Global Editions

بائیوفیول کی پیداوار میں اضافے کے لئے ڈرونز کا استعمال

اگلے ماہ تحقیق کاروں کی ایک ٹیم ایک چھوٹے اڑنے والے ڈرون اور دو گرائونڈ ڈرونز جو حساس سینسرز سے لیس ہونگے کو سرغو sorghum(ایک پودا جِسے چارے ، غلے اور رس کے لیے کاشت کرتے ہیں) کے کھیت کا جائزہ لینے کے لئے مامور کئے جائینگے۔ یہ تینوں ڈرونز کو کئی طرح کے سینسرز سے لیس ہونگے اس کھیت کا تھری ڈی ماڈل تیار کرینگے اور اس ماڈل کی مدد سے تحقیق کار اس امر کا جائزہ لینگے کہ سرغو کے کھیت میں اگائی جانیوالی سرغو کی مختلف اقسام سے کس طرح بائیو فیول کی تیاری میں مدد لی جا سکتی ہے۔ تحقیق کاروں کے مطابق سرغو اب بائیو فیول کی تیاری کے لئے مکئی کا سب سے سخت حریف ثابت ہو سکتا ہے۔ اس پودے کو قحط زدہ علاقوں کے ساتھ ساتھ ان علاقوں میں بھی کاشت کیا جا سکتا ہے جہاں شدید گرمی پڑتی ہے یا جہاں پودوں کی افزائش کےلئے خاطر خواہ پانی دستیاب نہیں ہوتا۔ تاہم ان تمام خوبیوں کے باوجود ابھی تک یہ واضح نہیں کہ سرغو کی کونسی قسم بائیو فیول کے لئے بہترین ہے۔ آئندہ ماہ ہونے والی تحقیق میں ان ڈرونز کی مدد سے کھیت میں موجود ہر پودے کی خصوصیات کا اس طرح جائزہ لیا جائیگا کہ سرغو کی کون سی قسم اپنی اونچائی اور موٹائی کے حساب زیادہ سودمند ثابت ہو سکتی ہے۔ فضائی جائزہ لینے والا ڈرون 25 پائونڈ وزنی ہے اور اس میں ریڈار، حساس کیمرے، تھرمل انفراریڈ نصب ہونگے یہ ڈرون ہر دو ہفتے کے بعد دس ایکٹر رقبے پر محیط کھیت پر بیس منٹ تک پرواز کریگا اور مطلوبہ معلومات اخذ کریگا اس کے ساتھ ساتھ گرائونڈ ڈرونز بھی پودوں کے تنوں اور پتوں پر لگائے گئے سینسرز کی مدد سے مطلوبہ معلومات حاصل کریگا۔ اس سٹڈی کے لئے فضائی ڈرون تیار کرنے والی کمپنی Near Earth Autonomy کے سینئر روبوٹک انجینئر پال بارلٹ (Paul Bartlett) کا کہنا ہے کہ بائیو انرجی کے لئے سرغو کی وسیع پیمانے پر افزائش ایک بڑا قدم ہے اور اگر اس اناجی پودے کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہو جائے تو بائیو انرجی کے ذرائع کو بڑھایا جا سکتا ہے۔ بائیو فیول کی گھریلو سطح پر تیاری ماحولیات اور معیشت دونوں پر اچھے اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔ سرغو پودے سے تیار ہونے والا بائیو فیول توانائی کے روایتی ذرائع کے مقابلے میں تقریباً آدھی مقدار میں گرین ہائوس گیسز خارج کرینگے۔ روایتی توانائی ذرائع کو بائیو فیول میں تبدیل کرنے کے لئے سرغو پودے کی افزائش کے لئے آئندہ ماہ ہونے والا تجربہ بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس تجربے کی کامیابی سے بائیو فیول کے حصول اور ماحول دوست توانائی ذرائع کے لئے بہت مدد ملے گی۔ اس مقصد کے لئے امریکی محکمہ توانائی کی ریسرچ پراجیکٹس ایجنسی تیس ملین ڈالرز کی خطیر رقم بھی خرچ کر رہی ہے۔

تحریر: کرسٹینا کائوچ (Christina Couch)

Read in English

Authors

*

Top