Global Editions

بلڈ ٹیسٹ کے ذریعے دماغی چوٹ کی تشخیص میں ایک اہم پیش رفت

دو ادار ے ایسے ہیں جو یہ دعوی کرتے ہیں کہ اُنہوں نے ایسے لحمیات شناخت کر لیئے ہیں جن کی مدد سے بلڈ ٹیسٹ کے ذریعے دماغی چوٹ کی فوری تشخیص ممکن ہو سکے گی۔امریکہ میں چوٹ سے ہونے والی اَموات میں سے ایک تہائی اَموات تکلیف دہ دماغی چوٹ کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ایک ایسا بلڈٹیسٹ جو نہ صرف تیزی سے دماغی چوٹ کا کھوج لگا سکتا ہے، بلکہ دماغ کو ہونے والے نقصان کا بھی اندازہ لگا سکتا ہے۔یہ ٹیسٹ اُن ڈاکٹروں کے لیئے بھی مددگار ثابت ہوگا جو ایسے زخموں میں مبتلا اُن لاکھوں مریضوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں جو ممکنہ طور پر اپنے آپ کو ایک طویل مدتی معذوری سے بچنے کی کو ششوں میں ہیں۔یہ طریقہ صرف دماغی چوٹ کے بعد ہی بلندفشار خون میں ظاہر ہونے والی پروٹین کو ظاہر کرتاہے اور پھر ٹیسٹ کے اگلے مرحلے میں نہ صرف اِن مارکرز کا سُراغ لگا سکتے ہیں بلکہ اِس سے متعلق طِبی معلومات کا تعین بھی کر سکتے ھیں۔دو کمپنیوں’Quanterix Banyan اورBiomakers ‘نے اُمید افزا بائیومارکرزکی شناخت کی ہے(بائیومارکرز ایک مالیکیول ہے جسکی مدد سے کسی خاص بیماری کو پہچانا جا سکتا ہے)اور اب اِس تشخیصی ٹیسٹ کو وضع کرنے کے لیئے اِس کا مزیدجائزہ لیا جا رہا ہے۔

حالیہ برسوں میں تحقیق کے لیئے دی جانے والی رقوم میں کافی اضافہ ہوا ہے۔جس مین دفاعی محکمے اور قومی اداراۂ صحت نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔اِن کا مقصددماغی چوٹ کی تشخیص کو بہتر بنانا ہے بشمول وہ تکالیف جن کا سامنا کھلاڑی اور فوجی کر رہے ہیں۔بینیون Biomakers کے چیف سائنس آفیسرہائیز کا کہنا ہے کہ’ اگرچہ اب بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے‘تاہم دماغی چوٹ کی تشخیص کے لیئے بلڈ بائیومارکرز اور عکسی تراکیب کے استعمال کو سمجھنے میں در حقیقت ہم اِنقلاب کے قریب ترین پہنچ گئے ہیں‘۔ہائیز کا کہنا ہے کہ’ حال ہی میں سائنسی برادری میں اِس بات پر اتفاِق رائے تھا کہ خون کا یہ ٹیسٹ زیادہ اہمیت کا حامل نہیں ہے کیونکہBlood Brain Barrier(وہ رکاوٹ جو خون کودماغی رطوبت سے علیحدہ رکھتی ہے)خفیہ مالیکیول کو دماغ سے خون کی طرف بڑھنے سے روکے گا۔نئی تحقیق کے مطابق ہمیشہ ایسا نہیں ہوتاکہ دماغی چوٹ اِس رکاوٹ کی خرابی کا سبب بنے‘۔

Quanterix Banyanکے محققین نے دو لحمیات کی نشاندہی کی ہے اور یہ دکھایا ہے کہ دماغی چوٹ کے بعدچند گھنٹوں میں ہی خون میں اِن لحمیات کی مقدار بڑھ جاتی ہے جو زخم کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔کمپنی اِس وقت دو ہزار مریضوں پر یہ ٹیسٹ کر رہی ہے اور ٹیسٹ کے لیئے ایف.ڈی.اے سے منظوری کے لیئے سرگرداں ہے۔یہ ٹیسٹ اِس بات کا تعین کرے گا کہ آیا سی ٹی سکین کے ذریعے مزید تشخیص کی ضرورت ہے کہ نہیں۔ Quanterix Banyanکے چیف ایگزیکٹوکیِوِن روسوسکی کاکہنا ہے کہ ’ٹی.بی.آئی کے لیئے بائیومارکرکی بنیاد پر بلڈ ٹیسٹ ایک بڑا چیلنج ہے۔یہ لحمیات خون میں اِس قدر کم مقدار میں پائے جاتے ہیں کہ اِن کا سُراغ لگانا اور اِن کو ناپنا ایک مشکل مرحلہ ہے خاص طورپر اُس وقت جب چوٹ معمولی ہو‘۔کمپنی اپنی ٹیکنالوجی کے بارے میں دعوی کرتی ہے کہ اِس ٹیکنالوجی سے خون میں بائیومارکر کا پتہ لگانے کے لیئے ایک مالیکیول کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ روایتی طریقہ کارمیں لاکھوں مالیکیولز کی ضرورت ہوتی ہے۔

Quanterix Banyanکے محققین دماغ کی چوٹوں کے علاوہ الزائمر کی بیماری سے منسلک کچھ پروٹین سمیت مختلف بائیومارکرز کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔روسوسکیکی کا کہنا ہے کہ ’دونوں کمپنیاں کچھ ریسرچ پروجیکٹ پر مل کر کام کرر ہی ہیں اور یہ کہ اُن کی کمپنی کی حساسیت اِس حوالے سے بھی اہم ہوگی کہ مختلف بائیومارکرز کو کس طرحِ طّبی ترتیب میں اِستعمال کیا جا سکتا ہے ۔ٹیسٹ کے ذریعے طویل مدتی نقصان کے خطرے کا جائزہ بہت ضروری ہے کیونکہ چوٹ کے بعد اِن پروٹین مارکرز کی سطح وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ہر مارکر چوٹ کے بعد خون میں اپنی مقدار کو بڑھاتا ہے ۔وقت کی رفتار کے ساتھ ساتھ مقدار کی رفتار بھی بڑھتی ریتی ہے۔اِس کے لیئے ایک مہنگے اور طویل مطا لعے کی ضرورت پڑے گی۔ہائیز کا کہنا ہے کہ’ بائیومارکر کی طِبی اَفادیت کو سمجھنے سے کہیں زیادہ آسان ہے اسکو دریافت کرناہونگے۔

روسوسکی کا کہنا ہے کہ اُنکی کمپنی ایک دستی آلہ تیار کرنے کے بارے میں غور کر رہی ہے جو فُٹ بال کھیل میں لگی چوٹ کی شدت کابھی اندازہ کر سکتا ہے۔اُس کا کہنا ہے کہ اِس طرح کے آلے کو 2017ء کے آخر تک مارکیٹ میں آجائیگا۔لیکن ایسا کرنے کے لئے اُنہیں کسی صنعت کار کی مدد کی ضرورت ہو سکتی ہے جو اُن کے طِّبی ٹیسٹ کے اخراجات اُٹھا سکے۔

Authors

*

Top