Global Editions

تخلیقی صلاحیتوں کو کیسے اُبھارا جائے؟

ہم آخر کس طرح نئے تصورات حاصل کرسکتے ہیں۔ ہمیں اس پر عمومی انداز میں سوچنا ہے۔ ایک طریقہ تو یہ ہے کہ ہم ماضی میں پیش کئے گئے بہترین تصورات پر سوچیں کہ وہ کیسے وجود میں آئے۔ بدقسمتی سے تخلیقی عمل کا طریقہ واضح نہیں ہے حتیٰ کہ خود تخلیق کاربھی نہیں جانتے کہ یہ کیسے وجود میں آتے ہیں۔ لیکن اگر ایک ہی خیال یا تصور دو افراد کو ایک ساتھ یا الگ الگ آئے تو ان میں مشترک عنصر یہ ہے کہ دونوں کو ایک ہی خیال آیا۔ آپ چارلس ڈارون کے نظرئیے قدرتی انتخاب کو مثال کے طور پر پیش کر سکتے ہیں۔

ہمیں جوجاننے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ لوگوں کا کسی خاص شعبے کے بارے میں ذہنی پس منظر کیا ہے؟ بلاشبہ 19ویں صدی کے پہلے نصف میں بہت سے مادیت پرستوں نے اس کا مطالعہ کیا کہ افراد ایک دوسرے سے مختلف کیوں ہیں؟ آپ مالتھس ( Malthus) ہی کی مثال لیں، بہت سے لوگوں نے اسے کو پڑھا ہوگالیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ کسی نوع یا جنس اور مالتھس کو ایک ساتھ پڑھ کر ان دونوں میں تعلق پیدا کیا جائے۔

کسی دو باتوں میں تعلق جوڑنے سے نیا خیال پیدا نہیں ہو جاتا تاہم اگر ایسا کیا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ پرانے ہی تصور یا خیال کو نئے انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ نئے تصور یا خیال کو پیش کرنے کیلئے کچھ باتوں کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ یعنی نئے تصور کو معقول ہونا چاہئے۔ دلیل اور سوجھ بوجھ کے ساتھ بات کرنے والے شخص کو عام روش سے ہٹ کر ہونا چاہئے۔ نئے تصورات پیش کرنے والے شخص کواپنے شعبے میں مکمل مہارت حاصل ہوتی ہے اور وہ اپنی عادات میں غیر روائتی انداز میں سوچتا ہے۔نئے تصورات پر بات کرنے کیلئے جب آپ کچھ لوگوں کا انتخاب کرلیتے ہیں تو اگلا سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ کیا آپ انہیں اکٹھا کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ مل جل کر مسائل پر بات کرسکیں یا پھر آپ فرداً فرداً بات کریں گے اور انہیں الگ حیثیت میں کام کرنے دیں گے۔ اس بارے میں میرا خیال یہ ہے کہ تخلیقی صلاحیتوں کے ساتھ پوری طرح کام کرنے کیلئے تنہائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ تخلیقی صلاحیتوں کا حامل شخص کا ذہن مسلسل سوچنے میں مصروف رہتا ہے۔ اس کے پاس جو معلومات ہوتی ہیں وہ سوتے میں بھی انہیں کھنگالتا رہتا ہے۔ مثلاً کیکولے(Kekule) نے بینزینBenzene) (کا ڈھانچہ سوتے میں دریافت کیا تھا۔

تخلیقی عمل الجھا دینے والا عمل ہے ، اس دوران دوسروں کی اردگرد موجودگی اس عمل میں رکاوٹ بنتی ہے۔ کسی ایک اچھے نئے تصور کیلئے آپ ہزاروں کی تعداد میں بے وقوفی کی باتیں بھی سوچتے ہیں جنہیں آپ ظاہر نہیں کرنا چاہتے۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ جیسے اس تمام دماغی مشق کے دوران محض نئے تصورات پر سوچنا ہی نہیں ہوتا بلکہ اس عمل میں دوسرے کو ان کے بارے میں دلائل، حقائق، نظرئیے اور کبھی کبھار آجانے والے خیالات کے بارے میں بتانا بھی شامل ہے۔

سوال یہ ہے کہ آپ تخلیقی صلاحیتوں کے حامل لوگوں کو کس طرح سوچنے پر مجبور کرسکتے ہیں؟ اس کیلئے سب سے پہلے انہیں آسانی، سہولت، اعصابی سکون اور خیالات کو آزادانہ استعمال کرنے کا ماحول فراہم کرنا چاہیے۔ عام طور پر دنیا تخلیقی کام کو مسترد کرتی اور لوگوں میں تخلیقی صلاحیتوں کا حامل ہونا برا سمجھا جاتاہے۔ حتیٰ کہ لوگوں کی موجودگی میں سوچ بچار بھی ان کیلئے فکر کا باعث ہو جاتا ہے۔ اگر کوئی بے وقوفی کی باتیں سوچتا ہے تو ممکن ہے آپ اس کی حوصلہ افزائی نہ کریں لیکن آپ کے ایسا کرنے سے اس کی سوچ کو جو نقصان پہنچے گا وہ ناقابل تلافی ہو گا۔ چند باتیں ذہن میں رکھیں کہ بہترین مقاصد حاصل کرنے کیلئے ماحول کو غیر رسمی اور خوشگوار ہونا چاہیے، لوگوں کو ان کے پہلے نام سے پکاریں ، کچھ مزاح کا عنصر بھی باتوں میں شامل ہونا چاہیے، ان کی تخلیقی عمل میں شامل ہونے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ اس مقصد کیلئے کسی کانفرنس روم کی بجائے لوگوں سے ان کے گھر پر یا چائے کی میز پر ملاقات کی جائے۔ سب سے اہم بات ذمہ داری کا احساس ہے۔ عظیم تخلیقی خیالات ان لوگوں نے پیش کئے جن کی خدمات کو ان کی حیثیت کے مطابق رتبہ نہیں دیا گیا۔ انہیں یا تو استاد بنا دیا گیا یا پھر کلرک ۔

میں تخلیقی صلاحیتوں کو ابھارنے کیلئے چند دماغی مشقیں تجویز کروں گا۔اس کیلئے لوگوں کے مختلف گروہوں کو چھوٹے چھوٹے کام دئیے جائیں۔ جیساکہ انہیں رپورٹ کا خلاصہ لکھنے، نتائج اخذ کرنے، مجوزہ مسائل کے مختصر جوابات دینے کے کام سونپے جائیں اور ان کاموں کیلئے انہیں با قاعدہ ادائیگی کی جائے۔ہاں ایک بات مدنظر رکھی جائے کہ دماغی مشقوں کا عمل بغیر کسی رہنمائی کے نہیں ہونا چاہئے ۔ ان مشقوں کے دوران کسی کو نفسیاتی تجزیہ کار کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ نفسیاتی تجزیہ کار کو دماغی مشقوں کے دوران وقفے وقفے سے سوالات، اپنی رائے دیتے رہنا چاہئے اور لوگوں کو اصل موضوع کی طرف رہنمائی کرنی چاہئے۔

(آئیزک ایسموف 1920-1992نے یہ آرٹیکل اس وقت لکھا جب انہوں نے حکومت کے میزائل منصوبے میں کچھ عرصے کیلئے کام کیا)

تحریر: Isaac Asimov

عکاسی: ANDY FRIEDMAN

Read in English

Authors
Top