Global Editions

بِل گیٹس سے گفتگو

دنیا کے امیر ترین شخص ہر سال ایک کھلا خط تحریر کرتے ہیں جس میں بِل اور ملنڈا گیٹس فائونڈیشن (Bill and Malinda Gates Foundation)میں حاصل ہونے والے مواقع کے بارے میں بتاتے ہیں جو دنیا کی سب سے بڑی فلاحی تنظیم ہے۔گزشتہ سال انہوں نے عدم مساوات پر کھلا خط لکھا۔ اس سال انہوں نے طلباء کے ایک سوال سے متاثر ہو کر کہ آپ کے خیال میں سپر پاور کو کیا کرنا چاہئے؟انہوں نے اس کے جواب میں طلباء کو دو الگ خط لکھے۔ ملنڈا نے اس کا جواب "زیادہ وقت" دیا جبکہ بل گیٹس نے اس کا جواب "زیادہ توانائی" دیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ماحول میں تبدیلی کے حوالے سے توانائی کے معجزوں کی ضرورت ہے جس کیلئے وہ کئی سالوں سے بات کررہے ہیں۔

بِل گیٹس کی معجزوں سے مراد غیر متوقع تحفہ نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کے انکشافات ہیں جو تحقیق، ترقی اور انسان کی تخلیقی کا نتیجہ ہیں مثلاً پرسنل کمپیوٹر، انٹرنیٹ یا پھر پولیو ویکسین ہے۔ انہوں نے طلباء کومیتھ اور سائنس میں اضافی شدید محنت کی ہدایت کی کیونکہ ان کے خیال میں دنیا کو توانائی کے مسائل حل کرنے کیلئے جنونی قسم کے آئیڈیاز کی ضرورت ہے۔ گیٹس کے ذہن میں ایک ریاضی کی مساوات موجود ہے جو کایا آئیڈنٹٹی (Kaya Identity)سے مماثلت رکھتی ہے۔ جس میں ماحول میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کارفرما عوامل شامل ہیں ان میں پی (P) سے مراد پاپولیشن یعنی آبادی، ایس (S)سے مراد سروسز یعنی خدمات فی فرد اور سی) C)سے مراد کاربن ہے جو انرجی فی یونٹ سے خارج ہوتی ہے۔ گیٹس کا خواب ہے کہ کاربن کا اخراج مجموعی طور پر زیرو ہونا چاہئےاس کیلئے ان کی ریاضی کی مساوات یہ ہے کہ اگر آبادی، خدمات اور توانائی بڑھتی بھی ہے یا کم نہیں ہوتی تب بھی کاربن کا اخراج زیرو ہی ہونا چاہئے۔ اور کاربن کا زیرو اخراج کرنے کیلئے ہمیں معجزے یا بہت سے معجزوں کی ضرورت ہے۔

گیٹس کار بن کے اخراج کیلئے معجزاتی ٹیکنالوجیز کی کمی کو الزام نہیں دیتے( جس کا مطلب ہے کہ انرجی کمپنیوں کو کاربن نیوٹرل ٹیکنالوجیزکو فروغ دینے کیلئے کوئی فائدہ نہیں دیا جاتا)۔ جیسا کہ وہ کہتےہیں کہ توانائی کے چیلنج سے نپٹنے کیلئے "طلب " کے ضمن میں لاکھوں ڈالر صرف کئے جارہے ہیں لیکن خامی "رسد" میں ہے حکومتیں اور نجی ادارے اس پر بہت کم خرچ کررہے ہیں۔ گیٹس نے اس بارے میں کچھ کرنے کا عزم کیا اور بریک تھرو انرجی کولیشن(Breakthrough Energy Coalition)منصوبے کا اعلان کیا۔ اس منصوبے میں فیس بُک کے بانی مارک زکربرگ، ایمازون کے جیف بیزوس اور ورجنزکے رچرڈ برانسن سمیت دنیا کے 20ارب پتی لوگ شامل ہیں۔

ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو کے ایڈیٹر ان چیف جیسن پونٹن (Jason Pontin)نے بِل گیٹس سے انٹرویو کیا

سوال: آپ بعض اوقات کہتے ہیں کہ دنیا کو معیار زندگی بلند کرنے کیلئے کم کی نہیں زیادہ توانائی کی ضرورت ہے۔ کیا یہ واقعی چیلنج سے نپٹنے کی کنجی ہےیا نہیں؟ ہمیں ماحول کی تبدیلی کیلئے اقتصادی نشو و نما اور کاربن اخراج میں قریبی تعلق تلاش کرنا ہے۔
جواب: یہ بات درست ہے اگر آپ میری بنائی ہوئی مساوات اور اس کے پہلے تین عناصر پی، ایس اور ای پر غور کریں تو کاربن کو لازماً زیرو ہونا چاہئے۔

