Global Editions

بچوں اور کمپیوٹر کی صلاحیتوں کا موازنہ

نوٹ: ایلسن گوپلک یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلے میں نفسیات کے پروفیسر ہیں۔
بچے کمپیوٹر سے بھی زیادہ تیزر رفتار سوچ ، ادراک اور عمل کے مالک ہوتے ہیں جب بچوں کی سوچ و عمل اور کمپیوٹر کا تقابلی جائزہ لیا گیا تو بڑے حیرت انگیز نتائج سامنے آئے۔ یہ تجزیہ ترقیاتی ادراکی سائنس (Developmental Cognitive Science)کے تحت کیا گیا۔ ماہرینکی 30 سالہ تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ سیکھنے اور جاننے کی حس بچوں میں سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ لیکن یونیورسٹی آف کیلفورنیا برکلے میں نفسیات کے پروفیسر ایلیسن گوپلک سوال اٹھاتے ہیں کہ بچے اتنا زیادہ اور اتنی تیزی سے کیسے سیکھتے ہیں؟ ترقیاتی ادراکی سائنس ور کمپیوٹر کے ماہرین اس سوال کا جواب مشینوں کے سیکھنے کے عمل میں تلاش کر رہے ہیں ۔ایلیسن گوپلک (Alison Goplik) نے بچوں اور کمپیوٹرز کے سیکھنےکے عمل میں تعلق پیدا کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جدید دور میں کمپیوٹرز بالکل عاقل بالغ کی طرح کام کرنے کی کوشش کررہے ہیں جو انہیں نہیں کرنا چاہئے۔ ہر کوئی ایلن ٹیورنگ (Alan Turing)کے ٹیسٹ سے متعلق تو جانتا ہے لیکن اس کا یہ قول بھول گئے ہیں کہ آپ کو حقیقی ذہانت حاصل کرنے کیلئے ایک ایسی مشین بنانی چاہئے جو سیکھنے کیلئے بچے جیسے طرزعمل کا اظہار کرے۔

وہ بچے جو ابھی سکول نہیں جاتے ان میں بھی نئے خیالات اور تخلیقی صلاحیتوں کا رحجان ہوتاہے۔ حقیقت میں بچے بعض کام بڑوں سے بہتر انداز میں کرسکتے ہیں ۔ دوسرا شعبہ “ـ ـہر شے کے بارے میں جاننا(Getting into Everything)ہے”جس میں بچے کمپیوٹر کو استعمال کرکے دنیا کے سامنے اپنی ذہانت اور صلاحیتوں کا اظہار کرسکتے ہیں۔ بچوں میں ہر شے کے بارے میں جاننے کا جنون اور تخلیقی تصورات ہی ان کی سیکھنے کی صلاحیتوں کا سبب ہے۔ ترقیاتی ادراکی سائنسدان اس قسم کے سیکھنے کے عمل کو سمجھنے کیلئے ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں۔ ان بچوں کو تجزیہ کرنے سے ہمیں ایسے کمپیوٹرز بنانے میں مدد مل سکتی ہے جو ٹیورنگ کے ٹیسٹ سے گزر سکیں۔

مصنوعی ذہانت پر حالیہ تجربات کی بنیاد “تمام جزئیات سمیت سیکھنے یا گہرائی کے ساتھ سیکھنے “(Deep Learning)کی تکنیکس پر ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ مشینوں کے سیکھنے کے عمل کا انحصار انسانوں کے منتخب کردہ ڈیٹا پر ہے۔ مصنوعی ذہانت کے تمام طریقے طے شدہ فارمولوں کے تحت سائنسی بنیادوں پر کام کرتے ہیں۔ جس کیلئے وجوہات اور عمل (Bayesian) کی اصطلاح کا خاص طور پر نام لیا جاتا ہے۔ مثلاً آپ کمپیوٹر پر حسابی طریقے سے کسی گراف میں سائنسی انداز میں فراہم کردہ مخصوص ذخیرہ معلومات کی وضاحت کرسکتے ہیں ۔ اسی لئے کہتے ہیں کہ مشینیں بڑے ذخیرہ معلومات کے ذریعے کسی بھی مفروضے کا تمام جزئیات سمیت تجزیہ کرنے کیلئے بہترین معاون ہوتی ہیں۔ بچے بھی اسی طریقے سے ذخیرہ معلومات کا تجزیہ کرتے ہیں ۔ بعض کام تو بچے ایسے کرتے ہیں جن کا کمپیوٹرز بھی تجزیہ نہیں کر سکتے۔ ہم بچوں اور کمپیوٹرز کا تجزیہ کرکے ان صلاحیتوں کو سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں جو ہمیں آئندہ طاقتور مصنوعی ذہانت تشکیل دینے میں معاون ثابت ہوں گی۔

تحریر: ایلیسن گوپلک (Alison Gopnik)

Authors

*

Top