Global Editions

بھارت کا توانائی بحران

Indias-Enrgery-2

بھارت دنیا میں تیسرا بڑا ملک ہے جو فضا میں زہر آلود گیسیں خارج کرتا ہے۔ گیسوں کے اخراج کی اس شرح کو کم کرنے کیلئے بھارت کچھ ایسا کرنے کی کوشش کررہا ہے جو کوئی اور ملکنہیں کر رہا۔ بھارت کی کوشش ہے کہ فضا میں مزید زہر آلود گیسوں میں اضافے کئے بغیر صنعتی ترقی کا ہدف حاصل کیا جائے اور تمام آبادی کو بجلی کی سہولت فراہم کی جائے۔ اگرحساب لگایا جائے تو بھارت کو بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کیلئے ہر سال 15 گیگا واٹ ) 15000 میگاواٹ) اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت بھارت اپنی توانائی کی ضروریات کوئلے کے پرانے اور تھکے ہوئے پلانٹس سے پوری کررہاہے (اس کے ہاں تیل اور گیس کی پیداوار ملکی ضرورت سے بہت کم ہے) جبکہ بھارت کا توانائی کے حصول کا بنیادی ڈھانچہ بہت مایوس کن ہے۔ اس کے پاور گرڈ 2012 ء کو اپنی عمر پوری کرچکے ہیں جس کی وجہ سے بار بار بریک ڈاؤن ہونے سے 60 کروڑ لوگ اندھیرے میں ڈوب جاتے ہیں جبکہ اشیائے صرفکے شعبے کی حالت بھی بڑی پتلی ہے جو 70 ارب ڈالر قرض کے پہاڑ تلے دبا ہوا ہے۔

اگر کم تر معیار زندگی اور فضائی آلودگی میں اضافے کی صورتحال جاری رہتی ہے تو نہ صرف بھارت کیلئے بلکہ پوری دنیا تباہ کن خطرے سے دوچار ہو گا۔دوسری طرف دیکھیں کہ چین میں کیا ہورہا ہے۔ ورلڈ بنک اور سی اے آئی ٹی کلائمیٹ ڈاٹا ایکسپلورر (CAAIT Climate Data Explorer)کے اعدادو شمار کے مطابق چین میں 1980 ء سے لے کر 2010 ء فی کس آمدن 193 سے بڑھ کر 4514 ڈالرتو ہوگئی لیکن اس کے ساتھ ہی فضا میں آلودہ گیسوں کا اخراج 1.49 ارب میٹرک ٹن سے بڑھ کر 6 ارب میٹرک ٹن سے زائد سالانہ پہنچگیا ۔ اس وقت چین دنیا میں سب سے زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں چھوڑ رہا ہے۔ بھارت کا 2012 ء میں فی کس گیسوں کا اخراج 1.68 تھا ۔اگر بھارت چین کے راستے پر چلتاہے تو مزید 8 ارب میٹرک ٹن کاربن فضا میں شامل ہوگی جو 2013 ء میں امریکہ میں خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ سے زیادہ ہوگی۔

Indias-Enrgery-3

ہر سال ہونے والا یہ اضافہ پوری دنیا میں کاربن کی مقدار کم کرنے کی کوششوں کو دلدل میں دھکیل رہا ہے ۔ مجموعی طور پر دنیا بھر کے ممالک اس وقت 40 ارب ٹن زہر آلود گیسیں فضا میں خارج کررہے ہیں ،جسے 2050 ء تک 40 سے 70 فیصد کم کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ ممالک اپنی معیشت کو مضبوط کرنے اور اپنا معیار زندگی بلند کرنے کیلئے فوسل توانائی(Fossil Fuel) ،جیسے کوئلہ ہے ،پر زیادہ انحصار کرتے ہیں تاکہ امیر قوموں میں شمار ہو سکیں اگر یہ رحجان جاری رہا تو خواہ چین اور امریکہ اپنی زہر آلود گیسوں کا اخراج کم بھی کردیں، اس کا نتیجہ ماحول کی تباہی کی صورت میں ہی برآمد ہو گا۔ لہٰذا اس تمام عمل کو پیچھے لے جانے کیلئے بھار ت کو دو سوالوں کا سامنا ہے: پہلا یہ کہ بھارت بجلی کس ذریعے کو استعمال کرکے بنائے اور دوسرا اسے تقسیم کیسے کرے۔

