Global Editions

ایشیائی ممالک میں زرد بخار پھیلنے کا اندیشہ

کیا زرد بخار (ملیریا، ٹائیفایئڈ ، ہیضہ، معیادی بخار اور زکام ماضی کی چھوٹی بیماریاں تھیں ۔ یہ ایک دفعہ شروع ہوتیں تو پورے معاشرے میں پھیل جاتیں) خطرناک وبائی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے گزشتہ دنوں افریقی ملک کانگو میں زردبخار کے وبائی شکل اختیار کرنے کی ؎تصدیق کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ مہینوں میں ایک اور ملک انگولا میں متعدد ہلاکتیں ہو چکی ہیں اور انگولا میں ہونے والی ہلاکتیں گزشتہ تیس برسوں میں اس مرض سے ہونے والی ہلاکتوں میں سب سے زیادہ ہیں۔ اس صورتحال سے وبائی امراض پر تحقیق کرنے والے زیادہ پریشان دیکھائی دیتے ہیں کیونکہ ان دورافتادہ ممالک میں اس وبائی مرض سے بچائو کے لئے ویکسین سستی ہونے کے باوجود مرض پر قابو پانے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔ انگولا میں گزشتہ برس دسمبر سے اب تک اس مرض سے 225 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ زرد بخار سے بچائو کے لئے ویکسین موجود ہے تاہم شمالی امریکہ اور افریقہ میں یہ بخار وبائی شکل اختیار کر چکا ہے۔ زیکا وائرس اور ڈینگی بخار پھیلانے کا موجب بننے والے مچھر کی قسم Aedes aegypti اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں لوگ کچی آبادیوں میں رہتے ہیں اور وہاں بہترین شہری سہولیات دستیاب نہیں ہیں اس کے ساتھ ساتھ ان علاقوں میں رہنے والے لوگ حفاظتی ویکسئین سے بھی محروم ہیں۔ یہ وہ تمام عوامل ہیں جن کی بدولت یہ علاقے مچھروں کی تیزی سے افزائش اور متعدی امراض کے پھیلائو کا سبب بن رہے ہیں۔ اب تحقیق کار اس امر پر پریشان ہیں کہ اگر اس وباء پر قابو نہ پایا گیا اور یہ افریقہ اور ایشاء میں پھیل گئی تو دنیا بھر میں اس وباء سے بچائو کے لئے ویکسئین کی سپلائی بری طرح متاثر ہو گی اور بہت حد تک ممکن ہے کہ یہ ویکسئین طلب کو پورا ہی نہ کر سکے۔

تحریر: مائیک اوورکٹ (Mike Orcutt)

Read in English

Authors

*

Top