Global Editions

توانائی بحران: حقائق اور پس منظر

پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت طلب سے تقریباً دو گنا ہے، اس کے باوجود قوم گزشتہ ایک دہائی سے بدترین لوڈشیڈنگ کا سامنا کر رہی ہے، عام صارف یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ جب ہم ضرورت سے زائد بجلی پیدا کر سکتے ہیں تو پھر طویل لوڈشیڈنگ کا عذاب قوم پر کیوں مسلط ہے۔ وجوہات اس کی ایک سے زائد ہیں۔

تاریخی پس منظر
بدقسمتی سے توانائی بحران ہمارا آج کا مسئلہ نہیں، پاکستان انجینئرنگ کونسل کے اعدادوشمار کے مطابق آزادی کے وقت مشرقی و مغربی پاکستان کی مجموعی پیداوار محض 60میگا واٹ تھی، جو ابتدائی 13 برسوں کے دوران 1960ء تک صرف 120میگا واٹ تک پہنچ سکی۔ تاہم 1952ء میں کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی (کے ای ایس سی) ، 1958ء میں واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کے قیام اور پھر 60ء کی دہائی میں تربیلا اور منگلا سمیت کئی ڈیموں کی تعمیر سے ملک میں بجلی کی پیداوار میں زبردست اضافہ ہوا، جو 1970ء تک 60 میگا واٹ سے بڑھ کر 1331 میگا واٹ ہوگئی۔
1970-90ء کے دوران ملک میں بجلی کی طلب اور پیداوار میں کوئی خاص فرق نہیں تھا، صنعتوں کی توانائی کی ضرورت اچھے سے پوری ہو رہی تھی، نیشنل ٹرانسمیشن سسٹم کے ذریعے شہروں کے ساتھ ساتھ دیہات کو بھی بجلی پہنچائی جا رہی تھی۔ بجلی پیدا کرنے والے سرکاری اداروں واپڈا اور کے ای ایس سی کی کوششوں سے پیداوار 80ء کی دہائی میں 3000 میگاواٹ اور1990/91ء میں 7000میگا واٹ تک ہو گئی، لیکن نوے کی دہائی کے دوران ملک میں بڑے انڈسٹریل سیکٹرز قائم ہونے اور آبادی میں اضافے کے باعث پیداوار اور طلب میں توازن قائم رکھنا بہت مشکل ہوگیا۔ اوسطاً 1,500 سے2,000 میگا واٹ سالانہ طلبی خسارے نے لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں اضافہ کرنا شروع کردیا۔ اس وقت توانائی کی قلت پر قابو پانے کے لئے نجی کمپنیوں کو اس شعبے میں سرمایہ کاری پر مراعات دینے کا فیصلہ کیا گیا، اس طرح 1994ء میں انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز ( آئی پی پیز) نے پیدا وار میں فوری اضافے کے لئے تیل اور قدرتی گیس سے بجلی بنانے کے منصوبے شروع کئے، جس کے بعد وقتی طور پر بحران نہ صرف ختم ہو گیا بلکہ پیداوار طلب سے بھی زائد ہوگئی۔ تاہم چند ہی برسوں بعد 2001ء میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے رجحان سے تھرمل ذرائع سے بجلی کی پیداوار کو کم کرنا ناگزیر ہوگیا، اس طرح پیداوار اور طلب کے درمیان فرق پھر بڑھنے لگا جو 2005ء تک اس حد تک بڑھ گیا کہ گھریلو صارفین کے ساتھ ساتھ صنعتی صارفین کو بھی بجلی کی مسلسل فراہمی مشکل ہوگئی۔