Indias-Enrgery-4

توانائی کے سنگین مسئلے کو حل کرنے کیلئے بھارت کے وزیر توانائی پیوش گویال(Piyush Goyal) کو ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ گویال کو بھارت میں قابل تجدید توانائی کا چیمپئن قرار دیا جاتاہے۔ وہ قابل تجدید توانائی کے حصول کیلئے 100 ارب ڈالر اور ملک کے ناقص بجلی تقسیم کرنے کے نظام پر 50 ارب ڈالرخرچ کر رہے ہیں۔ تقریباً ہر ہفتے وہ اخبارات میں کسی شمسی توانائی ،ہوا کی توانائی سے بننے والی بجلی یا پن بجلی پلانٹ کا افتتاحی ربن کاٹتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

لیکن اس کے باوجود وہ کوئلے سے بجلی بنانے کا بہت بڑے حامی ہیں۔ وہ مارچ میں اسمبلی کی کارروائی کے دوران کوئلے کی کانوں میں توسیع کا بل پیش کرنے جارہے ہیں۔ جس میں وہ موقف اختیار کریں گے کہ کوئلے کی کانوں میں توسیع سے معیشت مضبوط ہوگی اورروزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے۔ کوئلہ توانائی کے حصول کا سستا ترین ذریعہ ہے اور بھار ت کی کوئلے کی صنعت تیزی سے پھیل رہی ہے ،بھارت کی 2008 ء سے لے کر اب تک کوئلے کی پیداوار دوگنا ہو چکی ہے۔ ورلڈ انرجی آؤٹ لُک کے مطابق بھارت میں توانائی کے حصول کیلئے کوئلے کا استعمال سالانہ 800 ملین ٹن ہے جو 2035 ء تک دوگنا ہوجائے گا۔گویال کا منصوبہ ہے کہ 2020 ء تک کوئلے کی پیداوار کو 66 کروڑ ٹن سے بڑھا کر ایک ارب 50 کروڑ ٹن تک لے جائے۔

Indias-Enrgery-5

بھارت کے سابق وزیر ماحولیات اور 2010 ء میں میکسیکو میں ہونے والی ماحولیاتی تبدیلی پر بین الاقوامی کانفرنس میں بھارتی وفد کا سربراہ جے رام رمیش(Jairam Ramesh) کا کہنا ہے کہ بھارت کی اصل الجھن ہی کوئلے کی پیداوارہے کہ اسے کم کیسے کیا جائے۔ اعداد وشمار کے مطابق بھارت کی 70 فیصد بجلی کوئلے سے حاصل کی جاتی ہے۔ تقریباً 17 فیصد پن بجلی سے، 3.5 فیصد توانائی نیوکلئیرپلانٹ سے، 10 فیصد کا انحصار قابل تجدید توانائی اور ہوا کی طاقت سے حاصل ہونے والی بجلی پر ہے۔

Indias-Enrgery-6

جے رام رمیش توانائی کے بارے میں اعدادوشمار بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگلے 25 سالوں میں ہم اپنی مجموعی پیداوار کا 18 سے 20 فیصدقابل تجدید توانائی سیپیدا کرسکتے ہیں جسے مزید کوشش کرکے 25 فیصد پر لے جائیں گے جبکہ پن بجلی کی پیداوار میں وقت لگتا ہیکیونکہ اس کیلئیلوگوں کو ان کی آبائی زمینوں سے ہٹانا پڑتا ہے ۔نیوکلیائی توانائی کا ملک میں حصہ اس وقت 3.5 فیصد ہے جسے ہم 5 سے 6 فیصد تک لے جاسکتے ہیں۔ ہم پن بجلی، شمسی توانائی، ونڈ پاور، ایٹمی توانائی کو جتنا چاہیں بڑھا لیں کوئلے سے پیدا ہونے والی توانائی کا حصہ پھر بھی 50 فیصد رہے گا۔ دوسرے الفاظ میں بھارت کو بجلی پیدا کرنے کیلئے کم یا زیرو کاربن پیدا کرنے والے نئے ذرائع استعمال کرنا ہوں گے بصورت دیگر بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق مجموعی طور پر پوری دنیا میں کاربن کا اخراج دوگناہوجائے گا۔

