Global Editions

خلائی سفر کے شوقین افراد کے لئےخوشخبری ، خلائی سفر سو گنا سستا

خلائی سفر کے شوقین افراد کے لئےسائسندانوں کی ایک نئی کامیابی نے آسانی پیدا کر دی ہے جس کے بعد اب خلائی سفر انتہائی سستا ہو جائے گا ،قبل ازیں خلا میں بھیجے گئے راکٹ اپنے سفر کے آدھے راستےمیں ہی تباہ ہو جاتے ہیں لیکن نئی کامیابی کے بعداب انہیں راستے میں فیول فراہم کرکے اگلی منزل کیلئے تیار کیا جاسکے گا۔ جس سے خلائی پروازوں کے ایک نئےمرحلےکاآغازہو گیا ہے۔ سائنسدان شروع ہی سے اس بات کی کوشش میں رہے ہیں کہ کسی طرح خلا میں بھیجے جانے والے راکٹس کو دوبارہ قابل استعمال بنایا جاسکے تاکہ خلا میں دوبارہ سفر کیلئے اٹھنے والے کروڑوں ڈالر کے اخراجات، وقت اور راکٹ کی تیاری کے مختلف مراحل سے بچا جاسکے۔اب تک ہزاروں کی تعداد میں راکٹ خلا میں بھیجے گئے ہیں لیکن 2015ء سے قبل ان میں سے کوئی راکٹ بھی واپس نہیں آیا۔

اگر راکٹ ایسے ہی واپس آئیں اور ان میں فیول بھر کر اگلے خلائی منزل کی طرف دوبارہ بھیج دیا جائے تو خلائی سفر سو گنا زیادہ سستا ہو جائے گا۔ اس راکٹ کی واپسی ایسے ہی ہو گی کہ جیسے کسی فلم کو پیچھے کی طرف چلا دیا گیا ہو۔ خوش خبری یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کے دو ارب پتیوں نے یہ کام کر دکھایا ہے۔ جیف بیزوس (Jeff Bezosکی کمپنی بلیو اوریجن (Blue Origin)کا راکٹ گزشتہ نومبر میں واپس آیا جبکہ ایلون مسک(Elon Musk)کے راکٹ سپیس ایکس (Space X)نے یہ کام دسمبر میں کیا۔ دونوں کمپنیاں مختلف ہیں۔ بلیو اوریجن کو امید ہے کہ وہ سیاحوں کو چار منٹ کے خلائی سفر پر لے جاسکے گی۔ جبکہ سپیس ایکس پہلے ہی سیٹلائیٹس اور سپیس سٹیشن سپلائی مشن بھیج چکی ہے۔ لیکن دونوں کمپنیوں کو دوبارہ قابل استعمال راکٹس کی ضرورت ہے تاکہ وہ خلائی سفر کے اخراجات کو کم کرسکیں۔

خلا میں چیزوں کو تباہ کرنا بہت مہنگا پڑتا ہے کیونکہ راکٹ بنانے پر کروڑوں ڈالر صرف ہوتے ہیں اور خلا میں وہ ایک بار ہی پرواز کرتے ہیں۔ سپیس ایکس اور بلیو اوریجن اگرچہ اپنے راکٹ واپس زمین پر لانے میں کامیاب ہو گئی ہیں لیکن اس کیلئے انہیں ایک ایسا سوفٹ وئیر چاہئے ہوتا ہے جو خلا میں جاتے راکٹ کو واپس لانے والے انجن چلا سکیں اور زمین پر اترنے کیلئے راکٹ کی رفتار کو آہست ہ کرنے والے پر وں کو توانائی دے سکیں۔ اس سلسلے میں سپیس ایکس کا کام زیادہ مشکل ہے کیونکہ بلیو اوریجن کا راکٹ عمودی اڑان بھرتا ہے۔ جبکہ سپیس ایکس کا راکٹ افقی اڑان لیتا ہے۔ یقیناً اب مستقبل کے خلائی سفر چالیس سال پہلے کے اپالو دور سے زیادہ دلچسپ ہوں گے۔

تحریر: برائن بورگ سٹین (Brian Bergstein)

ma16-10rockets-6 ma16-10rockets-1 ma16-10rockets-2 ma16-10rockets-4

Read in English

Authors

*

Top