Global Editions

ایپل کا دہشت گرد کا فون ان لاک کرنےسے انکار

ایپل کمپنی کے چیف ایگزیکٹو ٹم کوک (Tim Cook) نے ایف بی آئی کی جانب سے دہشت گردی میں ملوث ملزم کے زیر استعمال آئی فون اوپن کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ ملزمان رضوان اور تاشفین ملک نے سان بیرناراڈینو میں فائرنگ کر کے 14 افراد کو قتل کر دیا تھا۔ ایپل کمپنی کے اس اعلان کے بعد ٹیکنالوجی کی صنعت سے وابستہ کئی سرکردہ افراد نے ایپل کے اس موقف کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ تکنیکی اور قانونی ماہرین کوک کے اس موقف کی حمایت کرتے دکھائی دے رہے ہیں انکا کہنا ہے کہ ایف بی آئی کی جانب سے درخواست کو تسلیم کرنے سے غلط مثال قائم ہو گی اور اس کے بعد حکومت مختلف اوقات میں ایسے مطالبات کرتی رہے گی۔ دوسری جانب سوشل نیٹ ورک آپریٹر فیس بک نے آئی فون بنانے والی کمپنی اپیل کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔فیس بک نے ایپل کی جانب سے اس عدالتی فیصلے کی مخالفت کی حمایت کی ہے جس میں ایپل کو سان برنارڈینو میں ہونے والے حملے میں ملوث رضوان فاروق کے فون کے مواد تک رسائی کے لیے آیف بی آئی کی مدد کرنے کا حکم جاری کیا گیا تھا۔فیس بک کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ’ہم کمپنیوں کے سکیورٹی کے نظام کو کمزور کرنے والے مطالبات کے خلاف بھرپور لڑائی جاری رکھیں گے۔ ایسے مطالبات ڈراؤنی مثال ہے اور کمپنیوں کی اپنی مصنوعات محفوظ بنانے کی کوششوں کی راہ میں خلل ہیں۔ گوگل کے چیف ایگزیکٹو سندر پچائی نے بھی نہایت نرم الفاظ میں ایف بی آئی کے موقف کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے ٹوئیٹ میں کہا کہ ایف بی آئی کی جانب سے کیا گیا مطالبہ پریشان کن مثال قائم کریگا۔ ایپل کے چیف ایگزیکٹو نے معاملے پر اپنے بیان میں کہا کہ امریکی حکومت نے ایپل کو ایک بے مثل قدم اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے جس سے ہمارے صارفین کی سلامتی کو خطرہ ہے۔ ہم اس حکم کی مخالفت کرتے ہیں، جس کے حالیہ قانونی مقدمے کے علاوہ بھی اثرات ہیں۔

تحریر: ٹم سمسونائیٹ (Tom Simonite)

Read in English

Authors

*

Top