ماہر معاشیات ڈاکٹر شاہد عزیز کے خیال میں تیل اور قدرتی گیس سے بجلی کی پیداوار پر زیادہ سے زیادہ انحصار کی پالیسی نے بحران کو جنم دیا، اگر تھرمل ذرائع کے ساتھ ساتھ نئے ڈیموں کی تعمیر اور متبادل ذرائع پر تحقیق جاری رکھی جاتی تو حالات بہت حد تک مختلف ہوتے۔
" قیمتوں میں استحکام کے لئے ملکی ضرورت کی نصف سے زائد بجلی پانی سے پیدا کرنا ضروری ہے، لیکن موجودہ تناسب اس سے بہت کم ہے، تاہم رواں دہائی کے اختتام تک مزید 10ہزار میگا واٹ ہائیڈرو الیکٹرک کی نیشنل گرڈ میں متوقع شمولیت سے یہ تناسب 50فیصد سے بھی زائد ہونے کا امکان ہے، جس سے یقیناً بجلی کی قیمتوں میں کمی ممکن ہو سکے گی۔" ڈاکٹر شاہد کا کہنا ہے کہ نئی توانائی پالیسی برائے 2013-15ء پر مکمل عملدرآمد کیا گیا تو بحران 90 فیصد تک ختم ہوجائے گا۔ ان کے خیال میں نوے کی دہائی میں نجلی کمپنیوں نے فوری بجلی پیدا کرنے کے لئے تھرمل پلانٹس لگائے، جس کے لئے نہ تو لاکھوں ایکڑ اراضی درکار تھی اور نہ ہی تعمیر میں دہائیوں کا وقت لگتا تھا، لیکن خام تیل کی قیمتوں میں اضافے اور قدرتی گیس کے ملکی ذخائر میں کمی کے باعث بجلی کے بلوں میں اس قدر اضافہ ہو چکا ہے کہ عام آدمی تو کیا چھوٹے بڑے صنعتکاروں کو بھی بل ادا کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اسی طرح ڈاکٹر قیس اسلم کہتے ہیں "چند ہی برسوں میں تھرمل ذرائع سے بجلی کی پیداوار کل ملکی پیداوار کے 20فیصد سے 60فیصد تک پہنچ چکی ہے، لیکن ایندھن کی قیمتوں میں عدم استحکام سے ایک طرف تو درآمدی بل نے تجارتی خسارے میں اور دوسری طرف کم وصولیوں کے باعث گردشی قرضوں میں کئی گنا اضافے نے حکومت کے لئے بجلی کی قیمتیں برقرار رکھنا ناممکن بنا دیا ہے۔

" بجلی کی قیمتوں میں اضافے نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران شرح ترقی کو بری طرح متاثر کیا ہے، جو 8.4 فیصد سے کم ہو کر 4.24فیصد تک گر چکی ہے۔ پیداواری لاگت بڑھنے کے باعث عالمی مارکیٹ میں پاکستانی مصنوعات کو بھارت اور چین کی نسبتاً سستی مصنوعات سے مقابلے میں مشکلات کا سامنا ہے، جس کا نتیجہ کم شرح ترقی کی صورت میں برآمد ہو رہا ہے۔" ڈاکٹر قیس کا کہنا ہے کہ توانائی کی لاگت میں کمی سے ہی ملک میں کاروباری سرگرمیوں میں تیزی ممکن ہے، بحران کے خاتمے کے لئے موجودہ حکومت کا متبادل اور سستے ذرائع سے بجلی کی پیداوار کے منصوبے تب ہی نتیجہ خیز ثابت ہوں گے اگر حکومت انہیں مالی وسائل کی کمی اور سیاسی مشکلات کے باوجود پایہ تکمیل تک پہنچانے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومتی اقدامات اس امر کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ مستقبل میں تھرمل ذرائع سے بجلی کے حصول پر انحصار کم سے کم کیا جائے گا، اگر واقعی ایسا ہوا تو بعید از امکان نہیں کہ شرح ترقی دوہرے ہندسے تک بھی پہنچ جائے۔

ملک میں بجلی کی پیداوار کے ذرائع
پاکستان میں پانچ بڑے ذرائع سے بجلی پیدا کی جا رہی ہے، ان میں پانی ، تھرمل (تیل، قدرتی گیس، کوئلہ) ،. ہوا ، سورج اور ، ایٹمی توانائی شامل ہیں۔
دینا کے دیگر کئی ممالک کی طرح پاکستان میں توانائی سے متعلق تمام ادارے اور کمپنیاں جزوی یا کلی طور پر حکومت کی زیر نگرانی کام کرتی ہیں۔
1997ء میں نیشنل الیکٹرک ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کا قیام اور 2000ء میں واپڈا کی تنظیم نو کرکے اس کے 14 الگ الگ یونٹس بنا دئیے گئے، جن میں 4 بجلی پیدا کرنے والی کمپنیاں (جینکوز)، 9تقسیم کار کمپنیاں (ڈسکوز) اور ایک ترسیلاتی کمپنی قائم کی گئی، اسی طرح ملک میں واپڈا، کے ای ایس سی (موجودہ کے الیکٹرک)، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن ( پی اے ای سی) اور آئی پی پیز توانائی پیدا کرنے والے نمایاں ادارے ہیں۔
بجلی کمی قیمتوں میں کمی لانے اور متبادل ذرائع تلاش کرنے کے لئے 2003ء میں آلٹرنیٹو انرجی ڈویلپمنٹ بورڈ ( اے ای ڈی بی) بنایا گیا، جس کا مقصد ایٹمی بجلی کے استعمال کو محفوظ سے محفوظ تر بنانا، شمسی، ہوا اور بائیو ڈیزل سے توانائی کے حصول کو ممکن بنانا ہے۔
موجودہ صورتحال کچھ اس طرح ہے کہ قدرتی گیس اور فرنس آئل سے 62فیصد بجلی پیدا کی جارہی ہے، جو اتنی مہنگی ہے کہ عوام کے ساتھ ساتھ صنعتی شعبے کی قوت خرید سے بھی باہر ہوچکی ہے۔ نیچے دئے گئے چارٹ میں تھرمل، ہائیڈل اور دیگر متبادل ذرائع سے توانائی کے حصول پر اٹھنے والے اخراجات سے بحران کی اصل وجہ کافی حد تک سامنے آ جاتی ہے۔

