Global Editions

جینزایڈیٹنگ کے کامیاب تجربات

چین میں جنیاتی تبدیلیوں کے حامل آپریشن نے طبی دنیا میں ایک سنگ میل کی حثیت اخیتار کر لی ہے، جینز ایڈیٹنگ کے حوالے سے بیگل نسل کے کتوں پر ہونے والے تجربہ کامیاب رہا اور اس تجربے کے تحت کتے کی جینز میں تبدیلی کرتے ہوئے اس کے پٹھوں کو نہ صرف مزید طاقتور بنایا گیا بلکہ اس کےڈی این اے میں موجود ایک جین جسے مایوسٹیٹین (Myostatin) کہا جاتا ہے کو ختم کر دیا گیا۔ اس عمل سے کتے کے پٹھے نہ صرف کسی باڈی بلڈر کی مانند بڑھے بلکہ اس کے دوڑنے کی رفتار میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔ یہ کتے شکار کے لئے بہترین ہیں اور ان کتوںسے پولیس اور فوج کے لئے بھی کام لیا جا سکتا ہے۔ گوانگ ژو انسٹیٹیوٹ کے تجدیدی حیاتیات کے شعبےکے تحقیق کار لیانگ ژو لائی کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کا مقصد موروثی انسانی بیماریوں جیسے رعشہ، جوڑوں اور پٹھوں کی بیماریاں شامل ہیں کا علاج کرنا ہے کتوں پر تجربات اسی سلسلے کی کڑی ہیں ان کا کہنا ہے کہ کتے اپنے میٹابولک اور ایناٹومیکل خصوصیات کی بنا پر انسانوں کے بہت قریب ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا زیادہ مضبوط پٹھوں کے حامل بیگل کتوں کی مزید تیاری کا کوئی ارادہ نہیں۔ جنیوم ایڈیٹنگ کے لئے حال ہی میں دریافت ہونے والی تکنیک CRISPR-Casa 9 کا استعمال کیا گیا ہے۔ چائنیز اکیڈمی آف سائنس کے نمائندے ڈوانکنگ پائی(Duanqing Pei) نے لئی کے کام پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ CRISPR کے تحت ریسرچ چائنہ کے اس عزم کا عکاس ہے جو وہ میعاری اور انسان دوست تحقیق کے لئے کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے تجربات چین کی قومی سائنس پالیسی کا حصہ ہیں۔ واضح رہے کہ چین بھیڑوں، خرگوشوں، چوہوں، بندروں اور سور پر بھی ایسے ہی تجربات کر چکا ہے جبکہ ایک چائنیز کمپنی جنیوم ایڈیٹنگ تکنیک سے تیار ہونے والے سور تجارتی بنیاد پر فروخت بھی کر رہی ہے جس کی قیمت 1600 امریکی ڈالر ہے، جانوروں کی جینز ایڈیٹنگ کے بعد اب خدشہ ہے کہ یہ عمل انسانوں پر بھی دہرایا جائیگا اس عمل کے ناقدین کا خیال ہے کہ اگر جینز ایڈیٹنگ کے عمل کو صرف بیماریوں کے علاج تک محدود رکھا جائےتو بہتر ہوگا جینز ایڈیٹنگ کے ذریعے انسان کی پیدائشی خصوصیات میں تبدیلی درست عمل نہ ہوگی اور اسے منفی مقاصد کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

تحریر: اینٹونیو ریگالڈو Antonio Regalado

Read in English

Authors

*

Top