سوال: کاربن کو کب زیرو ہونا چاہئے؟زیرو کاربن کیسے ممکن ہے اور اس کے ساتھ ہی غریب ممالک کو غربت سے نکالنے کیلئے اربوں ڈالر کیسے خرچ کئے جائیں گے اور ارب پتی افراد کا یہ اجتماع کہاں پر سرمایہ کاری کرے گا؟
جواب: اگر غریب ممالک میں کاربن کا اخراج جاری رہتا ہے تو عالمی درجہ حرارت 2ڈگری تک رکھنے کیلئے امیر ممالک کو کاربن کا اخراج خالص صفر رکھنا پڑے گا۔

سوال: اگر غریب ممالک اور زراعت کا شعبہ مستقبل میں کاربن کا اخراج نمایاں طور پر جاری رکھتے ہیں تو ہم اس صدی کے آخر تک کیسے نیٹ زیرو کاربن کا ہدف حاصل کرسکتے ہیں؟
جواب: امیر ممالک 2050ء تک زیرو کاربن کا ہدف حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سوال: آپ نے دیکھا ہو گا کہ توانائی کی صنعت اپنی آمدنی کا صرف 0.25فیصد تحقیق پر خرچ کرتی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں فارما والے 20فیصد، آئی ٹی والے 15فیصدتحقیق پر خرچ کرتے ہیں۔ ان حالات میں ایجادات اور توانائی پر اس کے اثرات میں فرق کا ذکر کرتے ہیں۔ اس منظر کو بدلنے کا کوئی راستہ ہے؟
جواب: آپ تاریخ کو دیکھیں۔ توانائی کے شعبے میں سب سے بڑا موجد سٹیم ٹربائن (Steam Turbine)ایجاد کرنے والے چارلز ایلگرنن پارسن (Charles Algernon Parson)تھے۔ دوسرے بڑے موجد ڈیزل انجن ایجاد کرنے والے روڈلف ڈیزل (Rudolf Diesel)کو مالی حالات کی وجہ سے خودکشی کرناپڑی کیونکہ اس کے خیال میں وہ دیوالیہ ہو رہاتھا۔ پارسن وہ جانتے تھے کہ نئی انرجی ٹیکنالوجی سے اپنی ایجاد 20 سال تک کوئی فائدہ نہیں دیتی۔ لہٰذا موجد کیلئے نئی ایجاد کے ثمرات بہت کم ہوتے ہیں۔ لیکن آئی ٹی کا پس منظر یہ نہیں ہے اور صحت کے شعبے میں بھی ایسا نہیں ہے۔

سوال: سرمایہ کاری کے نتائج کیلئے 20سال کا عرصہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ تاہم کیا توانائی کے شعبے کو اختراع و ایجاد میں تحقیق کیلئے موجودہ ٹیکنالوجیز سے مختلف ماڈل کی ضرورت ہے؟
جواب: توانائی کے شعبے میں بہت سی اختراعات کیلئےہمیں حکومت کو کریڈٹ دینا چاہئے۔ نیوکلیئر توانائی کے شعبے میں تمام تحقیق حکومت یا حکومت کی فنڈنگ سے کی جارہی ہے۔ حیاتیاتی ایندھن کے حصول کیلئے جغرافیائی ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کیلئے ڈیجیٹل انقلاب آچکا ہے۔ اس میں بھی حکومت کی سرمایہ کاری تھی جس نے افقی ڈرلنگ میں مدد کی۔ لہٰذا تحقیق اور ترقی میں سرمایہ کاری کی وجہ میں زیادہ تر ایجادات مارکیٹ میں آئی ہیں۔ ہمیں اس ضمن میں نجی شعبے کے ایسے سرمایہ کاروں کی ضرورت ہے جو رسک لے سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے 20بڑے ممالک کو اگلے پانچ سالوں کیلئے تحقیق اور ترقی کیلئے سرمایہ کاری دوگنا کرنے پر راضی کرلیا ہے۔ جو ہائی رسک بریک تھرو کمپنیز میں سرمایہ کاری کریں گے۔

