Global Editions

بغیر ڈرائیور چلنے والی گاڑیوں کے لئے ٹویوٹا لایا نئی ٹیکنالوجی

بغیر ڈرائیور چلنے والی گاڑیوں کی تیاری کے لئے گوگل اور ٹیسلا سمیت کئی کمپنیاں میدان میں ہیں اور اس ضمن میں کئی عملی مظاہر بھی دیکھے جا چکے ہیں لیکن معروف کار ساز ادارے ٹویوٹا نے بھی اس میدان میں آنے کا اعلان کیا ہے لیکن ایک مختلف انداز اور ٹیکنالوجی کے ساتھ۔ ٹویاٹا کمپنی یہ نہیں چاہتی کہ اس کی تیار کی گئی گاڑی ازخود انداز میں شاہراہوں پر سفر کرے بلکہ ٹویوٹا یہ چاہتی ہے کہ گاڑی حادثے یا کسی بھی ہنگامی حالت سے بچائو کے لئے کنٹرول خود سنبھال لے تاکہ آپ حادثے سے بچ سکیں۔ اس حوالے ٹویوٹا کے تحقیق کاروں نے ایک نئی ٹیکنالوجی تیار کی ہے جسے وہ “Guardian Angel” کا نام دے رہے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کے تحت یہ نظام کسی بھی صورتحال میں گاڑی کا کنٹرول خود سنبھال سکتا ہے یا ڈرائیور کے اقدامات کو درست کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے تاکہ حادثات سے بچا جا سکے۔ ٹویوٹا کمپنی کا یہ اقدام دیگر کار ساز اداروں کی جانب سے اس لحاظ سے بھی مختلف ہے کیونکہ مختلف کمپنیاں ایسی گاڑیاں تیار کرنا چاہتی ہیں جنہیں ڈرائیور کے بغیر سڑکوں پر لایا جا سکے، تاہم ٹویوٹا ایسی گاڑی تیار کرنا چاہتا ہے جو انسانی اور مشینی ڈرائیونگ کا خوبصورت امتزاج ثابت ہو سکے۔ اس حوالے سے ٹویوٹا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے چیف ایگزیکٹو گل پراٹ (Gill Pratt) کا کہنا ہے کہ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے ہنگامی انداز میں آٹومیٹک بریکس کام کرتی ہیں تاہم ہماری وضع کردہ ٹیکنالوجی یہ کام ورچوئل ڈرائیور کے ذمہ ہے، اور ورچوئل ڈرائیور کسی بھی حادثاتی صورتحال سے بچائو کے لئے گاڑی کا کنٹرول عارضی طور پر سنبھال لے گا۔ واضح رہے کہ ٹویوٹا کمپنی نے روبوٹیک ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت کی مدد سے خودکار گاڑیوں کے تیاری کے لئے ایک ارب ڈالر اس میدان میں تحقیق کے لئے وقف کئے تھے۔ سان جوز نے بتایا کہ کمپنی اس ٹیکنالوجی کا عملی مظاہرہ جاپان میں Mt. Fuji کے علاقے میں کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس عملی مظاہرے کا مقصد یہ ہے کہ لوگ حقیقی حالات میں کس طرح ہنگامی صورتحال میں ردعمل ظاہر کرتے ہیں اور ہمارا گارڈین اینجل کس طرح اس صورتحال کوسنبھال سکتا ہے۔

تحریر: ول نائیٹ (Will Knight)

Read in English

Authors

*

Top