Global Editions

اہل کارکن کون ہیں؟

جارج میسن George Masson یونیورسٹی میں معاشیات کے پروفیسر ٹائلر کوون (Tyler Cowen) کی رائے ہے کہ جو ٹیکنالوجی کارکنوں کی پیداواری صلاحیتوں اور ان کی قدر کو اجاگر کرتی ہیں وہی ان کے معاوضوں اور آمدنی میں موجود عدم مساوات کو نمایاں کرتی ہی۔ ہمارے گھروں اور دفاتر میں ا کثریہ بحث ہوتی رہتی ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی سبب آمدنیوں میں عدم مساوات بڑھ رہی ہیلیکن درحقیقت آمدنی میں عدم مساوات کیذریعے کارکنوں کی کارکردگی کو بھی جانچا جا سکتا ہی۔اس کے ذریعے ہم یہ بھی جان لیتے ہیں کہ کون کیا اور کیسا کام کر رہاہے اس طرح زیادہ کام کرنے والوں اور کم کام کرنے والوں کی تنخواہوں کا فرق نمایاںہو جاتاہی۔

؎ صحافیوں ہی کو لے لیں پہلے کوئی نہیں جانتا تھا کہ کون سا آرٹیکل یا کالم پڑھا جارہا ہی۔ لیکن اب ڈیجیٹل میڈیاکی کمپنی جانتی ہے کہ کتنے لوگ کون سا آرٹیکل کتنی دیر تک پڑھتے ہیں اور کیا وہ دیگر رابطوں پر بھی کلک کرتے ہیں کہ نہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی اس شفافیت نے ہمیں کسی بھی لکھنے والے کی اہمیت اور قدر کے بارے میں بتایا ہی۔ جس کے نتیجے میں بہت سے صحافی جو پہلے بہت بڑی شخصیت سمجھے جاتے تھے اب ان کی وہ قدر نہیں رہی۔ ان کی تنخواہیں کم ہو گئی ہیں یا پھر وہ اپنی ملازمت گنوا بیٹھے ہیں۔ جبکہ بہت اچھے صحافیوں کو انٹرنیٹ پر بہت پڑھا جارہا ہے حتیٰ کہ انہوں نے اپنے نام کی ویب سائٹس اور بلاگ متعارف کروا دئیے ہیں۔ بعض نے تو اپنی میڈیا کمپنیاں بنالی ہیں جیسے ای ایس پی این (ESPN) پر فائیو تھرٹی ایٹ بلاگ (Five Thirty Eight Blog) کا ایڈیٹر نیٹ سلور (Nate Silver) ہے یا پھر ووکسVox) کا ایڈیٹر ایزرا کلینEzra Klein) اس طرح درست اندازے سے آمدن میں کمی یا بیشی ہوتی ہی۔

اسی طرح کسی بھی ادارے میں بہت سے ملازمین اچھا کام کرتے ہیں لیکن ان میں چند ملازمین ایسے ہوں گے جن کا متبادل بہت مشکل ہوتاہے یہی وہ لوگ ہیں جن کو ان کی اہمیت اور قدر کے حساب سے بھاری تنخواہیں دی جاتی ہیں۔ یہ رحجان کہ تنخواہوں کا سکیل یکساں ہونا چاہئی، ان لوگوں کیلئے جو سینئرنمایاں خصوصیات کے حامل ہیں شاید عدم مساوات پیدا کردی۔ البتہ تنخواہوں کے یکساں ڈھانچہ نسبتاً ایک ہی جگہ کام کرنے والے افراد کے درمیان گروہی یکجہتی پیدا کرتا ہی۔ اس دوران اعلیٰ عہدیدار اپنے ملازمین پر بے جادبائو نہیں ڈال سکیں گی۔ جیسے جیسے افراد کے مفید ہونے کی معلومات سے متعلق نظام تشکیل پاتا ہی، بہت کارکنوں کی طلب میں اضافہ ہوتا جاتاہی۔ افسران اچھے کارکنوں کو کام چھوڑ کر جانے سے روکنے کیلئے بہتر تنخواہوں کی پیش کش کرسکتے ہیں۔ کارکن بھی یہ نہیں سوچیں گے کہ ان کی اہمیت کم ہی۔
R بعض کارکن کوئی کام نہیں کرتے وہی دراصل کام چور ہوتے ہیں یا پھر وہ بہت تیز طرار اور ذہین ہوتے ہیں جو کام کرنے کی جگہ کو اپنی باتوں سے زہریلا کرتے ہیں۔ ایسے لوگ دفاتر میں زیادہ عرصہ کام نہیں کر سکتیک۔ جدید دور میں ان کے لئے یہ ناممکن ہو گیا ہے کہ وہ کام کرنے والے کارکنوں کے پیچھے اپنے آپ کو چھپا سکیں۔ ہر ورکر کا کمپیوٹر پر ان کے کام کا ریکارڈ ہوتا ہے اور وہاںانہیں پرکھا جاتاہی۔ٹیکنالوجی میں ترقی کے بعد اب کارکنوں کی جانچ پرکھ اور نگرانی مسلسل بڑھ رہی ہے اور کارکنوں کی انفرادی کارکردگی سے متعلق بڑھتے ہوئے ڈیٹا کا تجزیہ کرنا بھی آسان ہو گیا ہی۔

یہ تجزیہ اسی وقت شروع ہوجاتاہے جب کارکن کسی ملازمت کیلئے درخواست دیتاہی۔ کم از کم امریکہ میں تو افسران اور مالکان کی بڑی تعداد ملازمت دینے سے پہلے کارکن کا سابقہ ریکارڈ دیکھتے ہیں۔ بعض مالکان تو آن لائن ویڈیو گیم سے کارکن کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں۔ بعض مالکان تو ملازم رکھنے سے پہلے آن لائن ان کی اہلیت کا تجزیہ کرتے ہیں۔ اسی طرح فیس بک، ٹوئٹر، لنکڈ ان اور دیگر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس سے ہمیں کسی فرد کے سماجی کردار، تعلقات، کارکردگی اور اپنے کام کے سلسلے میں سنجیدگی کا پتہ چلتا ہی۔ اسی طرح سکولوں سے بھی ان کے طلباء کی کارکردگی اور کردار کے بارے میںدریافت کیا جا سکتا ہی۔کارکن سے متعلق معلومات اس کے گھر کے اردگرد یا انٹرویو کے دوران بھی حاصل کی جاسکتی ہیں۔ اگر اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھیں تو ممکن ہے کہ آئندہ مالکان ملازمین کی جینیاتی معلومات بھی حاصل کرنے لگ جائیں۔

تحریر: ٹائلر کوون

Authors
Top