Global Editions

ایک الیکٹرانک آلہ کس طرح تصویروں کے ذریعے آپ کی زندگی کو سمجھتا ہے

تحقیق کار ایک ایسا مصنوعی عصبی نیٹ ورک تیار کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جو تصاویر کے ذریعے آپ کی روزانہ کی سرگرمیوں کو شناخت کرتاہے۔ عصبی نیٹ ورک پر نئی تحقیق سے شاید کمپیوٹر ہمارے روزانہ کی سرگرمیوں کو جی پی ایس اور دل کی دھڑکن کو ماپنے والے آلے سے بھی زیادہ بہتر انداز میں جانچ سکتاہے۔ کمپیوٹر کے نئے ماڈل سے تصویروں کے ذریعے ہماری روزانہ کی سرگرمیوں کے بارے میں 83فیصد درست اندازہ لگانے میں کامیاب ہواہے۔ تحقیق کاروں کی ٹیم کی سربراہی امریکی ریاست جارجیا میں ٹیکنالوجی گریجویٹ ڈینیل کاسٹر(Daniel Castro) اور سٹیون ہکسن(Steven Hickson)کر رہے ہیں۔ یہ تصویریں خود پہنے ہوئے کیمروں مثلاً نیراٹیو کلپ(Narrative Clip)، می کیم (MeCam)، گوگل گلاس(Google Glass) اور گو پرو(Go Pro)کے ذریعے اتاری جاتی ہیں۔ ٹیم نے تخلیق کردہ نیٹ ورک کی ایک شخص کے 6 ماہ میں لی گئی 40 ہزار تصاویر پر کمپیوٹر کو ہدایات دیں۔ اس نیٹ ورک میں انسانی سرگرمیوں کے 19درجے مقرر کئے گئے ہیں۔ ان درجوں میں ڈرائیونگ، ٹی وی دیکھنا، خاندان کے ساتھ وقت گزارنا اور حفظان صحت کی سرگرمیاں شامل ہیں۔ ایک رضاکار کو اس کی روزانہ کی سرگرمیوں کے دوران تصویریں لینے کیلئے نیٹ ورک استعمال کرنے پر آمادہ کیا گیا۔ ایک الگ سے الگورتھم آلہ کمپیوٹر کے ساتھ منسلک ہے جو فرد کی سرگرمیوں کی تصویریں اتارتے ہوئے وقت اور دن کے حساب سے شمار کرتاہے۔ اس نیٹ ورک کی مدد سے کمپیوٹر کو فرد کی روزانہ کی سرگرمیوں کو نہ صرف سمجھنے بلکہ آئندہ کے شیڈول کے بارے میں پیش گوئی کرنے کی بھی صلاحیت حاصل ہو جاتی ہے۔ ہکسن نے بتایا کہ یہ باہمی اشتراک سے کام کرنے والا طریقہ کار ہے جسے ہم نے گہرائی کے ساتھ تصاویر کو دیکھ کر انہیں سمجھنے کا اہل بنایا ہے۔ تحقیق کار ایک ایسی ایپلی کیشن بنا رہے ہیں جو نہ صرف آپ کی روزانہ کی کھانے پینے کی عادات اور ورزش کا تجزیہ کرکے ممکنہ متبادل بھی تجویز کرتی ہے۔ اور جب یہ نیٹ ورک آپ کے شیڈول کو سمجھ جاتا ہے تو آپ کو تجاویز بھی دیتا ہے مثلاً یہ نیٹ ورک بتاتا ہے کہ راستے میں ٹریفک زیادہ ہونے کی وجہ سے آپ کو کام پر جلدی جانا چاہئے۔ کیسٹرو کہتے ہیں کہ یہ نظام پورا دن آپ کی سرگرمیوں کا بڑی مستعدی سے جائزہ لیتاہے۔ مائیکروسوفٹ میں ای میموری پر کام کرنے والے تحقیق کار گولڈن بیل کہتے ہیں کہ اس نظام کا اہم نقطہ یہ ہے کہ اس نظام میں تصاویر کی نوعیت کو سمجھا جاتاہے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ اس نظام کے ہر استعمال کرنے والے کو 40 ہزار تصاویر نہیں اتروانی پڑیں گی۔ ہکسن نے بتایا کہ ان کے دو نئے رضاکاروں نے پورا دن اپنی سرگرمیوں کو نیٹ ورک پر منتقل کیا تو اس نظام کی درستی کے ساتھ اندازہ لگانے کا معیار بڑھ گیا۔ ہر شخص اپنی سرگرمیوں کی پورے دن کی کیمرے کے ذریعے نگرانی اور تصاویر اتروانے میں نجی زندگی اور اعتماد کے نقطہ نظر سے ہچکچاتاہے۔ لیکن یہ تصاویر سسٹم استعمال کرنے والےکیلئے روزانہ کی سرگرمیوں کو جانچنے کیلئے انتہائی مفید ہے۔ اس کی خامی یہ ہے کہ اس نیٹ ورک سے لی گئی تصاویر مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے ہیکرز اور ایڈورٹائزنگ کمپنیوں کا آسان ہدف ہوتی ہیں۔ اس نظام کے ذریعے سے مشتبہہ افراد کی سرگرمیاں خودکار طریقے سے ریکارڈ بھی کی جاسکتی ہیں۔ تحقیق کار کہتے ہیں کہ اگر ڈیٹا کو انٹرنیٹ پر نہ دیا جائے تو ہیکرز اور اشتہاری کمپنیوں سے تحفظ مل سکتاہے۔ کیسٹرو کہتے ہیں کہ ہم نجی زندگی کو تحفظ دینے کے مسائل سے آگاہ ہیں اور اسے حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ مستقبل میں یہ مسائل پیش نہ آئیں۔

تحریر: گراہم ٹیمپلیٹن (Graham Templeton)

Read in English

Authors

*

Top