Global Editions

بچوں کے افعال :مصنوعی ذہانت پر تحقیق کیلئے ایک نیا طریقہ

مصنوعی ذہانت پر دنیا بےشمار لیبارٹریز اور یونیورسٹیوں میں تحقیق ہو رہی ہے لیکن نئی کمپنی جیومیٹرک انٹیلی جنس میں بالکل مختلف انداز میں اس پر کام کیا جارہا ہے۔ جیومیٹرک انٹیلی جنس میں ادراکی سائنس، روبوٹکس اور علم امکانیات کے اشتراک سے مصنوعی ذہانت پر کام ہورہا ہے۔ اس کے روح رواں گیری مارکوس ہیں۔ ایک ادراکی سائنس (Cognitive Science)کے ماہر کا ٰخیال ہے کہ بچوں کے طرز عمل کا جائزہ لینے سے مشینوں کے سیکھنے کے عمل کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔پینتالیس سال کے گیری مارکوس نیویارک یونیورسٹی میں نفسیات کے پروفیسر اور مین ہٹن میں نئی کمپنی جیومیٹرک انٹیلی جنس(Geometric Intelligence)کے بانی ہیں۔ وہ اپنے دو سالہ بیٹے کی ذہنی ترقی دیکھ کر خوش ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ جیسے ان کے بیٹے نے سیکھا ہے مشینیں بھی اسی طرح سیکھ سکتی ہیں۔ مارکوس کا ذہنی پس منظر مصنوعی ذہانت کے بارے میں بہت سے کمپیوٹر سائنسدانوں اور ریاضی دانوں سے مختلف ہے۔ انہوںنے کئی دہائیاں انسانی ذہنوں کے کام کرنے کے طریقے کا مطالعہ کرنے میں صرف کردیں کہ بچے کس طرح زبان یا موسیقی سیکھتے ہیں۔ اس مطالعہ نےان کےاس یقین میں اضافہ کردیا کہ اگر تحقیق کاروں کو مشینوں کو ذہانت سے کام کروانا ہے تو انہیں بچوں کے نئے کام سیکھنے کے طریقوں سے مدد لینی ہو گی۔ یہی تصور ان کے نئی کمپنی کی بنیاد بنا۔ مشین کے سیکھنے کے اس نئے انقلابی عمل کے تصور کے ساتھ جیو میٹرک انٹیلی جنس کمپنی کا مقصد مصنوعی ذہانت کیلئے سیکھنے کا نیا اور بہتر راستہ بنانا ہے۔

آج کل، گوگل (Google)سے لے کر بیدو(Baidu)تک، ہر کوئی مصنوعی ذہانت کو کاروباری مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ اسی لئے ہر کوئی کمپیوٹر کے حسابی قواعد کی مدد سے مسائل کے حل پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے جس کی بنیاد دماغ کے نیورونز اور ان کے عصبی اشاروں پر مبنی ہے۔ اس تصور کو "بذریعہ تیکنیکس سیکھنے کا عمل" یا گہری آموزش (Deep Learning)کہاجاتا ہے جس سے حالیہ برسوں میں بڑے حیران کن نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ بذریعہ تیکنیکس سیکھنے کےعمل کے طریقے میں تصاویر یا بولے گئے لفظوں کی شناخت میں کمپیوٹر انسانوں سے بھی آگے نکل چکاہے۔ گوگل ، فیس بک اور دیگر بڑی کمپنیاں بہت بڑے ذخیرہ معلومات میں ربط و تعلق اور تنظیم پیدا کرنے کیلئے اس طریقے کو استعمال کررہی ہیں۔ لیکن کیا دماغ کے افعال کی مانند کام کرنے والی مشینی گہری آموزش کا مرحلہ اتنا آسان ہے؟