ذریعہ
پیداواری صلاحیت
(Installed Capacity)
توانائی کا ضیاع
(Output losses)
ماحصل پیداوار
(Avg. Output)
فی کلو واٹ خرچہ
(2014-15)

تھرمل، ہائی سپیڈ ڈیزل
100میگا واٹ
20سے 30 میگاواٹ
75میگا واٹ
23.88روپے
تھرمل، قدرتی گیس
100میگا واٹ
25سے 35 میگاواٹ
70میگا واٹ
6.96روپے
تھرمل، کوئلہ
100میگا واٹ
25سے 35میگاواٹ
70میگا واٹ
13.68روپے
واٹر ٹربائن
100میگا واٹ
10سے 15میگاواٹ
88میگاواٹ
1.52روپے
شمسی توانائی
100میگا واٹ
70سے 80میگاواٹ
25میگاواٹ
21.11روپے
ایٹمی توانائی
100میگا واٹ
10سے 20 میگا واٹ
84میگاواٹ
5.89روپے
پن چکی
100میگا واٹ
70سے 80میگاواٹ
25میگاواٹ
14.28روپے
بائیو ڈیزل
100میگا واٹ
50سے 60میگاواٹ
45میگا واٹ
11.73روپے
مد و جذر ٹربائن

100میگا واٹ
70سے 80میگاواٹ
25میگاواٹ
8.55روپے

پاکستان انجینئرنگ کونسل کے سینئر رکن اور ممتاز ماہر معاشیات جاوید سلیم قریشی کا کہنا ہے کہ ٓاٗئندہ کئی دہائیوں تک صرف پانی کے بہاؤ سے توانائی کا حصول ہی بہتر اور سستا ترین ذریعہ ہوگا، اور صرف وہی ممالک ترقی کی شرح میں اضافہ کرنے میں کامیاب ہوں گے، جو واٹر ٹربائن کی ٹیکنالوجی کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش اور نئے ڈیمز کی تعمیر جاری رکھیں گے۔ ان کا خیال ہے کہ غیر روائتی یا سستے متبادل ذرائع کے حصول میں کامیابی کا دارومدار ان ذرائع کی ٹیکنالوجی میں بہتری لانے کے لئے زیادہ سے زیادہ تحقیق پر ہے۔
ترقی یافتہ ممالک میں اس حوالے سے کئی دہائیوں سے تحقیق جاری ہے۔ امریکا، چین، جرمنی، آسٹریلیا سمیت کئی ممالک روائتی ذرائع پر انحصار کم سے کم کر رہے ہیں۔ لیکن پاکستان میں بدقسمتی سے صورتحال اتنی خوش کن نہیں ہے۔ ملک میں فی الحال بجلی پیدا کرنے کے لئے زیادہ تر تھرمل ذرائع ہی استعمال ہورہے ہیں، نیچے دئیے گئے چارٹ میں مجموعی پیداوار اور ان کے ذرائع کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔

ملک میں بجلی کی پیدا واری تقسیم
تھرمل ذرائع
فرنس آئل/گیس/کوئلہ/بائیو ڈیزل
61.6 فیصد
ہائیڈرو الیکٹرک
33 فیصد
اٹامک انرجی
4.2 فیصد
شمسی اور دیگر ذرائع
1.2فیصد

ماہر معاشیات خواجہ اسد سعید کے مطابق بجلی کی مسلسل فراہمی معاشی ڈھانچے کے وجود کے لئے انتہائی اہم ہے، ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت نے پانچ برسوں میں نصف صدی کی کوتاہیوں کے ازالے کا جو مشکل ہدف چنا ہے اسکا حصول توانائی کی کمی پر قابو پانے میں کامیابی سے مشروط ہے۔ اس کے علاوہ وفاقی حکومت کے چین جیسے مستقل مزاج دوست ملک سے تاریخ ساز سرمایہ کاری کے معاہدے بھی ملک میں صنعتی سرگرمیوں کی بحالی میں اہم کردار ادا کریں گے۔

