Global Editions

جعلی ادویات جانچنے کیلئے سمارٹ فون سے منسلک آلہ تیار

جعلی ادویات کی تیاری اور فروخت ایک مسلمہ اور عالمگیر مسئلہ ہے۔ خاص طور پر تیسری دنیا کے ممالک میں جعلی ادویات کا کاروبار خاصی وسعت اختیار کر چکا ہے۔ عام صارفین کے لئے جعلی ادویات میں تمیز تقریباً ناممکن عمل ہے کیونکہ وہ ادویات میں موجود مواد کو شناخت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ عام صارفین کی ان مشکلات کے ازالے کے لئے امریکی ریاست سان جوز میں قائم سٹریاٹیو (Stratio) نامی کمپنی نے ایک آلہ تیار کیا ہے جس کا نام لنک سکوئیر (Link Square) ہے یہ آلہ اصل میں ایک چھوٹا سپکیٹرومیٹر (Spectrometer) ہے جو روشنی کی طول موج کی شدت کی پیمائش کرتا ہے۔یہ آلہ سمارٹ فون کےساتھ منسلک کیا جا سکے گا جو اس امر کا تعین کریگا کہ دوا اصلی ہے یا جعلی۔کمپنی کا ماننا ہے کہ اس آلے کی مدد سے کسی بھی گولی کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ اس آلے کو استعمال کرنے کے لئے اسے یو ایس بی کیبل کے ذریعے سمارٹ فون سے منسلک کیا جاتا ہے، گولی کو اس آلے کے اوپر رکھا جاتا ہے اور پھر انفراریڈ ریز اس گولی پر ڈالی جاتی ہیں جو گولی کی ایک سطح سے دوسری سطح تک سفر کرتی ہیں۔ اس عمل کے دوران دو الگ الگ گراف آلے کی سکرین پر نمودار ہوتے ہیں جن کی ریڈنگز کا سمارٹ فون کی ایپ میں موجود ڈیٹا بیس سے موازنہ کیا جاتا ہے اور اس موازنے کا تمام تر ریکارڈ سمارٹ فون میں محفوظ رہتا ہے۔ اس تجربے کو کمپنی نے ویاگرا نامی گولی پر استعمال کیا اور اسے اس آلے کی مدد سے جانچا ،اس ضمن میں کمپنی نے نیشنل سائنس فائونڈیشن سے مالی معاونت بھی حاصل کی ہے اور امکان ہے کہ کمپنی اس آلے کو رواں سال کے آخر تک فروخت کے لئے پیش کر دیگی۔ اس ضمن میں کمپنی نے تمام دوا سازکمپنیوں سے اپیل بھی کی ہے کہ وہ اپنی ادویات کے حوالے سے ایپلی کیشنز بنائیں۔ کمپنی کے ہیڈ آف بزنس ڈویلپمنٹ اینڈ کمیونیکیشنز لیسلی گروتھائس (Leslie Grothaus) کا کہنا تھا کہ کمپنی ادویات کے بعد روزمرہ استعمال کی اشیائے خورونوش جن میں مچھلی، بریڈ وغیرہ شامل ہیںاس کے لئے بھی ایسے ہی آلے بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان آلات کی تیاری کے بعد صارفین کے لئے یہ جاننا آسان ہو جائے گا کہ وہ جو اشیاء استعمال کر رہے ہیں وہ اصل ہیں یا نہیں۔

تحریر: ریچل میٹز (Rachel Metz)

Read in English

Authors
Top