جیومیٹرک انٹیلی جنس کے بانی مارکوس کا کہنا ہے کہ کمپیوٹر سائنسدان انسانی دماغوں کے کام کرنے کے طریقوں کو نظر انداز کرکے ایک بہت بڑا موقع ضائع کررہے ہیں۔مارکوس اپنی تحریر و تقریر اور میڈیا میں بیانات میں گہری آموزش کا بہت شدت سے حامی ہیںلیکن اس کے باوجود وہ متبادل نظریات پر بھی بات کرتے ہیں۔ محققین ایسی مشین ایجاد کرنے کی کوشش کررہے ہیں جو قدرتی انداز میں لوگوں سے بات کرے اور ان کے کام کرے وہ اپنی مشینوں کو لاتعداد آموزشیں فراہم کرتے ہیں۔ یہ کام شاید نہایت آسانی سے سرانجام دیا جاسکتا ہے لیکن ادراکی سائنس کے ماہرین کہتے ہیں کہ یہ وہ طریقہ نہیں ہے جس کے تحت انسانی دماغ زبان سیکھتے ہیں۔

اس کے برعکس دوسال کے بچے کا ذہن اپنے قیاس اور عمومی اندازوں سے سیکھتا ہے۔ اگرچہ بچے کی یہ آموزش نامکمل ہوتی ہے لیکن کمپیوٹر سے کہیں شفاف اور حساس ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ انسانی دماغ بہت بڑے ذخیرہ معلومات میں سے متعینہ طریقوں سے زیادہ جاننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ حتیٰ کہ دماغ تھوڑی سی معلومات سے واضح تصویر کشی کرسکتا ہے۔ مشینوں میں سیکھنے کا عمل تیز کرنا بہت بڑی کامیابی ہو گی۔ دوسرے لفظوں میں مشینیں کسی قدر ہماری طرح سوچ سکتی ہیں۔ مثلاًایک روبوٹ دوائی کی شیشی کو پہچان سکتا ہے جو اس کے سامنے ایک یا دو بار لائی گئی ہو۔ مارکوس اپنے تصورات کے بارے میں زیادہ بات نہیں کرتے انہیں ڈر ہے کہ کہیں گوگل جیسی بڑی کمپنیاں اس کے آئیڈیاز نہ چرا لیں۔ تاہم مارکوس کا کہنا ہے کہ اس نے ایک ایسا حسابی طریقہ کار بنا لیا ہے جس کے تحت قدرے کم ڈیٹا سے بہتر نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں۔

مارکوس کی ٹیم نے اس فارمولے کو مشینوں کی گہری آموزش کیلئے پرکھاہے۔ مارکوس کہتے ہیں ہم تھوڑا بہت جانتے ہیں کہ دماغ کس طرح کام کرتا ہے اور ہم مشینوں میں اسی شعور کو ابھارنے کی کوشش کررہے ہیں۔ مارکوس نے سکول میں ـ"دی مائنڈز 1" کی کتاب سے بہت متاثر ہوا تھا۔ یہ کتاب ادراکی سائنس کے ماہر ڈگلس ہوفسٹیڈلر (Douglas Hofstedler) اور فلاسفر ڈینیل ڈینٹ (Daniel Dennett)نے مشترکہ طور پر لکھی تھی۔ بعد میں مارکوس نے دماغ اور مشینوں پر ہوفسٹیڈلر کی کتاب گوڈل ایسچر باک(Goel Escher Bach)کا بھی مطالعہ کیا۔ اس وقت مارکوس لاطینی زبان کو انگریزی میں ڈھالنے کا کمپیوٹر پروگرام بنا رہا تھا۔ اس کام میں درپیش مشکلات سے اسے اندازہ ہوا کہ مشینوں میں ذہانت پیدا کرنے کیلئے انسانی دماغ کے کام کرنے کے طریقہ کار کا جاننا ضروری ہے ۔