تاہم کاروبار اور صنعتی شعبے سے وابستہ افراد کی بے یقینی ابھی کم نہیں ہو سکی۔ ممتاز صنعتکار گوہر اعجاز کہتے ہیں بجلی کی پیداوار میں اضافے کے ساتھ ساتھ پیداواری لاگت میں کمی آنا بھی ضروری ہے۔ توانائی بحران کے باعث 2008-14ء کے دوران بھارت میں ٹیکسٹائل کے شعبے میں 14 ملین سے زائد نئے سپننگ یونٹس لگائے گئے۔ یہاں تک کہ بنگلہ دیش جہاں کپاس پیدا ہی نہیں ہوتی، وہاں بھی 2 ملین نئی مشینوں کا اضافہ ہوا، لیکن پاکستان میں اسی عرصے کے دوران صرف ایک ملین نئی سپننگ مشینیں لگائی گئیں۔
" مہنگے تھرمل ذرائع سے بجلی کے حصول کے باعث پیداواری لاگت میں اس قدر اضافہ ہو چکا ہے کہ ملکی ٹیکسٹائل مصنوعات کو عالمی مارکیٹ میں مقابلے کی فضا قائم رکھنا مشکل سے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ صنعتی شعبے کی مکمل بحالی کے لئے حکومت کو توانائی کی قیمتوں میں کمی لانا ہوگی۔"
گوہر اعجاز کا کہنا ہے سستے اور متبادل ذرائع سے توانائی کے حصول پر تحقیقی کام میں تیزی آئی ہے، لیکن اس سے ابھی زیادہ امیدیں قائم نہیں کی جاسکتیں۔

enery_img_1a

بجلی بنانے کے بنیادی طریقے
ڈیم سے بجلی کی پیداوار

حرکت میں برکت ہے۔ شاید اسی خیال کے پیش نظر دنیا بھر میں شمسی اور بیٹریوں میں موجود توانائی کے علاوہ تقریباً تمام تر بجلی حرکی توانائی کے ذریعے بجلی پیدا کی جاتی ہے۔

ڈیم سے بجلی بنانے کا اصول بالکل سادہ اور آسان ہے۔ سب سے پہلے کسی دریا، ندی یا جھیل کا پانی اونچی جگہ پر ذخیرہ کیا جاتا ہے۔ پھر سپل وے کے ذریعے تیز رفتار پانی کو واٹر ٹربائن سے گزارا جاتا ہے، پانی کی رفتار سے ٹربائن کے پنکھے گھومنے لگتے ہیں، اسی حرکی توانائی کو جنریٹر بجلی میں تبدیل کردیتا ہے، جو ترسیلاتی لائنوں کے ذریعے نیشنل گرڈ اسٹیشن تک پہنچتی ہے اور وہاں سے ٹرانسفارمرز اس بجلی کو گھریلو اور صنعتی لوڈ کے مطابق ڈھال کر صارفین تک پہنچاتے ہیں۔

گیس/ فرنس آئل سے بجلی کی پیداوار
گیس یا فرنس آئل سے چلنے والے پلانٹ میں ایک کمپریسر کے ذریعے 200-300 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوا کو ایک بہت بڑے خانے میں بھیجا جاتا ہے، پھر اس ہوا کو ایندھن جلا کر 1000-1200سینٹی گریڈ تک گرم کیا جاتا ہے، یہ گرم ہوا تھرمل ٹربائن کے پنکھوں کو 400-550کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گھماتی ہے، اسی حرکی توانائی کو جنریٹر بجلی میں تبدیل کردیتا ہے، جو نیشنل گرڈ اسٹیشن میں شامل ہونے کے بعد عام صارفین تک پہنچتی ہے۔

کوئلے اور ایٹمی ری ایکٹر سے بجلی کی پیداوار

کوئلے کے پلانٹ اور ایٹمی ری ایکٹر سے بجلی بنانے میں کافی حد تک مماثلت ہے۔ ایندھن کو جلانے کے طریقے کے فرق کے علاوہ دونوں میں ایک ہی طرح سے بجلی پیدا کی جاتی ہے۔ سب سے پہلے ایک بہت بڑے خانے میں پانی جمع کیا جاتا ہے، (ایٹمی ری ایکٹر میں بھاری پانی کا استعمال کیا جاتا ہے) پھر یورنیم / کوئلے کو جلا کر پانی کو بھاپ میں تبدیل کیا جاتا ہے، یہ بھاپ مختلف پائپوں سے گزرتی ہوئی اسٹیم ٹربائن کے پنکھوں کو گھماتی ہے جسے جنریٹر بجلی میں بدل دیتا ہے۔اس طریقے کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں بھاپ کے لئے فضا میں شامل ہونے کا کوئی راستہ نہیں ہوتا، اس لئے یہ مختلف پائپوں سے بار بار گزرتی رہتی ہے، جس سے مسلسل بجلی بنتی رہتی ہے۔