بھارت کی اس وقت شمسی توانائی کی اہلیت 4 گیگا واٹ ہیجس میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی 2022 ئتک 100 گیگا واٹ کا اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔ کچھ منصوبے اضافی بھی ہیں جو مجموعی طور 10 گیگا واٹ شمسی توانائی کے ہوں گے جن میں ہر منصوبہ 500 میگا واٹ کا ہوگا۔ دنیا کا سب سے بڑ ا شمسی توانائی کا 550 میگا واٹ کا پلانٹ کیلیفورنیا کے موجاوے صحرا(Mojave Desert) میں ہے۔بھارت میں 25بڑے منصوبے 2019 ء تک تیار ہوجائیں گے جن پر وفاقی حکومت 40 ارب 50 کروڑ روپے لگا رہی ہے۔ اسی طرح 75 گیگا واٹ کا منصوبہ ہوا کی طاقت سے بننے والی بجلی کا ہے۔ ان منصوبوں کی وجہ سے بھارت کی قابل تجدید توانائی 10 فیصد سے بڑھ کر 32 فیصد پر پہنچ جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی بھارتی حکومت نیوکلئیر توانائی کے پلانٹس بنانے کا منصوبہ بنا رہیہے جس کی اہلیت 2024 ء تک تین گنا ہو جائے گی جبکہ 2050 ء تک ملک کی توانائی کا چوتھائی حصہ نیوکلئیر توانائی سے پورا ہوگا۔ بھارت اپنی شمال مشرقی ریاستوں میں دریاؤں کی بہتات سے فائدہ اٹھا کر پن بجلی بھی پیدا کرناچاہتاہے۔ بھارت کی کم کاربن توانائی کا چوتھائی حصہ قدرتی گیس کا ہے۔ بھارت کے قدرتی گیس کے ذخائر تھوڑے ہیں اور سمندری راستے سے برآمد مہنگی پڑتی ہے۔ ایران کے ایٹمی ہتھیاروں پر بین الاقوامی معاہدہ ہونے سے پابندیاں ختم ہونے پر بحیرہ عرب کے گہرے پانیوں میں پائپ لائن بچھا نے سے بھارت کے توانائی کے منصوبوں میں نئی جان پڑ جائے گی۔

غیر ملکی کمپنیاں بھارت میں قابل تجدید توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے کیلئے تیار کھڑی ہیں۔ سوفٹ بینک اورجاپان نے بھارت کے شمسی توانائی کے منصوبوں میں حال ہی میں 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ لیکن یہ تمام منصوبے بہت زیادہ مہنگے ہیں اور ان پر سالانہ باقاعدہ منصوبہ بندی کی ضرورت ہے ۔ مودی کے پاس ریاستوں کو شفاف توانائی پر مجبور کرنے کا اختیار کم ہے۔ جبکہ قابل تجدید توانائی کیلئے جو قوانین بنائے گئے ہیں ان کو اکثر نظرانداز کردیا جاتاہے۔

Indias-Enrgery-9

اگرچہ بجلی تقسیم کارکمپنیوں کو مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ سستے داموں بجلی فروخت کریں۔ اس کے علاوہ ملک میں بجلی تقسیم کے فرسودہ نظام کو بھی جدید بنیادوں پر استوار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اگر ایسا کرلیا جاتا ہے اور مودی کے توانائی کے ایجنڈے پر عملدرآمد کے مواقع پیدا ہوجاتے ہیں تب بھی وہ کامیابی کے اتنے قریب نہیں ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تمام نئی قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کیلئے سرمایہ کہاں سے لایا جائے؟ کیونکہ ایک سو گیگا واٹ شمسی توانائی کیلئے کھربوں روپے کی ضرورت ہے۔ جس کیلئے حکومت کو بجلی کی قیمتوں میں اضافہ اور بھاری سرمایہ کاری کرنا پڑے گی۔