سوال: جب ہم نے 2010ء میں توانائی پر بات کی تھی تو آپ نے مجھے بتایا تھا کہ امریکی حکومت تحقیق و ترقی برائے توانائی کے شعبے میں پانچ ارب ڈالر صرف کررہی ہے۔ جبکہ اس رقم کا 10فیصد دفاعی تحقیق کے شعبے کیلئے تھا۔ اس میں گزشتہ چھ سالوں میںکوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ اگر حکومت اپنی سرمایہ کاری دوگنا کردیں تو آپ اسے کہاں پر صرف کرنا پسند کریں گے۔
جواب: نہیں میں تمام بجٹ بنیادی تحقیق پر صرف کروں گا۔ کچھ مٹیریلز میں سائنسی مسائل ایسے ہیں جنہیں اگر آپ حل کرلیتے ہیں تو توانائی کے شعبے میں اس کے بہت گہرے اور مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ لیکن بڑھی ہوئی سرمایہ کاری کو حقیقی جگہ پر خرچ کرنے کا فیصلہ کرنا ہوگا تاکہ انرجی اختراعات کو بہتر بنایا جاسکے۔ مثال کے طور پر ہوا کی توانائی سے بجلی پیدا کرے والی کمپنیوں کوواقعی مضبوط مٹیریل اور اچھے میگنٹ کی ضرورت ہے۔ اگر ہم سولر کیمیکل بنا سکیں۔ اور ہائیڈرو کاربن سے فوٹون کی پیداوار میں کئی گنا اضافہ کرسکیں تو اس سے بہت بچت ہو گی ۔ یہ معجزاتی کام ہو گا کیونکہ آپ ہائیڈروکاربن محلول بنا رہے ہیں۔ اب میں صحیح طور پر نہیں بتا سکتا کہ آپ تحقیق و ترقی پر خرچ کرکے کتنی جلد پیش رفت کرسکیں گے۔ جیسا کہ کینسر پر تحقیق ہے جس میں بہت سے سائنسی امکانات ہمارے حد اختیار سے باہر ہیں۔ اس لئے ہمارے پاس اعدادوشمار کی کوئی اچھی مساوات موجود نہیں ہے۔ اگر ہم بجٹ دوگنا کرکے یہ معجزوں کی امید لگائیں تو غلط ہو گا۔

سوال : کیا یہ اتفاق ہے کہ آپ نے اپنی مثالوں میں کیمسٹری اور سائنس کا ذکر کیا؟
جواب : نہیں آپ ٹیرا پاور کی مثال لیں جو نیوکلیئرتوانائی کی ایک کمپنی ہے اور جس کے لئے میں نے کافی کام کیا ہے۔ ہمیں بڑے بڑے چیلنجز تو میٹیریل سائنس میں درپیش ہیں۔

سوال: آپ کے خیال میں شمسی پینٹ (Solar Paint)کی طرح ایجادات خالص زیرو کاربن اخراج کا 2015ء تک کا ہدف حاصل کرسکیں گی؟ آپ موسمیاتی تبدیلی کے بدترین اثرات سے بچنے کیلئے کیا کرنا چاہیں گے۔کیا ہمیں ماحول کو صاف رکھنے والی ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے؟جبکہ ہم ایک ہی وقت میں بہت سی بنیادی کامیابیوں میں سرمایہ کاری کررہے ہیں؟
جواب: یورپ اور امریکہ جیسے امیر ممالک شفاف توانائی پر اٹھنے والے دگنے اخراجات برداشت کر سکتے ہیں۔ یہ بہت بڑی سیاسی تجارت ہوگی جس سے ان کے ملک بدحال نہیں ہوں گے لیکن میں نہیں جانتا کہ یہ ممالک اس شعبے میں سرمایہ کاری کریں گے یا نہیں۔ بھارت ہی کی مثال لے لی جہاں پر اگلے 30سالوں میں ہائیڈروکاربن میں خاصے اضافے کی توقع کی جارہی ہے۔اگر آپ بھارتی شہریوں سے کہیں کہ کوئلے سے بنی بجلی سے ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے تو وہ آپ سے دریافت کریں گے کہ کیا ہم اپنے ملک کی لاکھوں زندگیاں نہ بچائیں کیا ہم ایک عورت کو لکڑی جلانے کی بجائے بجلی کا چولہا نہ دیں؟ جس کا سیدھا سادہ مطلب عالمی سطح پر کاربن ڈائی آکسائیڈ میں اضافہ ہے۔ کیا ہم ماحول کی خرابی سے نہ بچیں جبکہ ہمارے ملک میں لکڑی اور کوئلے کی طلب بڑھتی جارہی ہے۔ میرے خیال میں وہ لوگ اپنے سارے ملک کو بجلی کی سہولت دینا چاہتے ہیں۔ لہٰذا لہٰذا میں ٹیکنالوجی کی اختراعات کی مدد سے ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کے بارے میں بہت پرامید ہوں۔ اگر ہمارے پاس اختراعات کی صلاحیت ہے تو ہم بھارتی شہریوں کو کہ سکتے ہیں کہ آپ دو مقاصد حاصل کرسکتے ہیں : آپ امیر ممالک کے مقابلے میں کم کاربن فضا میں خارج کرکے عظیم عالمی شہری بن سکتے ہیں۔ اور آپ اپنے ملک کو بجلی فراہم کرسکتے ہیں۔