ہوا سے بجلی کی پیداوار

ہوا سے بجلی پیدا کرنے کا اصول انتہائی سادہ ہے، عام طور پر 30-70کلومیٹر فی گھنٹہ سے چلنے والی ہوا پن چکی سے بجلی پیدا کرنے کے لئے بہترین سمجھی جاتی ہے، اس رفتار سے گھومنے والے پنکھے چکی میں لگی ٹربائن سے اس کی صلاحیت کے مطابق بجلی پیدا کرتے ہیں جو قریبی علاقوں کی ضرورت کے لئے کافی ہوتی ہے۔ ایک عام پن چکی سے 25کلوواٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور اسے لگانے کے لئے 35سے 40 لاکھ روپے درکار ہوتے ہیں۔ تاہم دنیا میں اس وقت دیو قامت پن چکیاں لگائی جارہی ہیں تاکہ کم علاقے میں زیادہ پیداوار حاصل کی جاسکے۔ ترقی یافتہ ممالک میں ایک پن چکی 2سے 8میگاواٹ تک بجلی پیدا کرسکتی ہے۔ حال ہی میں ڈنمارک میں لگائی جانے والی ویسٹاس وی۔164 ٹربائن 8میگا واٹ بجلی پیدا کرسکتی ہے، اس کے ایک پنکھے کی لمبائی 80میٹر ہے اور اس کا ٹاور 220 میٹر (70منزلہ عمارت کے برابر) اونچا ہے، جبکہ ٹربائن کا کل وزن 4ہزار ٹن ہے۔

سورج سے بجلی کی پیداوار
سورج کی روشنی سے بجلی پیدا کرنے کے مختلف طریقوں پر گزشتہ کئی دہائیوں سے تحقیق جاری ہے اور اس میں آئے روز پیش رفت کا سلسلہ جاری ہے۔ اس وقت سولر پینل شمسی توانائی کے حصول کا سب سے اہم ذریعہ ہے، گلاس اور سلیکون کے آمیزے سے فوٹو وولٹک سولر پینل تیار کیا جاتا ہے جو سورج کی روشنی سے الیکٹرونز کو علیحدہ کرکے پینل سے منسلک تانبے کی تاروں کا چارج منفی کردیتا ہے، جس سے ان میں بجلی دوڑنے لگتی ہے، عام طور پر اس بجلی کو بیٹری میں ذخیرہ کرنے کے بعد انورٹر کے ذریعے صارفین کے لئے قابل استعمال بنایا جاتا ہے۔ دن کے اوقات میں 30-40سینٹی گریڈ درجہ حرارت میں 5×7فٹ کے 10پینلز سے 5کلو واٹ تک بجلی پیدا کی جا سکتی ہے اور اس پر 4سے ساڑھے 4 لاکھ روپے لاگت آتی ہے۔ امریکی ریاست کیلی فورنیا میں دنیا کے سب سے بڑے سولر منصوبے کی دو برس قبل تکمیل سے 550 میگاواٹ بجلی پیدا کی جارہی ہے، تاہم پاکستان کے علاقے بہاولپور میں شمسی توانائی کا سب سے بڑا منصوبہ قائداعظم سولر پارک زیر تعمیر ہے۔ جس کی آئندہ برس تکمیل سے 1000-1300 میگا واٹ بجلی پیدا کی جاسکے گی۔ فی الحال اس سے 100میگاواٹ بجلی پیدا کی جارہی ہے۔