1980 کی دہائی مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بہت نمایاں رہی۔ اس عرصے میں دو گروہ بن گئے ایک وہ تھا جو دماغ کے کام کرنے کے بنیادی طریقے کو سمجھ کر مشینی ذہانت پیدا کرنا چاہتے تھے اور دوسرا وہ گروہ تھا جن کا مقصد اعلیٰ ادراکی افعال کو روائتی کمپیوٹرز اور سوفٹ وئیرز میں ڈالنا تھا۔ مصنوعی ذہانت پر ابتدائی کام پروگرامنگ کی زبان میں منطق اور اشارات کی موجودگی تھی۔ اس کی بہترین مثال پرندوں سے لی جاسکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پرندوں کی اڑان کو صرف ایک چھوٹے سے کوڈ میں لکھا جاسکتا ہے۔ اگر کمپیوٹرکو یہ بتایا جائے کہ مینا ایک پرندہ ہے تو وہ اخذ کرے گا کہ مینا لازماً اڑنے کے قابل ہے۔ اس وقت انسانی علم کو وسیع ذخیرہ معلومات میں بدلنے کیلئے بہت بڑے منصوبے اس امید پر شروع کئے گئے کہ شاید مشینوں میں بہتر ذہانت پیدا ہو سکے۔ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا مصنوعی ذہانت میں ترقی ہوتی گئی۔ لیکن کچھ قوانین میں استثنا بھی ہوتا مثلاً یہ بھی سوچنا چاہئے کہ ہر پرندہ اڑ نہیں سکتا۔ پینگوئن پرندہ ہونے کے باوجود زمین پر رہتا ہے۔ جبکہ پنجرے میں قید اور ٹوٹے ہوئے پر والا پرندہ بھی نہیں اڑ سکتا۔ اس نے ثابت کیا کہ قوانین میں تمام استثنا کو کوڈنگ میں نہیں لایا جاسکتا۔ لوگ تو ان استثنا سے سیکھ جاتے ہیں لیکن کمپیوٹرز اس سے محروم ہیں۔

وقت کے ساتھ مارکوس ہمپشائر کالج میں داخلے کی تیاری کررہے تھے کہ چند نفسیات دان اس بات کے حامی تھے کہ مصنوعی ذہانت کو زوال آئے گا۔ 1940 میں ڈونلڈ ہیب (Donald Hebb)نے نظریہ پیش کیا کہ کس طرح دماغ کے اعصاب کسی بھی شے کے سیکھنے کے عمل کا نظریہ پیش کیا ۔ اس نے مظاہرہ کیا کہ کیسے دماغی عصبیوں(Nuerones)کے بھیجے گئے اشاروں میں تسلسل سے باہمی رابطوں میں مضبوطی اور ایک دوسرے سے تعلق پیدا کرتے ہیں۔ اگر ایک ہی کام دوبارہ کیا جائے تو یہ اشارے ایک ساتھ وہی کام کریںگے۔ لیکن 1986ء تک ان عصبی اشاروں کی کارکردگی محدود تھی جب تک بعض تحقیق کاروں نے دریافت نہیں کیا کہ ان کی صلاحیت میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ان تحقیق کاروں نے فعل ماضی (Past Tense)کی بصری معلومات (Visual Data)کے ذریعے مظاہرہ کیا کہ کس طرح عصبی اشاروں کا نظام مختلف کاموں کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ تحقیق کار کہتے ہیں کہ اپنے دماغی عصبی اشاروں کو تربیت دیں اور وہ آپ کو تفویض کئے گئے کاموں میں رابطہ پیدا کرکے انہیں آسان بنائیں گے۔

ڈونلڈ ہیب اپنے نظریئے دماغی عصبیوں کی رابطہ کاری (Connectivism)کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ عصبی اشارے نئے سرے سے ذہانت تخلیق کرسکتے ہیں۔ اگرچہ ڈونلڈ ہیب کے نظریہ کوفوری پذیرائی نہیں ملی لیکن انہوں نے آج کے دور میں مشینی ذہانت میں خاصی مدد کی۔

