Global Editions

خودکار نظام کے کنارے پر

سٹیو جرویٹسنSteve Jurvetson) سرمایہ کار کمپنی ڈریپر فشر جرویٹسن (Draper Fisher Jurvetson) کے بانی اور سپیس ایکس، ٹیسلا موٹرز (Tesla Motors) کمپنیوں کے مینجنگ بورڈ کے رکن ہیں۔ وہ مختلف کاروباروں میں اشتراک اور حصہ داری میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ وہ ایلون مسکElon Musk) کے منصوبوںکے بڑے حامی ہیں۔ انہوں نے ٹیسلا کی پہلی گاڑی ماڈل ایس میں سرمایہ کاری کی ہی۔ وہ ہاٹ میلHotmail) کے بانی سرمایہ کار، مائیکروسوفٹ آئوٹ لُک (Microsoft Outlook) کے ابتدائی سرمایہ کار اور کریگ وینٹر سنتھیٹک جینومکسCraig Venter Synthetic Genomics)کے رکن ہیں۔وہ اپنا زیادہ تر وقت مستقبل کے بارے میں سوچنے میں گزارتے ہیں۔ ان کا قول ہے کہ آئندہ پانچ سو سال کے دوران خود کار نظام میں رہتے ہوئے صرف 10 فیصد لوگ کام کر رہے ہوںگے باقی مزے کریں گے یا آرام۔

جرویٹسن کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ان کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی ہے جس نے پانچ سالوں میں 20 ہزار ملازمتیں پیدا کی ہیں اور ایک درجن کمپنیوںکو ان کے قیام کے پہلے ہی سال ایک ارب ڈالر کی مالیت پر پہنچا دیا۔ بزنس رپورٹس کی ایڈیٹر نانیٹے بائرنز (Nanette Byrnes) نے جرویٹسن سے مستقبل کی زندگی سے متعلق انٹرویو کیا تو انہوں نے کہا کہ 500 سالوں میں 90 فیصد لوگ خودکار نظام میں آکر بے روزگار ہوجائیں گے ،ہم تیزی سے بدلتے ہوئے اس مستقبل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

سوال: کیا ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی ترقی سے ملازمتیں پیدا ہورہی ہیں یا ختم ہورہی ہیں؟
سٹیو جرویٹسن : میرے خیال میں اس سے نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی۔ صرف اُبر کمپنی سے پیدا ہونے والی ملازمتوں کے بارے میں ہی سوچ لیں۔یہ خدمات سے متعلق معیشت کا ایک رخ ہی۔ ہم نے خدمات سے متعلق معیشت سے پوری طرح فائدہ نہیں اٹھایا جبکہ خدمات کی معاشی سرگرمیاں اشیاء کی معیشت سے زیادہ بڑا حجم رکھتی ہیں۔لہٰذا آن لائن خدمات کی فراہمی کی مارکیٹ اشیاء سے زیادہ بڑی ہونی چاہئی۔

سوال: آئندہ کون سی ملازمتیں باقی بچیں گی؟
سٹیو جرویٹسن : اب سے 500 سال بعد تک ہر کوئی معلومات کے حصول اور تفریح میں مصروف ہوگا۔ کوئی بھی شخص ان 500 سالوں میں زندہ رہنے کیلئے بار بار کرنے والے کام نہیں کرے گا۔ کھیتوں میں کسان نہیں مشینیں ہوگی، صنعتوں میں کارکن نہیں روبوٹس ہوںگی۔ میرے خیال میں لوگ کام صرف تفریح کیلئے کیا کریں گی۔ ممکن ہے کہ آپ کے گھر کے صحن میں نامیاتی باغ (Organic Garden) ہو جس میں آپ محض تفریحی طور پر کام کریں۔

سوال: یہ تصور کرنا بہت مشکل ہے کہ تب زندگی کیسی ہوگی؟
سٹیو جرویٹسن : یہ سوال بہت اہم ہے کہ مستقبل میں وہ زندگی کیسی ہوگی جو محکومی یا غلامی کے ہولناک تصور سے پاک ہوگی۔ ملازمت کاتصور تو ابھی حال ہی میں پیدا ہوا ہی۔ اگر چند سو سال ماضی میں جائیں تو ہر کوئی یا تو غلام تھا یا مالک یا پھر غلام اور مالک کی زندگی سے باہر رہ کر سائنس، فلسفہ یا آرٹ کی ترقی کیلئے کام کررہاتھا۔ ہم بھی جلد انسانوں کو روبوٹ بنانے کے عمل سے چھٹکارا حاصل کرکے ارسطو، افلاطون یا نیوٹن پیدا کریں گی۔اس وقت تک ہماری حالت کام میں مصروف رہ کر بہت قابل رحم رہے گی۔ میں اس بات پر رو رہا ہوں کہ سلیکون ویلی میں ہمارے سرمایہ کار کتنی معمولی باتوں پر سرمایہ کاری کررہے ہیں کسی قسم کی تاریخ کی کتابیں نہیں لکھی جارہیںلیکن پیسہ کمانے کے بہت سے آسان طریقے ضرور ہیں۔ میرے خیال میں سرمایہ کاروں کو نئی تحقیق پر سرمایہ کاری کرنی چاہئی۔ بہت سے لوگ اس میں ناکام ہوں گے لیکن جو کامیاب ہوں گے وہ دنیا بدل دیں گے۔

تحریر:نانیٹے بائرنز

Authors
Top