بجلی کی قلت کے خاتمے کے لئے حکومت کو درپیش مشکلات

enery_img_3

گردشی قرضوں میں اضافہ اور وصولیوں میں کمی
وفاقی وزارت خزانہ کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں کے دوران 4382.4ارب روپے کے بجلی کے بل جاری کئے گئے جبکہ 3327.7 ارب روپے کی وصولیاں کی گئیں، گھریلو صارفین کے لئے بجلی کے بلوں میں سبسڈی اور کم وصولیوں کی وجہ سے پیداواری کمپنیوں کو قرضہ لے کر ادائیگیاں کی جاتی رہیں جس کے باعث گردشی قرضوں میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے۔ مالی سال 2013-14 میں حکومت کی جانب سے 480 ارب روپے کے گردشی قرضے ختم کئے گئے، تاہم اس کے باوجود مالی سال 2014-15 میں ان کا حجم 603 ارب روپے سے زائد ہو چکا ہے۔
پلاننگ کمیشن آف پاکستان اور یو ایس ایڈ کی رپورٹ کے مطابق گردشی قرضوں میں اضافے کی بڑی وجوہات میں سرکاری اداروں اور بڑے صنعتی یونٹس کی جانب سے عدم ادائیگیاں، سبسڈی مکمل طور پر ختم نہ کرنا اور تیل کی خریداری اور بجلی گھروں کو فراہمی میں مبینہ کرپشن شامل ہیں۔ موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی گردشی قرضے ختم کرنے کے لئے فوری اقدامات کئے، لیکن تاحال صورتحال بہتر ہونے کی بجائے مزید ابتر ہوتی جا رہی ہے۔

لائن لاسز

ایک جانب تو صلاحیت ہونے کے باوجود مالی مسائل کے باعث بجلی کی پیداوار میں اضافہ کرنا مشکل ہے، دوسری جانب کمزور ترسیلی نظام کی وجہ سے تقریباً سبھی ڈسکوز میں پرانی ٹرانسمیشن لائنز سے 10-15 فیصد بجلی ضائع ہو جاتی ہے، جو صورتحال میں مزید خرابی کا باعث بن رہی ہے۔ نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کے اعدادوشمار کے مطابق مالی سال 2013-14 تک ملک میں 12پانچ سو کلو وولٹ اور 220 کے وی کے 29 گرڈ اسٹیشنز قائم تھے۔ جو مجموعی طلب کا بوجھ اٹھانے کے لئے ناکافی تھے، تاہم مالی سال 2014-15کی دوسری اور تیسری سہ ماہی کے دوران ایک 500کے وی اور آٹھ 220 کے وی کے نئے گرڈ اسٹیشنز قائم کئے گئے، جس کے بعد صورتحال میں کافی حد تک سدھار آیا ہے، تاہم آئندہ دو سے تین برسوں کے دوران بجلی کی پیداواری صلاحیت میں متوقع اضافے کو مکمل طور پر نیشنل گرڈ اسٹیشن میں شامل کرنے کے لئے این ٹی ڈی سی کو اپنی صلاحیت میں مزید اضافہ کرنا ہوگا۔

بجلی چوری

توانائی بحران کی ایک بڑی وجہ بجلی چوری میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ اور اس کی روک تھام میں ناکامی ہے۔ یو ایس ایڈ کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2013-14 کے دوران 90 ارب روپے کی بجلی چوری ہوئی، اعداد و شمار کے مطابق سندھ میں سب سے زیادہ بجلی چوری کے معاملے ریکارڈ کئے گئے، جبکہ پنجاب جہاں بلوں کی وصولیوں کی شرح بھی 90 فیصد سے زائد ہے، وہاں بجلی چوری باقی صوبوں کی نسبت انتہائی کم ہے۔
بعض معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ بجلی کی چوری میں کمی لانے کے حکومتی اقدامات خود واپڈا ملازمین کی صارفین سے ملی بھگت کے باعث ناکام ہو جاتے ہیں۔ جس کا خمیازہ عام صارف کو طویل لوڈشیڈنگ اور مہنگی بجلی کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے۔

وسائل کی کمی

پاکستان گزشتہ 14 برس سے حالت جنگ میں ہے، دہشت گردی اور امن و امان کی بحالی میں ایک طرف تو بے تحاشہ مالی و افرادی وسائل خرچ ہو رہے ہیں اور دوسری طرف توانائی بحران کے باعث صنعتی یونٹس کی بندش کا سلسلہ جاری ہے۔ 9-11 کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو 80 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان برداشت کرنا پڑا، جس کی وجہ سے ملک میں بجلی پیدا کرنے کے نئے منصوبے شروع نہ کئے جا سکے۔ تاہم موجودہ حکومت امن و امان کی بحالی کے لئے اقدامات کے ساتھ ساتھ توانائی بحران کو بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لئے کوشاں ہے، اس کے علاوہ چین کے ساتھ اقتصادی منصوبوں پر عملدرآمد کے بعد ملک میں کاروباری سرگرمیوں میں کافی تیزی آنے کا امکان ہے۔
توانائی بحران کے حل کیلئے حکومتی اقدامات