جب رابطہ کاری کا نظریہ پرواز کیلئے تیار تھا مارکوس اپنی گریجوٹ کی تعلیم کا فیصلہ کر رہا تھا۔ انہوں نے ادراکی سائنس کے معروف معلم اور ایم آئی ٹی کے پروفیسر سٹیون پنکر(Steven Pinker)کے لیکچر میں شرکت کی۔ پنکر بچوں کے فعل ماضی سیکھنے کی صلاحیت پر رائے دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ بچے تیزی سے زبان کے قواعد سیکھ جاتے ہیں۔ وہ اور دیگر ادراکی سائنس کے ماہرین کو یقین ہے کہ ارتقائی عمل نے زیادہ شفاف ذہانت کو تشکیل دینے کیلئے بچوں کے دماغی عصبی اشاروں کے ترتیب دے کر منظم کرتا ہے۔

مارکوس نے ایم آئی ٹی 19 میں پنکر کی کلاس میں داخلہ لے لیا۔ پنکر مارکوس کو ایک ذہین طالبعلم قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے مارکوس کو تین بچوں کی ریکارڈ کی گئی تقریر کے چھوٹے سے پراجیکٹ کا ہاں یا نہ کی بنیاد پر شماریاتی تجزیہ کرنے کا کہا تو اس نے چند دن میں 25بچوں کی ریکارڈ کی گئی تقریر کا شماریاتی تجزیہ کر ڈالا۔

گریجویٹ طالبعلم کی حیثیت سے مارکوس نے پنکر کے تصور کی حمایت میں مزید دلائل جمع کئے۔ انہوں نے ادراکی تحقیق پر مشتمل کمپیوٹر ڈیٹا تیار کیا۔ جس میں انہوں نے ہزاروں کی تعداد میں بچوں کے بولے گئے الفاظ کا تجزیہ کیا۔ اسے معلوم ہو ا کہ بچوں نے معلوم ہو کہ بچوں نے (Break)کی دوسری فارم (Broke)کی بجائے (Breaked)اور (Go)کی دوسری فارم (Went)کی بجائے (Goed)لکھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ بچوں نے رٹا لگاتے ہوئے گرامر کے قواعد سیکھے اور انہیں نئے الفاظ پر استعمال کیا۔ تب انہوں نے مشینی ذہانت پر توجہ مرکوز کردی۔ مشینی ذہانت کےنظام کو پرندوں کی تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے شناخت کی تربیت دی جاسکتی ہے۔ لیکن اس کیلئے لاکھوں کی تعداد میں تصاویر کی ضرورت ہے۔ جس میں یہ معلوم نہیں ہو گا کہ پرندہ کسی وجہ سے اڑ نہیں سکتا۔

مارکوس کے بچوں پر کئے گئے تجربات سے انہوں نے اہم نتیجہ اخذ کیا۔ انہوں نے 2001 میں شائع ہونے والی کتاب حسابی ذہن (The Algebraic Mind)میں لکھا ہےکہ انسانی دماغ مثالوں اور قواعد و ضوابط سے سیکھتا ہے۔دوسرے الفاظ میں دماغ بعض مخصوص کام سرانجام دینے کیلئے گہری آموزش استعمال کرتاہے۔ اس کے ساتھ ہی انسانی دماغ دنیا میں کام کرنے کے طریقے اور قواعد و ضوابط کو بھی سیکھتا ہے۔ انسانی دماغ محض چند تجربات سے نتائج اخذ کرسکتاہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ مارکوس کی کمپنی جیومیٹرک انٹیلی جنس انسانی ذہن میں چلنے والے افعال کی نقل کرنےکی کوشش کررہی ہے۔ مارکوس کہتے ہیں کہ ایک مثالی دنیا میں ہم جانتے ہیں کہ بچے کیسے اپنی سوچ پر عمل کرتے ہیں۔ہم جان جائیں گے کہ دماغی نظام کمپیوٹر میں کیسے کام کرے گا۔ لیکن دماغی سائنس ا بھی تک راز میں ہے۔ تاہم انہوں نے اشارتاً بتایا کہ ہم انسانی آموزشی عمل کی دوبارہ تخلیق کیلئے گہری آموزش پر مشتمل ٹیکنیکس استعمال کررہے ہیں۔

