Global Editions

بھارت آن لائن تعلیم کے میدان میں

بھارت میں آن لائن تعلیم کی طرف تیزی سے رحجان بڑھ رہا ہے۔ آن لائن تعلیم کا میدان اگرچہ بھارت کیلئے نیا ہے لیکن بھارت میں آن لائن تعلیم کو کیرئیر خصوصاً ٹیکنیکل کے شعبوں سے منسلک کیرئیر میں تیزی لانے کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔ بھارت میں آبادی کے تناسب سے یونیورسٹیاں بہت کم ہیں اس کے ساتھ روائتی طریقہ تعلیم بھی ایک مسئلہ ہے۔ اس لئے وہاں پر طلباء اور اساتذہ ابھی بیرون ملک آن لائن تعلیم کے بارے میں معلومات حاصل کر رہے ہیں۔ بھارت کے طلباء خوشحال زندگی کیلئے پڑھنا چاہتے ہیں۔اگر آپ ساری زندگی خوار ہوتے رہے ہیں تو اب موقع ہے کہ آپ بہترین افراد کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلیں۔اعدادوشمار کے حوالے سے جائزہ لیا جائے تو امریکی آن لائن تعلیم فراہم کرنے والی کمپنی کورسیرا (Coursera)میں بھارت کے طلباء کی تعداد 8فیصد ہے جبکہ ایڈیکس (edX)میں 12فیصد ہیں۔ ظاہر ہے کہ مُوکس میں سب سے زیادہ کمپنیاں امریکہ کی ہیں، اس کے بعد چین کا نمبر آتا ہے جبکہ بھارت میں مقامی ٹیکنیکل یونیورسٹیاں فری ویڈیو ٹیپ لیکچرز کے ذریعے 700کے قریب کورسز کروا رہی ہیں۔

بھارت میں آن لائن مُوکس کے ذریعے تعلیم حاصل کرکے معاشرے میں اعلیٰ مقام حاصل کرنے کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ جن میں ایک مثال گورو گویال (Gaurav Goyal)کی بھی ہے۔ انہوں نے 2008ء میں ملک کا مشکل ترین امتحان آئی آئی ٹی جوائنٹ ایکسٹرینس ایگزام (IIT Joint Extrance Exam)پاس کیا۔ اس سال 3لاکھ طلباء نے امتحان میں حصہ لیا اور صرف 8652طلباء اسے پاس کرسکے۔ انہوں نے آئی آئی ٹی میں بہت سے مینجمنٹ کورسزکئے اور پہلی ملازمت وائپرو (Wipro)میں کی۔ وائپرو بھارت کی ملک سے باہر آئی ٹی کی بڑی اور نمایاں کمپنیوں میں سے ایک ہے۔ گویال نے 2014ء میں امریکی مُوکس کمپنی کورسیرا (Coursera)سے آن لائن ڈیٹا سائنس میں داخلہ لیا جس کے تمام لیکچرز جانز ہوپکنزیونیورسٹی (Johns Hopkins University )کے پروفیسرز دیتے ہیںاب وہ برطانوی صارفین کے تجزیہ کی کمپنی ڈن ہمبی (Dunnhumby)کے نئی دلی میں موجود دفتر میں سینئر ڈیٹا تجزیہ کار کے طور پر کام کرتے ہیں۔

امریکہ اور یورپ میں جب 2012ء میں مُوکس کو بڑے پیمانے پر چلایا جانے لگا تو ان کی کارکردگی توقع سے کم رہی۔ ترقی یافتہ ممالک میں مُوکس تاریخ، نفسیات یا دیگر مضامین میں زیادہ طلباء کے داخلوں کی متلاشی ہوتے ہیںوہ بہت سی کلاسوں میں داخلہ بھی لیتے ہیں لیکن کچھ سیشنز کے بعد تعلیم ادھوری چھوڑ دیتے ہیں۔

بھارت میں صورتحال اس کے برعکس ہے۔ سی ای او کورسیئرا رِک لیون(Rick Levin)کہتے ہیں کہ بھارت میں کالج کے طلباء یورپ اور امریکہ کے آن لائن کورسز میں بڑی تعداد میں حصہ لے رہے ہیں۔ انہیں امید ہے کہ ٹیکنیکل کورسز انہیں بہتر ملازمتیں دلوا سکتے ہیں۔