سوال: کیا ترقی کیلئے کاربن میں کمی کیلئے سمارٹ پالیسیوں کی ضرورت نہیں ہے۔کیا ہمیں کاروباری شخصیات کو شفاف ماحول ٹیکنالوجی پر سرمایہ کاری کرنے کیلئے کاربن ٹیکس نہیں لگانا چاہئے؟
جواب: رسد اور طلب کے حوالے سے اختراعات کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے۔ رسد کے زمرے میں بنیادی سرکاری تحقیقی کاموں پر فنڈنگ ہےجس سے نئی ٹیکنالوجی کمپنیاں قائم کی جاسکیں۔ جبکہ طلب میں یہ سوال ہمارے سامنے ہے کہ ہمیں اپنے حصے کا کتنا کام کرنا ہے اور اس کا بنیادی ڈھانچہ کیا ہونا چاہئے؟اگر آپ مجموعی طور پر امیر ممالک پر نظر ڈالیں تو پتہ چلے گا کہ انہوں نے اس سلسلے میں بہت کچھ کر رکھا ہے۔مثلاً امریکہ میں قابل تجدید توانائی پر ٹیکس لگایا گیا ہے۔
اب ہم پالیسیوں کا جائزہ لیتے ہیں کہ امیر ممالک کیا کررہے ہیں جب ہم رسد کی طرف دیکھتے ہیں تو دل دہلا دینے والی تصویر سامنے آتی ہے۔ جب ہم طلب کی طرف دیکھتے ہیں تو امیر قومیں واقعی اربوں کی سرمایہ کاری کررہی ہیں لیکن رسد کے حوالے سے چین کے سوال ہر امیر ملک نے گزشتہ 15سالوں میں اپنے بجٹ میں اضافہ نہیں کیا۔ اب رہا آپ کا سوال تو اس کا جواب ہاں میں ہے۔ ہمیں طلب کےپہلو پر بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔ جب آپ رسد کو دیکھتے ہیں تو بہت مایوسی ہوتی ہےہمیں اب بھی اربوں ڈالر کی ضرورت ہے اور حیرت کی بات ہے کہ اس پر بہت کم کام کیا گیا ہے۔

سوال: آپ کا گروپ نمایاں امیر لوگوں پر مشتمل ہے لیکن مجھے ان میں کوئی توانائی کی صنعت سے متعلق فرد نظر نہیں آیا۔ کیا آپ کو توانائی کے شعبے سے تجربہ اور مالی معاونت کی ضرورت نہیں؟
جواب: ہم اس کیلئے مہم چلارہے ہیں اگر ہمیں موجودہ توانائی کی صنعت سے لوگ مل جائیں تو وہ ہمارے لئے بہت اچھے ثابت ہو گے۔ ہمارا بنیادی مقصد دو ارب ڈالر اکٹھے کرنا ہے جس سے ہم بہت سی کمپنیوں کو مالی مدد فراہم کرسکتے ہیں ۔

سوال: آپ نے کہا تھا کہ اگلے پانچ سال کے دوران آپ ایک ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری کریں گے۔ صرف ایک ارب ڈالر ہی کیوں زیادہ کیوں نہیں؟
جواب: کاش اس مسئلے کا حل صرف ایک بڑا چیک ہوتا۔ اگر ہم مؤثر طریقے دور ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تب نہ صرف میں بلکہ بہت سے لوگ بھی مزید سرمایہ کاری کریں گے۔ لوگ کلین ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کرنے کے حق میں نہیں ہیں وہ اسے غیر حقیقی سمجھتے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ اتنی جلدی اس شعبے میں ترقی کیسے ممکن ہے۔ نئی چیز کو اختیار کرنے میں جو مشکل پیش آتی ہے وہ اس کا قابل اعتماد ہونا اور کارکردگی کو بڑھانا ہوتا ہے۔ اس معیار کو حاصل کرنا مشکل کام ہوتا ہے۔ اس لئے ہمیں سرمایہ کاری کرنے کیلئے پرجوش لوگوں کی ضرورت ہے۔ لیکن آئی ٹی کے شعبے میں وقت کا تعین کرنے، صبر سے انتظار کرنے اور مقررہ سرمایہ کاری کرنے کا ایک ماڈل بن چکا ہے جو توانائی کے شعبے میں ابھی موجود نہیں ہے۔