عمومی شعور Common Sense
یقیناً جیومیٹرک انٹیلی جنس میں ہونے والا کام نہایت نمایاں ہے کیونکہ ادراکی اور دماغی سائنس کا اشتراک مصنوعی ذہانت کے مستقبل کیلئے بہت بہتر ہے۔ آرٹیکل کے رائٹر ول رائٹ کہتے ہیں کہ مارکوس سے ملنے کے بعد میں اپنے آپ کو ابھی تک ایک بچہ سمجھ رہا ہوں جو نامانوس گیجٹس کو سمجھنے کی کوشش کررہا ہے۔ میرے ذہن میں اب بھی سوال ہے کہ یہ سب کیسے ممکن ہو گا؟مجھے اس سوال کا جواب دینے کیلئے کہ کمپنی کیا تخلیق کر رہی ہے مارکوس کے اشتراک کاروں میں سے کسی ایک کی ضرورت ہے۔ ول رائٹ اس سلسلے میں برطانیہ میں کیمبرج یونیورسٹی میں انفارمیشن انجینئرنگ (Information Engineering)کے پروفیسر اور مصنوعی ذہانت پر ایک دوسرے نکتہ نظر سے کام کرنے والے زئووبنگھاہرامانی(Zoubin Ghahramani)جیومیٹرک انٹیلی جنس کے شریک بانی ہیں۔ گھاہرامانی سپین اور امریکہ جانے سےپہلے سابق سوویت یونین اور ایران میں پلے بڑھے۔ اگرچہ وہ مارکوس کے ہم عمر ہیں لیکن ان سے ایک سال بعد میں وہ ایم آئی ٹی میں آئے۔ لیکن ایک ہی دن پیدا ہونے کے سبب نے انہیں اکٹھا کیا اور وہ ایک ساتھ پارٹیوں میں جانے لگے۔

زئووبنگھاہرامانی مشینوں کو ذہین بنانے کیلئے امکان (Probability)پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔ گھاہرامانی کا تصور یہ ہے کہ امکانیات آپ کو غیر یقینی اور نامکمل معلومات پر بھی راستہ فراہم کردیتی ہے۔ امکانیات سے ان پرندو ں کی پہچان ہو سکتی ہے جو اُڑ نہیں سکتے۔ امکانیات سے یہ تصور سامنے آتا ہے کہ پرندہ اُڑنے کے قابل ہے۔ امکانیات ہمیں بتاتی ہے کہ ایک شتر مرغ پرندہ ہے اور امکانی طور پر اُڑ سکتا ہے۔ لیکن ایک جوان شتر مرغ کا وزن 200 پائونڈ ہوتا ہے اس لئے اپنے وزن کے سبب اس کی اُڑان زیرو ہو جاتی ہے۔ اس لچکدار نظریہ انسان کے عمومی شعور سے ملتا جلتا ہے اور یہی وہ صلاحیت ہے جو انسانی ذہانت کیلئے بہت اہم ہے۔

گھاہرمانی اور مارکوس نے اب ایک مقصد پر نگاہیں مرکوز کر رکھی ہیں کہ روبوٹ کو پیچیدہ صورتحال سے نپٹنے کی تربیت دی جائے۔ وہ کہتے ہیں کہ روبوٹکس میں حاصل ہونے والے تجربات بہت اہم ہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ روبوٹ یا گاڑی راستوں پر چلنا سیکھے تو لاکھوں کی تعداد میں تصویری یا ویڈیوزکی صورت میں مثالیں بھی ٹوٹ پھوٹ اور حادثے کی وضاحت نہیں کر سکیں گی۔

جیومیٹرک انٹیلی جنس میں گہری آموزش کیلئے امکانیات اور دیگر ٹیکنالوجی پر کام ہونے سے یہ بھی ممکن ہے کہ گوگل یا فیس بک مصنوعی ذہانت کے کام کے سبب اس کمپنی کو خرید لیں۔ جیومیٹرک انٹیلی جنس میں مارکوس کی ٹیم انسانی ذہانت پر جو کچھ کر رہی ہے وہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کیلئے بہت فائدہ مند ہو گا۔

تحریر: ول نائٹ (Will Knight)

Read in English

Authors
Top