بھارت میں طلباء آئندہ امتحانات میں اپنی کامیابی کا اندازہ کرنے کیلئے بھی آن لائن ٹیسٹ کے 29سے 250ڈالر تک عموماً ادا کردیتے ہیں۔ امریکی مُوکس کمپنی ایڈ ایکس (edX)کے چیف ایگزیکٹو اور ایم آئی ٹی میں الیکٹریکل انجینئرنگ اور کمپیوٹر سائنس کے پروفیسر اننت اگروال(Anant Agarwal)کہتے ہیں کہ مجھے امید ہے کہ مستقبل میں بھارت مُوکس کیلئے امریکہ سے زیادہ بڑی مارکیٹ ثابت ہو گا۔ بھارت کے ذہین ترین طلباء آئی آئی ٹی میں ٹیکنیکل کی بہترین تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ جبکہ طلباء کی خاصی تعدادریاستی سپانسر شپ اور نجی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم ہے۔ تاہم بھارت کے 35000کالجز بین الاقوامی سطح کی کمپنیوں کے ہاں رجسٹر نہیں ہیں۔ بیرون ممالک میں ملازمتوں کے خواہشمند بھارتی سائنسدان اور انجینئرز اپنی درخواستیں آن لائن بھیجتے ہیں۔

کورسئیرا کے 10میں سے 8کورسز ٹیکنیکل کی اعلیٰ تعلیم پر مشتمل ہیں۔ کورسیرا ، بھارت میں اینڈرائیڈ آلات اور موبائل کیلئے ایپلی کیشنز کا کورس بھی کروارہی ہے جو میری لینڈ یونیورسٹی (University of Maryland )کے پروفیسرز کی نگرانی میں کروایا جاتا ہے۔ اس کے بعد یونیورسٹی آف مشی گن (University of Michigan ) اور رائس یونیورسٹی (Rice University )کی پروگرامنگ کلاسز بھی بھارتی طلباء کیلئے دلچسپی کا باعث ہیں۔

کورسئیرا کے ایگزیکٹو کبیر چڈھا (Kabir Chadha )بھارت کی بڑی کمپنیوں کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ ملازمین کیلئےسکریننگ کرتے وقت کورسئیرا کے سرٹیفکیٹ کو قبول کریں۔ بین الاقوامی کمپنیاں مثلاً گوگل(Google)، وائپرو(Wipro)، انفوسیس(Infosys)، مائیکروسوفٹ (Microsoft)اور انفینیون(Infineon)انڈین انجینئرز کے آن لائن حاصل کردہ سرٹیفکیٹس کو قبول کررہی ہیں۔ ہزاروں بھارتی انجینئرز لنکڈ ان (Linkedin) کے ذریعے سٹینفورڈ (Stanford)، ایم آئی ٹی (MIT)، کارنیگی میلن(Carnegie Mellon) میں آن لائن کورسز کیلئے درخواستیں دے رہے ہیں۔

ایڈکس کے اننت اگروال کو جب چار سال پہلے آن لائن کورسز کا طریقہ کار بنانے کا موقع دیا گیا توانہوں نے ایم آئی ٹی میں الیکٹرانک سرکٹس کے آن لائن سرٹیفکیٹ 6.002xکا کورس ترتیب دیا۔ جس میں پوری دنیا سے 2012ء میں ایک لاکھ 55ہزار طلباء نے شرکت کی جس میں سے صرف انڈیا سےطلباء کی تعداد 50

ہزار تھی ۔

اسی کورس کے ایک سابق طالبعلم شریا س جے پرکاش(Shreyas Jayaprakash)کہتے ہیں کہ میں ایم آئی ٹی کا آن لائن طالبعلم ہونے میں بہت فخر محسوس کرتا ہوں۔جے پرکاش نے بنگلور میں ایم آئی ٹی سے تعلیم حاصل کرتے ہوئے الیکٹرانک انجینئرنگ کے کورس 6.002xمیں 99فیصد نمبر حاصل کئے آج وہ اواگو ٹیکنالوجی (Avago Technologies)بنگلور آفس میں ڈیزائن انجینئر کی حیثیت سے کام کررہے ہیں جہاں وہ ان چپس کا جائزہ لیتے ہیں جو ڈیل(Dell)، سسکو(Cisco) اور فیس بک سرور (Facebook Server )کیلئے استعمال ہوتی ہیں۔

