Global Editions

حشرات الارض جیسے ڈرون

ڈرونز افادیت کے اعتبار سے ایسی ایجاد ہے جس کا ثانی نہیں ۔ اسے جنگی مقاصد کے لئے اس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے کہ میزائل برسا کر دشمنوں کو نیست و نابود کر دیا جائے، اسے فصلوں اور صنعتی علاقوں کی نگرانی کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ حال ہی میں ڈرونز کو تعمیراتی مقام پر مزدوروں اور کام کی نگرانی کے لئے بھی استعمال کیا گیا۔ ڈرون انڈسٹری کے اس پھیلائو کے پیش نظر ڈرونز ٹیکنالوجی کے استعمال کی نہ صرف نئی جہتیں سامنے آ رہی ہیں بلکہ انہیں مزید موثر بنایا جا رہا ہے۔ اب ڈرونز آپ کی مٹھی میں بند ہو سکتے ہیں یعنی اب اتنے چھوٹے ڈرونز بھی تیار کئے جا رہے ہیں جنہیں آپ اپنی مٹھی یا جیب میں بھی رکھ سکتے ہیں۔ حشرات الارض کی مانند اڑنے پھرنے والے ڈرونز کسی ٹکرائو کے بغیر گنجان آباد علاقوں میں نگرانی کے کام کے لئے استعمال ہو سکتے ہیں۔ انہیں کسی حادثے کے مقام کی نگرانی اور متاثرین کو اشیائے خورونوش کی فراہمی کے لئے ان کے مقام سے آگاہ کرنے کے لئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس ٹیکنالوجی پر ابھی مزید کام کرنا باقی ہے تاکہ حشرات الارض جیسے ڈرونز کو فعال اور کارآمد بنایا جا سکے۔ سوئس فیڈرل انیٹیلی جینس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے زیر انتظام لیبارٹری اٖف انٹیلیجنٹ سسٹمز کے ڈائریکٹر ڈاریو فلوریانو (Dario Floreano) کا کہنا ہے کہ حشرات الارض جتنے قد کے ڈرونز کو اڑنے کے لئے حشرات الارض جتنی آنکھ کی ضرورت ہے یعنی ایسے چھوٹے سینسرز جن کی مدد سے ڈرونز بغیر کسی رکاوٹ کے پرواز کر سکیں اور کسی حادثے سے محفوظ رہتے ہوئے اپنے مقاصد پر عمل پیرا ہو سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں چھوٹے کیمروں کو استعمال میں لانے کی کوشش کی گئی مگر وہ وزن میں زیادہ تھے کہ چھوٹے ڈرونز ان کے وزن کے تحت اڑ نہ پائے۔ ان کے مطابق ایسے ڈرونز کو ایسے سینسرز درکار ہیں جو نہ صرف وزن میں ہلکے ہوں بلکہ ہو وہ روشنی کے انعکاس سے محفوظ رہتے ہوئے اردگرد کے ماحول کی درست منظر کشی کر سکیں۔ اس ضمن میں حال ہی میں ایک نیا سینسر متعارف کرایا گیا ہے جس کا وزن صرف دو ملی گرام ہے اور وہ صرف دو کیوبک ملی میٹر کی جگہ گھیرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اندھیرے کمرے یا نہایت روشن مقام کی منظر کشی بھی کر سکتا ہے۔ اس سینسر کی مدد سےحشرات الارض کی آنکھ کی مانند چھوٹے ڈرونز کی آنکھ تیار کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس کی مدد سے حشرات الارض کی مانند دکھنے والے چھوٹے ڈرونز پرواز کے قابل ہو سکیں ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ مصنوعی آنکھ کی باہری سطح پر ایک لینز نصب کیا گیا ہے جس کے نیچے تین الیکٹرانک فوٹو ڈیٹیکٹر تین مختلف سمتوں میں تکون کی مانند لگائے گئے ہیں، ان تینوں الیکٹرانک فوٹو ڈیٹیکٹرز کی مدد سے ڈرونز اپنی پرواز کے مطلوبہ مقاصد نہ صرف حاصل کر سکتے ہیں بلکہ پرواز کی سمت اور رفتار کا تعین بھی کر سکتے ہیں۔ اس ضمن میں پرواز کے لئے حسابی عمل مکمل ہو چکا ہے اور اب تحقیق کار ان ڈرونز کے لئے بہت چھوٹے ائیریل پلیٹ فارم تیار کرنے میں کوشاں ہیں۔

تحریر: مائیک اوورکٹ Mike Orcutt

Read in English

Authors

*

Top