بھارت میں اس مقصد کیلئے کوئلے کی پیداوار پر 200 روپے فی ٹن ٹیکس لیا جاتا ہے جو قومی شفاف توانائی فنڈ (National Clean Energy Fund) میں چلا جاتاہے جو اب 2 ارب 60 کروڑ ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ اس میں سے کچھ نظام بنانے والوں اور ترقی دینے والوں کو چلا جائے گا۔ دوسری طرف بھارت کے وزیر خزانہ ارون جیٹلی (Arun Jaitley)مودی کی ہدایت پر بجٹ خسارہ کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں جو اس وقت جی ڈی پی کا 4 فیصد ہے۔ گویال نے لندن میں ماحولیاتی تبدیلی پر ہونے والی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مغرب نے دنیا اور اس سیارے کو جو نقصان پہنچایا ہے اسے اس کا خمیازہ بھگتا پڑے گا۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ بجلی کی کمی کو پورا کرنے کیلئے مودی اور گویال وہی کچھ کررہے ہیں جو مغربی ممالک نے کیا ۔
Indias-Enrgery-10
نریندر مودی کے شمسی توانائی کے منصوبوں کی راہ میں ایک اہم مشکل حائل ہے کہ بھارت قریباً تمام شمسی توانائی کے آلات بیرون ممالک سے منگواتاہے۔ اگر چہ بھارت نے ملکی صنعت کو فروغ دینے کیلئے ’’ہر شے ملک میں بنائیں‘‘ کی مہم شروع کررکھی ہے جس میں شمسی توانائی کے کل پرزے بھی شامل ہیں لیکن کمزور صنعتی ڈھانچے، بھاری سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی میں مہارت میں کمی کیباعث چین کی برآمدات کا مقابلہ کرنا مشکل ہے۔ مودی دیوالیہ یوٹیلٹی شعبے میں اصلاحات کرکے ،ملک کے پیداواری شعبے کو ترقی دے کر، بجٹ خسارے کو کم رکھ کراور معاشی ترقی کی رفتار کو 8 فیصد کی شرح پر رکھتے ہوئے نئی عالمی معیار کی توانائی انڈسٹری پیدا کرنا چاہتے ہیں ، بھارت کو کوئلے کی توانائی سے جان چھڑانے کے لئے بڑے شمسی توانائی کے منصوبے مکمل کرنا ہوں گے،شمال کے دریاؤں پر نئے ڈیم بنانا ہوں گے، نیوکلیئر پلانٹس پر سرمایہ کاری کر نا ہو گی اور گہرے سمندرمیں گیس پائپ لائن بچھانا ہو گی ۔جبکہ ٹرانسمشن لائنیں بچھانے کے لئیعلیحدہبھاری سرمایہ کاری درکار ہو گی ۔

بھارت میں دستیاب بجلی کے ذرائع کی خامیاں یہ ہیں کہ بھارت کا پاور گرڈ اچانک ہی چل پڑتااور پھر اچانک ہی فیل بھی ہوجاتاہے۔ بجلی کی چوری اکثر کی جاتی ہے اور بجلی چور کو ’’کاتیا باز‘‘ بھی کہتے ہیں ۔ بھارت میں تو قانونی کنکشنز سے بھی بجلی چوری کی جاتی ہے۔ بھارت کے تقریباً ہر شہر میں جھکے ہوئے بجلی کے کھمبوں پر الجھی ہوئی، آپس میں گتھی ہوئی لائنیں بڑا خستہ منظر پیش کرتی ہیں۔ بھارت میں تقسیم کے دوران بجلی کے لائن لاسز تقریباً 25 فیصد ہیں اور کچھ علاقوں میں تو یہ شرح 50 فیصد تک ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آدھی بجلی صارفین تک نہیں پہنچتی یا پھر صارف اس کی ادائیگی نہیں کرتے۔ ترقی یافتہ ممالک میں بجلی کے لائن لاسز بمشکل 10 فیصد تک ہیں۔ بھارت کے خستہ حال بجلی کی ترسیل وتقسیم کے نظام کیلئے قابل تجدید توانائی کی بڑی مقدار کو صارفین تک پہنچانا بھی بہت بڑا مسئلہ ہے۔

یہ حقیقت بھی بڑی تلخ ہے کہ بھارت کے تقریباً 40 کروڑ افراد کو بجلی کی سہولت ہی میسر نہیں ہے۔ زیادہ تر دیہاتی علاقوں کو بجلی فراہم نہیں ہورہی بلکہ گنجان آباد شہروں کو بھی یہ سہولت بہت کم میسر ہے کیونکہ عام شہریوں کو قومی گرڈ لائن سے منسلک ہونے کا خرچہ 105 ڈالرہے جو ہر کوئی برداشت نہیں کر سکتا، بجلی کا ماہانہ بل اس کے علاوہ ہے۔ پاور گرڈ کارپوریشن آف انڈیا قریباً 70 ہزار میل طویل ٹرانسمیشن لائنوں کو کنٹرول کرتاہے۔ بھارت کے گرڈ آپریٹرز اگلے چند سالوں میں 9 نئے راستوں پر ٹرانسمیشن لائنیں بچھانے کیلئے تقریباً 15 ارب ڈالر صرف ہوں گے۔ گویال کا خیال ہے کہ بجلی کی تقسیم پر 50 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے بھارت کا بجلی کا نظام مضبوط ہو جائے گا۔ ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ بجلی کی طلب میں تو کمی بیشی ہوتی رہتی ہے لیکن رسد وہی رہتی ہے۔ بھارت کو قومی سطح پر بجلی کا خسارہ سالانہ 5 فیصد ہے جس کا مطلب ہے کہ بھارت اپنی بجلی کی ضروریات 95 فیصد تک پوری کرتاہے۔ بعض بڑے شہروں میں یہ خسارہ 20 سے 25 فیصد تک بڑھ جاتاہے۔ جب بجلی کی کمی ہوتی ہے تو نیشنل پاور گرڈ بجلی کی فراہمی کم کردیتا ہے جس سے نئی دہلی سمیت بہت سے شہر اندھیرے میں ڈوب جاتے ہیں۔ بھارت میں بجلی کی غیریقینی صورتحال کی وجہ سے بھارت کی بڑی کمپنی مثلاً آئی ٹی کی انفوسیس(Infosys) بنگلور میں اپنے دفاتر کیلئے 50 میگا واٹ کا شمسی توانائی پلانٹ بنانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

