Global Editions

خودکار گاڑیوں کو ’’ڈرائیور‘‘ تسلیم کر لیا گیا

خودکار گاڑیوں کے سڑکوں پر آنے میں ایک بڑی رکاوٹ دور ہو گئی ہے۔ معروف کمپنی گوگل کی جانب سے تیار کی جانیوالی بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑی کو امریکی وفاقی نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن (NHTSA) کو بطور ’’ڈرائیور‘‘ تسلیم کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ امریکی وفاقی ادارے کی جانب سے گوگل انتظامیہ کو ایک خط تحریر کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے وہ گوگل کی جانب سے تیار کی جانیوالی بغیر ڈرائیور کے گاڑی کو بطور ’’ڈرائیور‘‘ تسلیم کرنے پر غور کرینگے۔ وفاقی ادارے کے اس اعلان کے بعد خودکار گاڑیاں کے سڑکوں پر لانے کی راہ میں حائل اہم رکاوٹ دور ہونے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔ یاد رہے کہ اسی حوالے سے گوگل کی ایسی ہی کوشش اس وقت ناکام ہو گئی تھی جب ان کی تیار کی گئی خودکار گاڑی جو سٹیئرنگ ویل اور پیڈلز کے بغیر تھی اس کو کیلیفورنیا کےریگولیٹرز نے منظوری دینے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا کہ گاڑی میں سٹئیرنگ ویل پر ایک ڈرائیور کا ہونا ضروری ہے جو کسی بھی ہنگامی صورتحال میں گاڑی کا کنٹرول فوری طور پر سنبھال سکے۔ تاہم اب وفاقی ادارے نے گوگل کے خودکار گاڑیوں کے منصوبے کے سربراہ کرس ارمسن (Chirs Urmson) کے نام تحریر کئے گئے خط میں کہا ہے کہ ’’ اگر گاڑی میں کوئی ڈرائیور موجود نہیں تو زیادہ بہتر یہ ہو سکتا ہے کہ گاڑی کو ہی ڈرائیور تسلیم کر لیا جائے۔ ہم گوگل کی جانب سے خودکار گاڑیوں کی تیاری سے متفق ہیں۔ تاہم نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن خودکار گاڑیوں سے متعلق حفاظتی انتظامات کو نظر انداز نہیں کر سکتا‘‘۔ اس فیصلے کے بعد اب نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن ریاستوں کو ایسی گاڑیوں کے لئے فریم ورک تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیگا اور اس ضمن میں مناسب گائیڈلائنز بھی جاری کریگا۔ اسی حوالے سے نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن کے ایڈمنسٹریٹر مارک روزکائینڈ (Mark Rosekind) نے ایم آئی ٹی کا دورہ بھی کیا اور خودکار گاڑیوں کے سڑکوں پر آنے کے ممکنہ مضمرات پر تبادلہ خیال کیا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ مارک روزکائینڈ نے اس حوالے سے ٹیکنالوجی کو کم اہمیت دی اور انسانی پہلوئوں اور قواعد و ضوابط پر زیادہ بحث کی اور اس انفراسٹرکچر پر بات کی جس کی مدد سے ان گاڑیوں کو سڑکوں پر لانا چاہیے۔

تحریر: ول نائیٹ (Will Knight)

Read in English

Authors
Top