Global Editions

ایڈز سے بچاؤ کے لئے چینی تحقیق کاروں نے انسانی جنین تیار کر لیا

چین میں سائنسدانوں نے جنیاتی طور پر تبدیل شدہ ایڈز پروف انسانی جنین تیار کرنے کے لئے تجربات کئے تاہم یہ تجربات ناکامی سے دوچار ہوئے۔ بعد ازاں ایک نئی رپورٹ کے مطابق چینی تحقیق کاروں کی اس طرح کی دوسری کاوش کسی حد تک کامیاب ثابت ہوئی ہے۔ اس قسم کے متنازع تجربات اور ان تجربات کے قابل عمل ہونے کے لئے جاری تحقیق درحقیقت جنیاتی طور پر تبدیل شدہ سوپر ہیومن بنانے کی کوششوں کی جانب ایک کڑی ہے جس کے ذریعے تحقیق کار موروثی اور دیگر جان لیوا بیماریوں کا تدارک کرنا چاہتے ہیں۔ گوانگ ژہو (Guangzhou) میڈیکل یونیورسٹی کے تحقیق کار یونگ فین (Yong Fan) جنہوں نے حالیہ رپورٹ جاری کی ،ان کا کہنا ہے کہ اس امر کی پیش گوئی کی جا سکتی ہے کہ جنیاتی طور پر تبدیل شدہ انسان کی تٓخلیق ممکن ہے۔ یونگ اور ان کی ٹیم نے دو سو انسانی جنین اکٹھے کئے اور ایچ آئی وی سے بچائو کے لئے ان کے ڈی این اے کو تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ یونگ اور ان کی ٹیم کی حالیہ کاوش کو ایک طبی جریدے نے شائع کیا جسے بعد دو دن پہلے نیچر (Nature) نے شائع کیا۔ جنیاتی طور پر تبدیل شدہ بچوں کی تخلیق ابھی ایک متنازع امر ہے اور ایسی کاوشوں پر پابندی بھی عائد ہے مگر یہ اس وقت تک ہے جب تک اس حوالے سے ٹیکنالوجی مکمل طور پر اغلاط سے پاک نہ ہو جائے۔ اس حوالے سے یونگ کی ٹیم کا کہنا ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ جنیاتی طور پر تبدیل شدہ انسانوں کے تخلیق کے لئے ٹیکنالوجی پر کام جاری رہنا چاہیے کیونکہ اگر تجربات جاری نہیں رہیں گے تو ٹیکنالوجی میں موجود خامیوں کی نشاندہی کیسے ممکن ہوگی؟ اس کے ساتھ ساتھ ان تجربات کے نتیجے میں ہی کئی موروثی بیماریوں کا علاج دریافت کیا جا سکے گا۔ چینی تحقیق کاروں کے مطابق ایچ آئی وی پروف انسانی جنین تیار کرنے کے لئے انہیں CCR5 نامی جین کو ایڈٹ کرنا پڑے گا۔ کیونکہ اس جین کے حامل افراد ایچ آئی وی وائرس کے حامل ہوتے ہیں اور اس جین میں تبدیلی سے وہ پروٹین تیار ہی نہیں ہوتی جو انسانی جسم میں موجود مدافعتی خلیوں کو تباہ کر دیتی ہے۔ اسی طرح جرمنی میں ڈاکٹروں نے ایچ آئی وی کے حامل مریض پر تجربہ کیا اور اس میں اس شخص کو بون میرو ٹرانسپلانٹ کیا گیا جس کی جین کو ایڈٹ کیا گیا تھا۔ وہ مریض جسے اس تجربے کے بعد سے ’’برلن مریض‘‘ کہا جا؎تا ہے ایچ آئی وی سے شفایاب ہو چکا ہے۔ اسی طرح یونگ اور اس کی ٹیم جین ایڈیٹنگ کی تکنیک جسے CRISPR کہا جاتا ہے کی مدد سے انسانی جنین میں موجود جین CCR5 کو اس طرح ؎تبدیل کرنا چاہتے ہیں جس کے بعد ایچ آئی وی وائرس اس شخص کو متاثر نہ کر سکے۔ اس تکنیک کی مدد سے ایچ آئی وی پروف انسانی کی تخلیق ممکن ہے۔

تحریر: انٹونیو ریگالڈو (Antonio Regalado)

Read in English

Authors

*

Top