Indias-Enrgery-11

اگر کسی وقت سورج کی روشنی دستیاب نہیں ہوتی یا ہوائیں مطلوبہ مقدار میں نہیں چلتیں تو اس صورت میں بھی بھارت میں کمپنیوں کو بجلی کی فراہمی میں توازن اور تسلسل برقرار رکھنے کیلئے بجلی کی تقسیم کاری کے نظام کو بہتر بنانا پڑے گا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس کیلئے سرمایہ وقت پر دستیاب ہو گا؟ عملی طور پر بجلی کی تقسیم کے نظام کو فروری میں عام آدمی پارٹی کی جیت نے اور مشکل بنا دیاہے۔ جو پانی اور بجلی کی قیمتوں میں بہت زیادہ کمی کی حامی ہے۔ اس نے اپنی انتخابی مہم میں بجلی اور پانی کی مفت فراہمی کا وعدہ کررکھا ہے خواہ اس کیلئے ملک کو کتنا ہی بڑا مالی بوجھ ہی کیوں نہ اٹھانا پڑے۔ عام آدمی پارٹی کے تحت دہلیکے رہایشیوں کو ماہانہ 20 ہزار لٹر پانی مفت ملے گا اور جو لوگ 400 کلو واٹ سے کم ماہانہ خرچ کریں گے انہیں 50 فیصد رعایت ملے گی۔ یہ رعایت حکومت کو سالانہ 16.7 ارب روپے میں پڑے گی اور اس سے نجی تقسیم کار کمپنیاں منافع پر کاروبار نہیں چلا سکیں گی۔
دہلی میں بجلی کی نجی تقسیم نجی کار کمپنیاں مالی طور پر ملک کی دیگر کمپنیوں سے بہتر حالت میں ہیں۔ توانائی کی سیاست کے تحت بھارت کے کسانوں کو لازماً مفت بجلی فراہم کی جاتی ہے۔ ٹاٹا پاور دہلی ڈسٹری بیوشن کمپنی کے سی ای او پراویر سنہا(Praveer Sinha) کا کہنا ہے کہ بجلی کی تقسیم کاری میں مجموعی نقصانات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ جس سے مودی کے اہدافپورا ہونے کے امکانات کم ہیں۔

Indias-Enrgery-12

گویال نے مئی 2015 ء میں نیشنل سمارٹ گرڈ مشن کا اعلان کیا جس کے تحت علاقائی اورمقامی گرڈ میں بہتری لانے کیلئے بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو 30 فیصد سے زائد امداد دی جائے گی۔ دو ماہ بعد ہی اس نے 20 سالہ بجلی کا قومی تقسیم کار نیٹ ورک منصوبے کا اظہار کیا جس میں قابل تجدید توانائی کی فراہمی کی صورت میں بین الریاستی تقسیم کاری کے اخراجات نہیں لیئے جائیں گے۔ اس مقصد کو پورا کرنے کیلئے بھارت کی نجی تقسیم کار کمپنیوں نے بہت سی ریاستوں میں بجلی کی قیمتوں میں 5 سے 45 فیصد تک اضافے کا اعلان بھی کردیاہے۔ اگر بھارت مکمل اصلاحات چاہتاہے تو اسے بجلی کی تقسیم کاری میں سیاسی مداخلت کو ختم کرنا ہو گا، مکمل نجکاری کرناہوگی اور اس کے ساتھ کسانوں کو مفت بجلی کی فراہمی ختم کرنا ہوگی۔

