Global Editions

بیماریاں پھیلانے والے مچھروں کے خاتمے کا منصوبہ

بنی نوع انسان میں بھوک، جہالت، اقتصادی ترقی کی شدید ترین خواہش اور باہمی اختلافات نے کئی طرح کی انواع کو معدومی کے خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ اس ضمن میں اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسانی وجوہات کے لئے کیا مچھروں کی ایک قسم کا خاتمہ کیا جائے گا؟ مچھروں کی ایک خاص قسم جسے Aedes aegypti کہا جاتا ہے آجکل خبروں میں ہے اور اس کی وجہ ایک خاص مرض جسے زیکا وائرس کہا جاتا ہے کا پھیلائو ہے۔ مچھروں کی اس خاص قسم کو پہلے پیلا بخار پھیلانے کا سبب قرار دیا جاتا رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں ڈینگی وائرس کے پھیلنے کا سبب بھی مچھروؓں کی یہی قسم تھی اور اب زیکا وائرس جس کے سبب نوزائیدہ بچوں کے سر معمول کے مقابلے میں زیادہ چھوٹے ہوتے ہیں کے پھیلنے کا سبب بھی مچھروں کی یہی قسم بتائی جاتی ہے۔ Aedes aegypti ؎نامی ؎مچھروں کی یہ قسم کئی طرح کے خطرناک وائرس پھیلانے کا سبب ہےکیونکہ ہمارا اردگرد کا ماحول، ہمارے گھر اور ہم خود اسے وہ ماحول فراہم کرتے ہیں جن کے اندر یہ مچھر ان خطرناک وائرسز کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ چند سو سال قبل مچھروں کی یہ قسم صرف افریقہ کے چند مقامات تک محدود تھی تاہم اب یہ براعظم امریکہ، ایشاء، آسٹریلیا اور جنوبی پیسیفک تک پھیل چکی ہے۔ بنی نوع انسان طویل عرصے سے بیماریاں پھیلانے والے مچھروں کو تلف کرنے کے لئے سرگرداں ہے تاہم اب مچھروں کے باعث بیماریوں کے تدارک کی جنگ جیتے جانے کے امید پیدا ہو گئی ہے اور اس کے لئے جینٹنگ انجئیرنگ کی تکنیک استعمال کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس تکینک کے تحت وائرس پھیلانے والے مچھروں کی جنین میں اس طرح تبدیلی کی جائیگی جس کے تحت وہ ان خطرناک بیماریوں کے پھیلائو کا سبب نہ بن سکیں۔ تحقیق کاروں کے نزدیک اس تکنیک کے ذریعے مادہ مچھروں کے کروموسومز کو اس طرح تبدیل کیا جائیگا کہ وہ اڑنے کے قابل نہ رہ سکیں یا وہ صرف نر مچھر ہی پیدا کرسکیں۔ اس عمل سے نہ صرف بیماریاں پھیلانے کا سبب بننے والے مچھروں کو تلف کرنا ممکن ہو گا بلکہ مچھروں کی نسل بھی معدوم ہو جائے گی۔ اسی تکینک کے تحت ملیریا، ڈینگی یا دیگر بیماریاں پھیلانے والے مچھروں کو تلف کرنا ممکن ہو جائے گا۔

تحریر: زیچ اڈیلمان (Zach Adelman)

Read in English

Authors
Top