سوال : آپ نے کاربن کیپچر (Carbon Capture)میں ہی سرمایہ کاری کیوں کی؟
جواب: میں ڈیوڈ کیتھ (David Kieth)کی کمپنی کاربن انجینئرنگ(Carbon Engineering)میں ایک سرمایہ کار ہوںیہ کمپنی فضا سے کاربن کو نکالنے کیلئے پلانٹ تعمیر کر رہی ہے۔ جس پر فی ٹن کاربن نکالنے کا خرچہ سو ڈالر یا اس سے زیادہ صرف ہو گا۔ لیکن پہلا پلانٹ تعمیر کیا ہےوہ اس کی لاگت کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

سوال: ٹیراپاور میں کیا پیش رفت ہو رہی ہے؟ اور اسے ٹیسٹ کرنے کیلئے چین کا ہی انتخاب کیوں کیا گیا ہے؟
جواب: ٹیرا پاور کے ٹیسٹ کیلئے ضروری نہیں کہ صرف چین ہی ہو۔ بھارت، کوریا، جاپان، فرانس، اور امریکہ جیسے ممالک بھی جدید جوہری پلانٹس رکھتے ہیں۔ لیکن آج کی دنیا میں جتنے جوہر پلانٹ تعمیر کئے جارہے ہیں اتنے ہی چین میں تعمیر کئے جارہے ہیں۔ اور پھر انجینئرنگ میں چین کی صلاحیت متاثر کن ہے۔ اسی وجہ سے ٹیراپاور کا پائلٹ پلانٹ مین میں تعمیر کیا جائے گا اگر یہ پلانٹ 2024 تک تعمیر ہو جاتا ہے تو امید ہے کہ 2030 تک تمام جوہری پلانٹس نئے ڈیزائن کے مطابق تعمیر ہو جائیں گے۔ کیونکہ اس سے معیشت، تحفظ، ایٹمی فضلہ اور تمام اہم پیرامیٹرز میں ڈرامائی انداز میں بہتری آئے گی۔

سوال: کیا آپ نے توانائی کی سرمایہ کاری میں کوئی غلطی کی ہے جس کے بارے میں آپ بات کرنا چاہتے ہیں؟
جواب: میں نے پانچ بیٹری کی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کررکھی ہے اور ان پانچوں پر مشکل وقت گزر رہا ہے۔ مثال کے طور پر، ڈان سیڈووے (Don Sadoway) کی کمپنی ایمبری (Ambri) بہت اچھی ہے لیکن انہیں اپنی سوڈیم بیڑیوں کی سیلز بنانے اور کم قیمت بنانے کیلئے بڑی سخت محنت کرنا پڑ رہی ہے۔ مجھے ان پر سرمایہ کاری کرنے کا کوئی افسوس نہیں۔

سوال: اگر توانائی ذخیرہ کرنے کی ٹیکنالوجی میں قابل ذکر پیش رفت نہیں ہوئی تو آپ کیسے توقع کرسکتے ہیں کہ شمسی اور ہوا سے پیدا ہونے والی بجلی کوئی اہم کردار ادا کرسکے گی۔
جواب: اگر آپ یہ سوچتے ہیں کہ توانائی ذخیرہ کرنے میں کوئی معجزہ رونما ہو جائے گا تو میں یہ کہوں گا کہ امیر ممالک شمسی، ہوا کی توانائی اور گیس کو ملا کر ایک اعلیٰ معیار کا ڈی سی گرڈ بنا سکتے ہیں۔ جس میں کاربن کیپچر کے آلات بھی لگے ہوئے ہیں۔ اگر آپ کانٹینینٹل گرڈ بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو آپ اپنی 80فیصد توانائی کی ضروریات پوری کرسکتے ہیں۔ باقی 20فیصد کیلئے آپ کو قدرتی گیس اور کوئلے پر انحصار کرنا ہو گا جن میں کاربن کیپچر آلات بھی استعمال ہوں گے۔ قدرتی گیس کے پلانٹ میں کوئلے کے پلانٹ کی نسبت کاربن کیپچر آلات نصب کرنا زیادہ آسان ہے۔ ایک بڑا ہائی وولٹیج ڈی سی گرڈ تعمیر کانا خاص کم قیمت پڑے گ

تحریر: جیسن پونٹن (Jason Pontin)

Read in English

Authors
Top