شہروں میں نجی تقسیم کارکمپنیاں جدت کی طرف مسلسل قدم بڑھا رہی ہیں اور گاہکوں کو بجلی چوری کرنے کی بجائے اس کی ادائیگی کرنے پر آمادہ کر رہی ہیں۔ اس مقصد کیلئے ٹاٹا پاور کمپنی نے بہت سے سماجی پروگرام شروع کئے ہیں جن میں مفت زندگی کا بیمہ، عام خواندگی اور پیشہ وارانہ تعلیم شامل ہیں تاکہ لوگوں کو بجلی چوری سے روکا جائے۔ ٹاٹا تقسیم کار کمپنی نے دہلی کے شمال مشرقی علاقے پٹم پورہ میں خواندگی کا پروگرام شروع کیا ہے جس میں درجنوں خواتین تعلیم حاصل کررہی ہیں ان میں سے ایک خاتون کُسم(Kusum) نے بتایا کہ . ’’ اس کے خاندان اور چند ہمسایوں نے حال ہی میں بجلی کا بل ادا کرنا شروع کیا ہے۔ کاتیا بازی کا نظام تو اب بھی چل رہا ہے لیکن ہم نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ یہ غلط ہے ،یہ تو ہماری زندگی کا حصہ ہے‘‘۔ اس کا شوہر دیہاڑی دار مزدور ہے۔ وہ اس وقت کام کرتا ہے جب اسے کوئی ملازمت مل جاتی ہے۔ کسم (Kusum)کے خاندان کی ماہانہ آمدنی 10 ہزار روپے ہے ، اس خاندان میں شوہر، ان کے تین بیٹے، ایک بیٹی شامل ہے جو 150 سکوئر فٹ کے کمرے میں رہتے ہیں۔ اسی محدود آمدنی میں سے یہ خاندان 510 روپے بجلی کا بل ادا کررہا ہے۔ کسم نے بتایا کہ اس سے زندگی اور مشکل ہو گئی ہے لیکن میں زندگی خوف میں بسر نہیں کرسکتی۔ ہم اب اپنے آپ کو زیادہ محفوظ اور پرامن محسوس کررہے ہیں اور ہمیں بجلی چوری نہ کرنے کا فخر بھی حاصل ہوا ہے۔

شمسی توانائی کا بلبلہ
بھارت کا اپاپور گاؤں چیتوں کی پناہ گاہوں کے درمیان آباد ہے۔ وہاں کے حقیقی مسائل چیتے، سانپ اور جنگلی سور ہیں۔ چیتے سالانہ 10 سے 15 گائے اور بھیڑیں لے جاتے ہیں ،جنگلی سورکسانوں کے چھوٹے کھیتوں کو روند کے رکھ دیتے ہیں جبکہ گھاس میں چھپے زیریلے سانپ اندھیرے میں راہ چلتوں کو ڈس لیتے ہیں۔ ان خطروں کو 100 واٹ بجلی کے پینل نے کچھ کم کیا ہے۔ چھوٹے شمسی توانائی کے پینلز نے ان علاقوں میں اہم ترین تبدیلی تعلیم اور سماجی زندگی میں کی ہے۔ بچوں کو رات پڑھنے لکھنے کیلئے روشنی میسر ہوتی ہے۔ گاؤں میں چند ایک ٹی وی بیرونی دنیا کے بارے میں جاننے کا سبب بھی بنے ہوئے ہیں۔ تاحال اپاپور میں انٹرنیٹ اور کمپیوٹرز نہیں پہنچے۔ گلیوں اور بازاروں میں نصب روشنی کے پینلز سے لوگوں کو سماجی زندگی میں قریب آنے اور گاؤں کے مسائل پر بات کرنے کا موقع ملا ہے۔ جو کم ازکم مٹی کیتیل کی روشنی میں ممکن نہیں تھا۔ اپاپور گاؤں کے مکھیا(سردار) اور ایک کمرے کے سکول کے منتظم مالئیاہ توکالا(Mallaiah Tokala کی پوتی ٹی جے لکشمی نے بتایا کہ ہم اب اپنے ہمسایوں سے بات کرسکتے ہیں، ہمیں زیادہ تحفظ محسوس ہوتاہے اور رات کو باہر جانے سے ڈرتے نہیں ہیں۔

