Global Editions

ایپل کے بعد اب واٹس ایپ بھی قانونی تنازع کا شکار ؟

معروف کمپنی ایپل کے امریکی محکمہ انصاف کے ساتھ انکرپشن کے معاملے پر تنازع بڑھنے کا امکان ہے اور اس امر کا بھی غالب امکان ہے کہ اس معاملے میں فیس بک بھی امریکی حکومت کے ساتھ ایسے ہی کسی تنازع کا شکار ہو جائے۔ ایپل کئی ہفتوں سے ایک مبینہ دہشت گرد کے زیر استعمال آئی فون کو ان لاک کرنے کے معاملے پر امریکی محکمہ انصاف اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ایک قانونی جنگ میں مصروف ہے دوسری جانب نیوریارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق فیس بک کے زیر ملکیتی ادارے واٹس ایپ کے ساتھ بھی امریکی محکمہ انصاف کو یہ شکایت درپیش ہے کہ واٹس ایپ کے ذریعے ہونے والی میسجنگ قانون نافذ کرنے والے اداروں کےلئے دستیاب نہیں ہے اور یہ ادارہ ان میسجز کو ڈی کرپٹ نہیں کر رہا۔ جبکہ کمپنی کے سافٹ وئیر کو ایپل آئی فون کی طرح اس طرح کا ڈیزائن کیا گیا ہے کہ کمپنی ان پیغامات کو ڈیکرپٹ کر کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مہیا نہیں کر سکتی۔ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ امریکی محکمہ انصاف ایپل کی طرح فیس بک کے ملیکتی ادارے واٹس ایپ کے خلاف بھی ایپل کی طرح کی قانونی کارروائی شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے یا نہیں تاہم یہ واضح ہےکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کمپنیوں کی جانب سے صارفین کو فراہم کی جانیوالی پرائیویسی سیکورٹی سے نالاں نظر آتے ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ آئی فون اور واٹس ایپ سافٹ وئیر میں ایسی گنجائش موجود ہے کہ دونوں کمپنیاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو درکار پیغامات تک رسائی دے سکتے ہیں۔ خفیہ تحریر نگاری کے ماہر اور جان ہاپکنز یونیورسٹی کے پروفیسر میتھیو گرین (Mathew Green) کا اس سوال کہ کیا آیپل قانون نافذ کرنے والے اداروں کو آئی میسجز تک رسائی دے سکتا ہے؟ تو ان کا جواب تھا ’’یقینناً‘‘۔ آئی فون اور واٹس ایپ دونوں کمپینوں کے پیغام رسانی کے سافٹ وئیر ایک ہی انداز سے ڈیزائن کئے گئے ہیں اور اس میں جو تکنیک استعمال کی گئی ہے اسے ” End to end encryption” کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جب موبائل فون ڈیوائسز کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ہوتا ہے تو ان پیغامات کو ڈیکرپٹ کرنے کی Key متعلقہ ڈیوائس میں ہی موجود ہوتی ہے۔ یہی ان سروسز اور دیگر عام سروسز میں بنیادی فرق ہے۔ واٹس ایپ اور آئی میسجز کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ ایپل اور فیس بک آپ کو گفتگو کے لئے اپنے اپنے پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے اور اس دوران اس کا کردار مڈل مین کا ہوتا ہے جو اس گفتگو کو محفوظ رکھنے کے لئے بنیادی Keys کو کنٹرول کرتی ہے۔ اب گارڈین کی رپورٹ کے مطابق دونوں ایپل اور واٹس ایپ کمپنیاں اپنے سافٹ وئیر کو وسعت دینے کے لئے کام کر رہی ہے تاکہ انکرپشن کے معاملے پر صارفین میں پائی جانیوالی تشویش ختم ہو سکے۔

تحریر: ٹام سیمونائیٹ (Tom Simonite)

Read in English

Authors

*

Top