بجلی کی بچت
"بجلی بچائیں، اپنے لئے قوم کے لئے" یہ وہ نعرہ ہے جو ملک کے طول و عرض میں بچے بچے کی زبان پر ہے، اس کی مقبولیت میں شاید بلوں میں ہوش ربا اضافے نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ کئی دہائیوں سے جاری حکومتی اشتہاری مہم کافی حد تک کامیابی سے ہمکنار ہو چکی ہے، عوام کے ساتھ ساتھ صنعتی شعبے کی جانب سے بھی بجلی بچانے کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ پاکستان انجینئرنگ کونسل کی تحقیق کے مطابق زیادہ بجلی استعمال کرنے والے بلب اور ونڈو ائیر کنڈیشنرز کی فروخت کی حوصلہ شکنی اور کم توانائی استعمال کرنے والی الیکٹرونکس پر سبسڈی کی بدولت سالانہ 500 سے 580 میگا واٹ کی بچت ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ تنگ رہائشی علاقوں کی نسبت نئی ہاؤسنگ اسکیموں میں ہوا اور دن کی روشنی سے استفادے کی سہولت کے باعث بھی بجلی کی بچت ہو رہی ہے۔
گزشتہ برس وزیراعظم توانائی بچت پروگرام کے تحت ملک بھر میں 10 کروڑ روپے کی لاگت سے 3 کروڑ انرجی سیورز تقسیم کئے گئے، جس کے بعد بلبوں کی فروخت میں 90 فیصد تک کمی آگئی۔ اسی طرح اشتہاری مہم کے ذریعے ریموٹ کنٹرول سے بند کرنے کے بعد بھی خاموشی سے بجلی استعمال کرنے والی الیکٹرونکس کی نشاندہی سے بھی بجلی بچانے میں مدد مل رہی ہے۔

نئی ٹرانسمیشن لائنز کے منصوبے

کئی عشروں سے نئی ٹرانسمیشن لا ئینزکی تنصیب اور اپ گریڈیشن کا کام سست روی کا شکار تھا، جس کے باعث بھاری لائن لاسز کا بوجھ بھی صارفین کو منتقل ہو رہا تھا، تاہم موجودہ حکومت کی جانب سے 9 نئے گرڈ اسٹیشنز کی تنصیب کے بعد امکان ہے کہ مستقبل میں بجلی کی ترسیل کے دوران توانائی کے ضیاع کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ اسی طرح پرانی ترسیلی لائنوں کو تبدیل کرنے کے بھی کئی منصوبوں پر کام جاری ہے، جن کے کہ ٓاٗئیندہ دو برسوں میں تکمیل سے لائن لاسز سے ہونے والے نقصان کو 5 سے 7 فیصد تک کم کیا جاسکے گا۔

سستی بجلی کا حصول

enery_img_2

بحران کا خاتمہ متبادل اور سستے ذرائع کے حصول میں کامیابی تک ممکن نہیں۔ انرجی پالیسی برائے 2013-18 میں تیل اور گیس سے بجلی کی پیداوار میں کمی لا کر کوئلے اور پانی سے زیادہ سے زیادہ بجلی بنانے کے منصوبے شروع کرنے کی حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں 2018 تک کوئلے سے 2400 میگا واٹ جبکہ پانی سے مزید 8 ہزار میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کرنے کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں، جس کے بعد مجموعی پیداوار میں مہنگے تھرمل ذرائع کا حصہ 35 سے 40 فیصد تک محدود کر دیا جائے گا، جو اس وقت 61.3 فیصد ہے۔ وفاقی ادارہ برائے شماریات کی رپورٹ کے مطابق حکومتی اقدامات سے 2025ء تک ملک کی مجموعی پیداواری صلاحیت 45,000 میگا واٹ ہو جائے گی۔ جس میں 55-60 فیصد بجلی کوئلے اور پانی سے بنائی جائے گی۔ اسی طرح ہوا، سورج اور دیگر متبادل ذرائع سے ملکی ضرورت کی 7-10 فیصد بجلی پیدا کرنے کے منصوبے شروع کئے جا رہے ہیں، جن کی صلاحیت میں وقت کے ساتھ ساتھ مزید اضافہ کیا جائے گا۔
معاشی جائزہ رپورٹ برائے مالی سال 2014-15 ء میں امید ظاہر کی گئی ہے کہ رواں عشرے کے اختتام تک بجلی کے بلوں میں 25-30 فیصد تک کمی آ جائے گی، تاہم یہ تب ہی ممکن ہے جب سستے ذرائع سے بجلی کی پیداوار مجموعی پیداوار کے نصف سے زائد ہو جائے۔