اب اس گاؤں کا مسئلہ پانی کی فراہمی کا ہے۔ حکومت کے کچھ لوگ کنویں کی کھدائی کیلئے آئے ، انہوں نے کنواں بھی کھودا، اردگرد شمسی توانائی کے پینل بھی لگائے لیکن یہ پینلز پانی کھنچنے کیلئے ناکافی تھے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ مزید شمسی پینل لگائیں گے لیکن اس بات کو ایک سال ہوچکاہے۔ بھارت میں ہزاروں گاؤں میں ابھی تک بجلی نہیں پہنچی اور لوگ اندھیروں میں رہ رہے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر گاؤں کو کبھی بھی نیشنل گرڈ سے بجلی نہیں ملے گی ان کے پاس قابل تجدید توانائی کے چھوٹے گرڈ ، ڈیزل جنریٹرز اور شمشی پینلزہی رہ جاتے ہیں۔ کچھ کمپنیاں تو بھارت سمیت جنوبی ایشیاء میں چھوٹے شمسی توانائی کے پلانٹ پھیلارہی ہیں۔ ان میں ویژنری لائیٹنگ اینڈ انرجی (Visionary Lighting and Energy)اور گرین لائیٹ پلانیٹ(Greenlighting Planet) کی کمپنیاں شامل ہیں۔

چھوٹے پیمانے کے شمسی توانائی کا کاروبار گھاٹے میں جا رہاہے۔ یہ حقیقت ہے کہ پیسہ تو بڑے پیمانے پر کاروبار کرنے میں ہے جیسے حکومتی شمسی توانائی پارکس ہیں۔ بھارت میں شمسی توانائی کے منصوبے شروع کرنے کی دوڑ شروع ہوچکی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سال 2.5 گیگا واٹ شمسی توانائی بجلی کے نظام میں داخل کی جائے گی۔ یہ 2014ء میں دوگنا سے زیادہ ہے نیشنل سولر مشن کے پہلے مرحلے پر بھارتی حکومت 15 گیگا واٹ کے منصوبے شروع کرنے کیلئے بولی لگا رہی ہے۔ پہلی ہی بولی بہت نمایاں تھی۔ بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں کینیڈا کی کمپنی سکائی پاور(Sky Power) نے 5.05 روپے فی کلوواٹ آور بولی دی۔ یہ بولی 300 میگا واٹ شمسی توانائی کیلئے تھی۔ اس سے دیگر کمپنیوں کی بھی حوصلہ افزائی ہوئی اگلے 2200 میگا واٹ کیلئے 7.04 روپے کی بولی پر معاہدے ہوئے۔ دوسرے الفاظ میں کمپنیاں بھارت میں شمسی توانائی کے منصوبوں کیلئے کم قیمت پر بولی دے رہی ہیں۔ بھارتی حکومت نے سرمائے کی کمی پوری کرنے کیلئے نجی سرکاری شراکت داری کے منصوبے بھی شروع کئے ہیں۔

Indias-Enrgery-13

تبدیلی تو پہلے ہی شروع ہوچکی ہے۔ جنوبی بھارت کے شہروں مثلاً بنگلور میں بہت سے گھروں کی چھتوں پر پانی کی ٹنکیاں شمسی توانائی کے پینل سے گرم کی جاتی ہیں۔بہت سی ریاستوں میں گھروں کی چھتوں پر اب شمسی توانائی کے پینلز نظر آتے ہیں۔ بھارت کے ہر گاؤں کے راستوں پر بیٹری اور انورٹر کے بل بورڈ اور بینرز لگے ہوئے ہیں۔ جس سے بھارت میں ایک نیا توانائی کا نظام ابھر رہا ہے۔ میٹیریل انجنئیرنگ کے پروفیسر پراوین راما مورتی(Praveen Ramamurthy) کا کہنا ہے کہ کوئی بھی یہ چیک نہیں کررہا کہ شمسی توانائی کے آلات کب تک چلیں گے۔ ہم اگرچہ شمسی توانائی کی پینلز خرید لیتے ہیں لیکن وہ تو یورپ اورامریکہ کے ماحول کے مطابق بنے ہوئے ہیں ہم نے تو صرف اسے اختیار کیا ہے۔ بھارت میں شمسی پینلز کو جو خطرات لاحق ہیں ان میں فضائی نمی، شدید گرمی ہیں جس کی وجہ سے شمسی پینل پر موجود پلاسٹک پگھل جاتا ہے۔ گرد اور زنگ لگنا بھی اہم مسائل ہیں۔ راما مورتی ان تمام خطرات کو سامنے رکھتے ہوئے شمسی پینلز کے فوٹو وولٹائیک سیلوں (Photovoltaic Cells) کو بچانے کیلئے کثیر سالمی مخلوط شیٹ (Polymer Composites)تیار کررہے ہیں۔ شمسی وولٹائیک سیلوں سے تو توانائی حاصل ہوتی ہی ہے لیکن اگر شمسی مرتکز توانائی (Concentrated Solar Power) دیگرمقاصد کیلئے بھی استعمال ہوسکتی ہے ۔ مثلاً بھارت میں اینٹیں بنانے کیلئے لکڑی کا بے تحاشا استعمال کیا جاتاہے جس سے ایک تو جنگلات کم ہورہے ہیں دوسرے کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں پھیل رہی ہے۔ اس مقصد کیلئے شمسی مرتکز توانائی کا استعمال ماحول کیلئے نعمت ثابت ہوگا۔

