Global Editions

جینیاتی سویابین سے پیداوار میں اضافہ

جینیاتی تبدیل شدہ سویا بین کی مجموعی پیداوار1996 ء تک 58.6 فیصد سے زیادہ ہوچکی تھی اور اب اس کا تخمینہ اس سے بھی بہت آگے بڑھ چکا ہے۔سویا بین کے بیج کے جینزمیں جینیٹک انجینئرنگ کے ذریعے تبدیلی کی جاتی ہے ،جس سے مزید صحتمند اجزاء اس میں شامل ہوجاتے ہیں اور پھر انہیں فصلوں کیلئے بویا جاتا ہے۔ جہاں انہیں اُگایا جاتا ہے وہاں غیرضروری نقصان دہ جڑی بوٹیوں سے پاک فصل تیار ہوتی ہے۔ ایسے بیج امریکہ میں مونسانٹو ( Monsanto ) کمپنی 20 سال سے تیار کر رہی ہے۔ اس وقت دنیا کے9 ممالک میں 60 ملین ہیکٹر پر جینیاتی تبدیل شدہ سویابین کی پیداوار ہورہی ہے۔

جینیاتی سویابین کی مارکیٹ میں مقابلے کی فضا پہلے ہی بہت زیادہ ہے، لیکن ابھی اسے مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔ امریکہ میں جینیاتی تبدیل شدہ سویا بین کی پیداوار 90 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ کمپنی اس کی معیاد ختم ہونے کے بارے میں فکرمند نہیں ہیں کیونکہ اب جینیاتی تبدیل شدہ سویابین کی دوسری قسم راؤنڈ اپ ریڈی ٹو (Roundup Ready2) کئی سال پہلے متعارف کروائی جا چکی ہے جبکہ تیسری قسم بھی منظوری کیلئے منتظر ہے جس سے سویابین کے سیڈکی تاریخِ معیاد بڑھ گئی ہے۔

اسی طرح امریکی آرکنسا یونیورسٹی میں پینجین چن ( Pengyin Chen) نے کئی سالوں کی محنت اور مختلف تجربات سے گزر کر سویابین کی ایک نئی قسم تیار کی ہے جوکہ خاصی حد تک بیماریوں سے محفوظ ہے۔ اسے یو اے 5414 آرآر (UA 5414RR) کا نام دیا گیا ہے۔ یونیورسٹی نے اس بیج کے 24 سو بیگ فروخت کردئیے ہیں۔ ہر بیگ کا وزن 50 پاؤنڈ ہے جس میں 140,000 بیج ہوتے ہیں اور ایک بیگ ایک ایکڑ کی ضرورت پوری کرنے کیلئے کافی ہے۔ صرف امریکہ میں 84 ملین ایکڑ پر سویا بین کاشت ہوتی ہے۔ ایسے سویابین بیج جن کی معیاد ختم ہوچکی ہے کسان وہ آدھی قیمت پر خرید کر کاشت کرسکتے ہیں لیکن ان سے امکان ہے کہ پیداوار کم ہو۔ آرکنساس یونیورسٹی کسانوں کو مونسانٹو کمپنی سے آدھی قیمت پر یعنی 25ڈالر فی بیگ فراہم کر رہی ہے۔

تحریر: اینٹونیو ریگالیڈو ( Antonio Regalado )

عکاسی: MATT PANUSKA

Read in English

Authors
Top