار، اعصابی کمزوری میں مبتلااور کسی شدید ضرب کی وجہ سے اپنے ہاتھوں کو آزادانہ حرکت نہ دے سکنے والے افراد پر ٹیسٹ کیا گیا ہے۔ ہارورڈ میں ویس انسٹیٹیوٹ فار بائیولوجیکل انسپائرڈ انجینئرنگ(Wyss Institute for Biological Inspired Engineering)کے پروفیسر کونر والش (Conor Walsh)کہتے ہیں کہ ان دستانوں کو بنانے کا مقصد ایسے لوگوں کی مدد کرنا ہے جو کسی وجہ سے اشیاء کو پکڑنے کی اہلیت کھو بیٹھے ہیں۔ اس منصوبے کی سربراہی والش کی لیبارٹری میں کام کرنے والے پینا جیوٹس پولی جیرینوس(Panagiotis Polygerinos) کر رہے ہیں۔ والش کے خیال میں تین سال کے اندر خودکار دستانے طبی سطح پر مریضوں کو استعمال کروانے کے قابل ہوجائیں گے۔

ویسے تو سخت ڈھانچے والے روبوٹ معاوناتی ٹیکنالوجی کے آلات سے ورزشیں کروا کر ان مریضوں کی مدد کر رہے ہیں۔ ان کی سختی مریضوں کو ناگوار احساس دیتی ہے لیکن نرم خودکار دستانے مریض کے جوڑوں کو حرکت میں مزید لچک پیدا کرتے ہیں اور انہیں پہنیں تویہ انسانی جلد کے نرم ٹشوز کی طرح محسوس ہوتے ہیں۔ فی الحال تو یہ تجرباتی طور پر کلینک میں استعمال ہورہے ہیں لیکن بہت جلد انہیں گھر بھی لے جایا جاسکے گا۔

ہاتھ اور بازو کیلئے معاوناتی آلات بنانے والی کمپنی میومو(Myomo)کے صدر اور سی او او سٹیو کیلی (Steve Kelly)کی رائے ہے کہ دستانے مریضوں کو یہ اطمینان دے سکتے ہیں کہ وہ روزمرہ زندگی کے چھوٹے چھوٹے کام خود کرسکتے ہیں۔ دستانے پہننے سے انگلیوں کو با آسانی موڑا جاسکتا ہے اور انگوٹھے کو حرکت دی جاسکتی ہے۔ دستانے ایک وقت میں ایک کام کرنے کیلئے بنائے گئے ہیں۔ دستانے کی انگلیاں سلی کون سے بنے چھوٹے غباروں اور ربر سے بنائی گئی ہیں۔ اس کے اندر کی طرف پیلے رنگ کے نرم ریشوں کی طرح کے پٹیوں کی لائنیں ہیں۔ جب پانی دستانوں میں منسلک تھیلی کے ذریعے داخل کیا جاتا ہے تو فائبر کے غبارے پھول جاتے ہیں جس سے انگلیوں کو موڑنے میں آسانی ہوتی ہے۔ مثلاً انگلیوں کی پوروں پر چھوٹے فائبر سے بنے پانی کے غبارے ہوتے ہیں جو انگلیوں کو مڑنے میں مدد دیتے ہیں۔ دستانوں کے ساتھ کلائی پر باندھنے کیلئے ایک چوڑی پٹی لگائی گئی ہے جس میں بیٹری، کنٹرولرز، سینسرز، پانی اندر داخل کرنے کیلئے پمپ لگا ہوتاہے۔
دستانے کے باہر کی طرف ریشوں کی طرح کا مصنوعی کیمیکل مرکب نیوپرین(Neoprene)لگایا گیا ہے۔دستانے کی انگلیوں پر واضح ربر کے دائرے بنے ہوئے ہیں جو کسی شے پر گرفت مضبوط کرتے ہیں۔ پولی جیرنوس بتاتے ہیں کہ میں نے اپنا ہاتھ دستانے میں ڈالا تو اس نے حرکت کرنا شروع کردی اس میں موجود موٹر کی ہلکی سی آواز آنا شروع ہو گئی اور میری انگلیاں کسی کوشش کے بغیر کسی شے کو گرفت میں لینے کیلئے مڑ گئیں۔ یوں محسوس ہوا جیسے کسی کا ہاتھ میرے ہاتھ کے نیچے ہے اور کوئی طاقت میری انگلیوں کو موڑ رہی تھی۔ دستانہ میرے ہاتھ میں بڑا تھا لیکن پھر بھی آرام دہ تھا۔
والش نے بتایا کہ اس کا کلیہ بہت سادہ ہے کیونکہ آپ جو کچھ بھی کرتے ہو ایک دبائو کے تحت انجام پاتا ہے۔ ایم آئی ٹی کے پروفیسر نیویلے ہوگن (Nevelle Hogan)کہتے ہیں کہ اگرچہ ان دستانوں سے حرکت محدود ہے لیکن یہ حرکت ہی اہم ہے بہت سے مریضوں کو اس سے مدد ملے گی۔ نیویلے ہوگن صدمے کے مریضوں کیلئے معاوناتی آلات بناتے ہیں۔ اعصابی مریضوں کے اعصاب کی کمزوری کا شکار ہوجاتے ہیں ان کے ہاتھ پہلے ہی بیماری کی وجہ سے بند ہو جاتے ہیں اور وہ اشیاء پر گرفت کھو بیٹھتے ہیں۔ انہیں اپنا ہاتھ کھولنے میں خاصی دقت کا سامنا ہوتا ہے۔ ٹیم کا کہنا ہے کہ دستانے میں اتنی طاقت نہیں کہ وہ بند ہاتھ کو کھول سکے لیکن انہیں امید ہے کہ مستقبل میں دستانے کی مددسے وہ ہاتھ کو کھولنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اس کے ساتھ ہی وہ دستانے کو مزید ہلکا کرن چاہتے ہیں۔ دستانے کا وزن تو دس اونس کا ہے لیکن اس کے ساتھ جڑی بیٹری، کنٹرولرز، سینسرز، پمپ، اور پانی کا وزن قریباً سات پائونڈ ہے۔

دستانے پر ایک سوئچ لگا ہوتا ہے جسے آن کرکے یا پھر آواز کی مدد سے دستانے کو حرکت دی جاتی ہے۔ اس سے اگلاقدم ایک ایسا دستانہ بنانا ہے جو اس وقت حرکت کرے جب مریض کے بازو کے اعصاب سے حرکت کے اشارے موصول ہوں۔

تحریر: آنا نووگروزکی (Anna Nowogrodzki)

Read in English

Authors
Top