کیا بجلی سستی ہوگی؟
اس سوال کا جواب صرف ہاں یا ناں میں دینا ممکن نہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عوام بجلی کی آئے روز بڑھتی قیمتوں سے شدید مشکلات کا شکار ہیں، اور ان کی کمائی کا بڑا حصہ بجلی کے بل کی نظر ہو جاتا ہے، لوگ کسی بھی طرح بل کم کرنا چاہتے ہیں، بعض تو اس کے لئے چوری جیسے گھناؤنے اقدام سے بھی گریز نہیں کرتے۔ لیکن سابق وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر سلمان شاہ کا خیال ہے کہ اصل مسئلہ بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں نہیں بلکہ عوام کی قوت خرید میں کمی ہے۔ اگر حکومت بے روزگاری کے خاتمے اور فی کس آمدنی میں اضافہ کرنے میں کامیاب ہو جائے تو کسی کو بھی زیادہ بل دینے میں مشکل پیش نہیں آئے گی۔ کسی کو بھلے یہ عجیب لگے، لیکن مہنگائی میں مناسب سالانہ اضافہ بھی شرح نمو کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ اشیاء کی قیمتیں بڑھنا بری بات نہیں، عوام کی قوت خرید گرنا بحران کو جنم دیتا ہے۔ اگر دونوں معاملات ایک ہی تناسب سے بڑھیں تو کوئی مسئلہ نہیں، تاہم پاکستان میں گزشتہ کئی برسوں سے مہنگائی دوہرے ہندسے کی شرح سے بڑھ رہی ہے جبکہ آمدنی میں اضافے کی بجائے کمی ہو رہی ہے، جو مسئلے کی اصل بنیاد ہے۔
حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو بجلی کی قیمتوں میں کمی ممکن نہیں ہو گی، تاہم انہیں مستحکم رکھ کر آمدنی میں اضافے کے لئے اقدامات کرنے سے بحران کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔

حاصل بحث

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ دنیا میں تیل اور قدرتی گیس کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں، انسان کو ہر صورت متبادل ذرائع تلاش کرنا ہوں گے، ماہرین کے خیال میں مستقبل میں پانی کے بعد ہوا اور سورج سے ہی توانائی کی ضرورت کا زیادہ تر حصہ پورا کیا جائے گا۔ تاہم ان ذرائع سے توانائی کی خاطر خواہ پیداوار کے حصول میں ابھی کافی وقت لگے گا، اس وقت تک تو صورتحال ایسی ہے کہ ہوا اور سورج کی روشنی کو توانائی میں تبدیل کرنے کے لئے نہ صرف بہت زیادہ اخراجات آتے ہیں بلکہ اس کا حصول بھی مخصوص علاقوں اور موسموں تک محدود ہے۔
تاہم عوام کے لئے اچھی خبر یہ ہے کہ موجودہ حکومت نے انرجی پالیسی برائے 2013-18 میں 2017ء تک لوڈشیڈنگ کے مکمل خاتمے اور 2018ء تک پیداوار کو طلب سے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ حالیہ حکومتی اقدامات اس امر کی نشاندہی کررہے ہیں کہ حالات یونہی چلتے رہے تو حکومت یقیناً اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ رہی بات سستی بجلی کے حصول کی تو نئی انرجی پالیسی میں پہلی بار مہنگے فرنس آئل پر انحصار کم کرتے ہوئے ہائیڈل، گیس، کوئلے،اٹامک اور بائیو ڈیزل کو فروغ دینے کی بات کی گئی ہے، اس کے علاوہ سورج اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر ملکی و غیر ملکی کمپنیوں کو پرکشش مراعات کی پیشکش کی جا رہی ہے جس کے نتیجے میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں ریکارڈ اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ جو فی کس آمدنی میں اضافے کا باعث بنے گا، کئی دہائیوں سے مایوسی کا شکار عوام اب اچھے کی امید کر سکتے ہیں، اگر ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوگئی، چین سمیت دیگر ممالک سے ہونے والے تجارتی اور توانائی معاہدوں کی تکمیل میں اندرونی و بیرونی عوامل رکاوٹ نہ بنے تو روشن پاکستان کے دیرینہ خواب کی تعمیر کچھ زیادہ دور نہیں۔

Authors
  • Saba Saeed

    توانائی کا بحران ، محنت سے لکھا گیا آرٹیکل ہے لیکن تمام حکومتی دعوؤں اور اعلانات کے بجلی کا بحران کا خاتمہ نظر نہیں آتا ،بجلی بیانات سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے آتی ہے۔حکومت کو خوش کرنے کے لیے اچھا آرٹیکل ہے

  • Laila

    Politics seems to have
    ruined Pepco/Wapda…inconsistent policies, kickbacks (relying on costly
    private sector to generate electricity/while government plants closed which
    could be more efficient as near the grid/etc)

Top