Global Editions

جانوروں کے اجسام میں انسانی ٹشوز کی تیاری کےلئے تجربات

امریکہ میں صحت کے اعلی ترین ادارے کی جانب سے پابندی کے باوجود چند امریکی تحقیقی ادارے جانوروں میں انسانی ٹشوز کی نموکے متنازع تجربات شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس کےباعث امریکہ سمیت دنیا بھر میں ان تجربات کے حوالے ایک بحث شروع ہو گئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ان تجربات کا مقصد سوروں اور بھیڑوں میں انسانی ٹشوز کی اس طرح نشو ونما مقصود ہے جس کے نتیجے میں انسانی دل، جگر اور دیگر انسانی اعضاء ان جانوروں میں تیار کئے جا سکیں گے اور ان کی انسانوں میں پیوندکاری ممکن ہو سکے گی۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ ان تجربات جن کے ذریعے مخصوص جانوروں کے فارمز میں انسانی خلیوں کو جانوروں کے جنین میں پروان چڑھایا جائیگا ایک غیر اخلاقی اور انسانیت سوز امر ہے اور ایسے تجربات انسانوں اور جانوروں کے انواع میں فرق ختم کر دینگے۔ گزشتہ برس ستمبر میں امریکی قومی ادارہ صحت نے ابتدائی پالیسی کے برخلاف اعلان کیا تھا کہ وہ انسانوں کے ٹشوز کو جانوروں میٓں پروان چڑھانے کے خیال کو تسلیم نہیں کرتا اور اس ضمن میں ہونے والی تحقیقات کو فروغ دینے کے خلاف ہے تاوقتیکہ ادارہ ایسی تحقیقات کا سائنسی اور اخلاقی پہلوئوں کا بغور جائزہ نہ لے لے۔ تاہم قومی ادارہ صحت کو ان اطلاعات پر متحرک ہونا پڑا جب یہ اطلاعات موصول ہوئیں کہ سائنسدانوں نے مالی معاونت ملنے پر ان تجربات کا آغاز کر دیا ہے اور اس میں ریاست کیلی فورنیا کا سرکاری سٹیم سیل (Stem cell) ایجنسی بھی شامل ہے۔ اس متنازع تحقیق کے لئے سائنس دان انسانی افزائشی خلیے جانوروں کے چند دن پرانے جنیوم میں انجیکشن کے ذریعے داخل کرتے ہیں تاکہ وہ ان فارم ہائوسز میں انسانوں کے ٹشوز کو جانوروں کے جنین میں پروان چڑھائیں گے۔ کیلی فورنیا اور مینیسوٹا میں تین تحقیق کاروں سے اس ضمن میں بات چیت کے بعد ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو کا خیال ہے کہ گزشتہ سال سے لے کر اب تک 20 مادہ سور اور بھیڑیں انسانی افزائشی خلیے داخل کرنے کے بعد حمل سے ہیں، تاہم اب تک اس حوالے سے کوئی سائنسی تحقیقی مقالہ یا انسان اور جانور کے اشتراک سے بننے والا جانور پیش نہیں کیا جا سکا۔ اس متنازع تحقیق کے اہم نکات قومی ادارہ صحت کی درخواست پر پیش کئے گئے۔ اس ملاقات میں ایک تحقیق کار جان کارلوس (Juan Carlos) نے تحقیقات کا غیر مطبوعہ ڈیٹا پیش کیا جس کے مطابق ایک درجن سے زائد مادہ سوروں میں انسانی افزائشی خلیے پروان چڑھ رہے تھے۔ یونیورسٹی آف میناسوٹا کےریسر چرز نے 62 دن کے اس سور کی تصاویر پیش کیں جس کے شکم میں انسانی جنین تھا اور وہ آنکھ کے موروثی مرض سے پاک تھا۔ یونیورسٹی آف میناسوٹا میں اس متنازع تحقیق میں شامل ڈینیل گرے (Denial Gray) کا کہنا تھا کہ ہم ایک ایسا جانور تشکیل دے سکتے ہیں جو دل ہی نہ رکھتا ہو (یعنی اس کے جسم میں دل کا عضو موجود ہی نہ ہو) ہم نے ایسے انجئینیرڈ سور بھی بنائے ہیں جو عضلاتی ڈھانچے اور خون کے بہائو کےلئے شریانوں کے بغیر ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ جانور ابھی تجرباتی حد تک تھے اور نمو نہیں پا سکے لیکن اگر انہیں مزید چند خلیوں کی مدد سے نارمل مادہ سور کے جنین میں داخل کیا جائے تو ایسا ہونا ناممکن بھی نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں انہوں نے امریکی فوج کی جانب سے سوروں میں انسانی دل کی نمو کے لئے اپنی تحقیق پر 1.4 ملین ڈالرز کا انعام حاصل کیا ہے۔ چونکہ اس متنازع تحقیق میں شامل سائنس دانوں کا ارادہ ہے کہ وہ جانوروں میں محض اس لئے انسانی ٹشوز کی نشوونما چاہتے ہیں کہ مختلف امراض جیسے امراض قلب وغیرہ کے مریضوں میں اعضاء کی پیوند کاری ہو سکے اس لئے وہ قومی ادارہ صحت کی تشویش کے برخلاف اپنی تحقیق جاری رکھنا چاہتے ہیں تاکہ انسانی دل، جگر اور دیگر اعضاء کو جانوروں میں نمو لا کر ان کی انسانوں میں پیوندکاری کی جا سکے۔

تحریر: انٹونیو ریگالڈو (Antonio Regalado)

Read in English

Authors
Top