بھارت میں ماحول کو درپیش اتنے بڑے چیلنجز ہیں کہ یہ چھوٹی چھوٹی کوششیں ناکافی محسوس ہوتی ہیں۔ بھارت میں خستہ حال بجلی کی تقسیم کا نظام، کوئلے پر شدت سے انحصار سرکاری سطح پر رعائتیں دینا اور توانائی کے شعبے میں سرکاری مداخلت سے تو یوں لگتا ہے کہ جیسے بھارت کو توانائی اور ترقی کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گااور ایک ہی صورت رہ گئی ہے کہ ماحول کو تباہ ہونے دیا جائے۔تاہم زمینی حقائق خاصے پیچیدہ اور قدرے تاریک ہیں۔ دلی میں قائم تھنک ٹینک سنٹر فار سٹڈی آف سائنس، ٹیکنالوجی اینڈ پالیسی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر انشو بھردواج(Anshu Bharadwaj) کا کہنا ہے کہ سب سے موثر طریقہ یہ ہے کہ پورے ملک میں دیہات کے قریب 100 کلوواٹ یا ہاف میگا واٹ کے منصوبے لگائے جائیں۔

اگلے 50 سالوں میں بھارت کی توانائی کے مسائل کو شمسی توانائی کے پینلز، قابل تجدید توانائی اور چھوٹے گرڈ قائم کرکے ہی حل ہوں گے۔ آپ بھارت کے ہر گاؤں اور جھونپڑی تک گرڈ سے بجلی نہیں پہنچا سکتے لیکن آپ بھارت کی توانائی کی ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے اتنی بڑی تعداد میں شمسی توانائی کے منصوبے بھی شروع نہیں کرسکتے۔ اہم سوال یہ ہے کہ بھارت میں ریاستوں، شہروں اور دیہات کی سطح پر کس طرح کام کا آغاز کیا جائے؟یہ ریاست بہار میں ٹاٹا سنٹر فار ٹیکنالوجی (TATA Centre for Technology)اور ایم آئی ٹی (MIT) کے سائنسدانوں نے اس پر پہلے ہی کام شروع کردیا ہے۔ بہار کی ریاست زیادہ تر دیہی علاقوں پر مشتمل ہے جس میں تقریباً 10 کروڑ لوگ آباد ہیں جو قابل بھروسہ بجلی پر انحصار کرتے ہیں۔ ریاستی بجلی کی کمپنی رعائتوں کے سبب تقریباً دیوالیہ ہوچکی ہے اور گرڈ پر بجلی کا نقصان تقریباً 50 فیصد تک بڑھ گیا ہے۔

ایم آئی ٹی کے پروفیسر اور ریفرنس الیکٹریفکیشن ماڈل کے سربراہ اگناشیو پیریز آریاگا(Ignacio Perez-Ariaga) نے مصنف کو بتایا کہ اس نے ایک گاؤں کا دورہ کیا جس میں بجلی نہیں تھی اور اس سے محض 100 میٹر دور گاؤں بجلی سے روشن تھا ۔ اس بات نے مجھے الجھن میں مبتلا کردیا۔ ممکن ہے اس گاؤں کو اگلے ماہ یااگلے دس برسوں میں بجلی مل جائے یا پھر کبھی بھی نہ ملے۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت توانائی کے شعبے کو ترقی دینے اور جدید بنانے کے ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔ جے رام رمیش کا کہنا ہے کہ بھارت میں امریکہ اور چین کا ماڈل نہیں اپنایا جا سکتا جس کے مطابق کمپنیوں کو کہا جاتا ہے کہ آج کام شروع کرو ادائیگی پھر کردینا۔

تحریر: رچرڈ مارٹن

عکاسی: SAMI SIVA

Read in English

Authors
Top