اسی طرح ایشوتھ ریگو(Ashwith Reg o)کہتے ہیں کہ کورس 6.002xنے میرے بہت سے مسائل حل کئے۔ اس میں موجود ایک سوال نے مجھے اوسیلوسکوپ (Oscillo scope)کے بارے میں سمجھنے میں مدد دی جبکہ ایک دوسرے سوال نے مجھے کار سسپنشن سسٹم کے بارے میں سمجھایا۔ اوہائیو یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پرورفیسر جم فائولر(Jim Fowler)کورسئیرا میں مقبول عام کورسر کیلکولس(Calculus)پڑھاتے ہیں۔ سوریا پرکاش نے مُوکس کے ذریعے ہی فائولر سے کیلکولس کا کورس کرکے ایلیٹ انجینئرنگ کالج جے پور میں داخلہ کا امتحان اعلیٰ نمبروں سے پاس کیا۔

کمپیوٹر سائنس کے طالبعلم مہیش کمار ہرمتھ (Mahesh Kumar Hermith )کہتے ہیں کہ وہ مُوکس کے لیکچرز آپ کو امتحان میں حقیقتاً مدد کرتے ہیں۔ بی ایم ایس میں میڈیکل الیکٹرانکس (Medical Electronics )اور بائیو میڈیکل انجینئرنگ (Biomedical Engineering)کی طالبعلم چترا چندر شیکھر (Chitra Chandar Shekhar ) کہتی ہیں کہ میرے خاندان میں خاصے لوگ اپنی آن لائن ڈگریوں کے سبب کمپیوٹر سائنس سے وابستہ ہیں۔

بھارت کے وسیع رقبے اور تیزی سے ہونے والی ترقی کے باوجود وہاں پر پروفیسرز کی کمی ہے۔ اس سال بھارت میں 3.2ملین طلباء نے انجینئرنگ میں داخلہ لیا لیکن انہیں تدریس کرنے کیلئے ماہرین کی مناسب تعداد موجود نہیں۔ کمپیوٹر سائنس کے پروفیسر دیپک پاٹھک(Deepak Phatak)کہتے ہیں کہ اس مسئلے کے حل کیلئے ہمیں آن لائن تعلیم کیلئے زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ پاٹھک آن لائن تدریس کیلئے ویڈیو کلاسز بھی لیتے ہیں۔ پاٹھک کہتے ہیں کہ بھارت کی یونیورسٹیوں کی ترجیحات کو نئے سرے سے ترتیب دینا مشکل ہے تاکہ بھارت کے پروفیسرز کوجدید ٹیکنالوجی کو اپناتے ہوئے عالمی معیار کی مُوکس بنانے میں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔ وہ آل انڈیا کونسل فارٹیکنکل ایجوکیشن کے ساتھ کام کرچکے ہیں۔

بھارت کی ترجیح ہے کہ امریکہ سے مُوکس درامد کرنے کی بجائے ملک ہی میں عالمی معیار کی مُوکس بنائی جائے۔ اس مقصد کیلئے بھارت کی انسانی وسائل و ترقی کی وزارت نےمُوکس کیلئے سوائم (Swayam)کے نام سے پلیٹ فارم بنایا ہے۔ بھارت کے طلباء امریکی انداز کے مُوکس سوائم کے بارے میں بہت پرجوش ہیں۔ آئی آئی ٹی دہلی میں پروفیسر گوتم شروف (Gautam Shroff )نے کورسئیرا کی طرز پر مُوکس بنانے کا فیصلہ کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی فیلڈ میں طالبعلم کا گہرائی سے جائزہ نہیں لیا جاسکتا۔ ان کا خیال ہے کہ مُوکس کے طلباء کو اپنے مضامین کے بارے میں سرسری سی آگاہی ہوتی ہے وہ اسے گہرائی سے نہیں پڑھ سکتےلیکن یہ بھی کوئی بُری بات نہیں ہے۔ ان کے خیال میں مُوکس میں تدریس کرنا کورس پڑھانے کی بجائے ایک مختصر کتاب لکھنے کی طرح ہے۔

تحریر:جارج اینڈرز (George Andres)

Authors
Top