Global Editions

آپ کا موبائل فون ہے یاخفیہ اداروں کا جاسوس

موبائل فون بظاہر تو باہمی رابطے ، معلومات کی ترسیل اور تفریح کا ذریعہ ہے لیکن خفیہ ادارے اسے اپنا جاسوس بنا چکے ہیں۔ موبائل فون پر کی گئی بات چیت، بھیجے یا وصول کئے گئے پیغامات، محفوظ کی گئی تصاویر یا ویڈیوز کچھ بھی خفیہ اداروں کی دسترس سے محفوظ نہیں۔ حتیٰ کہ محفوظ کیا گیا ڈیٹا (Encrypted)بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی آسان رسائی میں ہے۔ موبائل فون کے استعمال نے کسی بھی شخص کی نجی زندگی کی معلومات محفوظ نہیں رہنے دیں۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس بہت سے ایسے طریقے ہیں جن کے ذریعے وہ محفوظ کرنے کے باوجود آپ کے ڈیٹا تک نہایت آسانی سے پہنچ سکتے ہیں۔ ــــ’’دہشتگرد اندھیرے میں گم ہو رہے ہیں‘‘ یہ جملہ اس وقت وسط نومبر میں پیرس پر کئے گئے حملے کے بعد بے حد مقبول ہو ا۔ تحقیقات سے پتہ چلا کہ دہشتگردوں نے اپنے موبائل ڈیٹا کو محفوظ کر لیا تھا جس سے ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی۔ لیکن اب ہمارے سوچنے کی باری ہے کہ ہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنے ڈیجیٹل ڈیٹا تک رسائی کی کھلی چھٹی دے دیں یا دہشتگردوں کو جیتنے دیں؟

یہ سچ ہے کہ ہمارا زیادہ تر ابلاغ ٹیکسٹ پیغامات اور فون کال سے موبائل ایپلی کیشنز کی طرف منتقل ہو گیا ہے جس نے ڈیٹا کو خاصا تحفظ دیا ہے۔ لیکن بے پناہ ڈیٹا ایسا ہے جو محفوظ نہیں کیا جا سکتا یا نہیں کیاگیا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ ہمیں غلط سرگرمیوں میں ملوث لوگوں کو پکڑنے کیلئے اس قسم کے ڈیٹا کی ضرورت پڑتی ہے۔ ایسے ڈیٹا تک رسائی کے تمام طریقوں کو قانونی حیثیت حاصل نہیں ہے۔ جب سے خفیہ ادارے دہشتگرد تنظیموں کے سرگرم کارکنوں اور صحافیوں کی مسلسل نگرانی کرنا شروع ہوئے ہیں، تب سے میری طرح کے موبائل ایپلی کیشنز بنانے والے بہت سے لوگ ڈیٹا تک رسائی کے نظریئے کا دفاع کررہے ہیں۔ موبائل ڈیٹا کو حاصل کرنے کے جو طریقے استعمال کئے جارہے ہیں ان میں چند تو یہ ہیں:

موبائل فون پر خدمات فراہم کرنے والی کمپنیاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کہنےپر یوزر کی کال، انٹرنیٹ کے استعمال اور ہر حرکت کی نگرانی کرتی ہیں اور اس کیلئے انہیں کسی وارنٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔

ہم واٹس ایپ اور ایپل کی معروف ایپلی کیشنز کو بہت محفوظ سمجھتے ہیں لیکن ان کا ڈیٹا بھی یوزر کے علم میں لائے بغیر حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح یوزر کے علم میں لائے بغیر کمپنی اپنے سسٹم میں نگرانی کے آلات لگا دیتی ہے۔ اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے خدمات فراہم کرنے والی کمپنی کو مجبور کریں کہ یوزر کے علم میں لائے بغیر نگرانی کے آلات منسلک کردے تو اس کی گفتگو کی با آسانی نگرانی ہو سکتی ہے۔

کلائوڈ ڈیٹا کو بہت محفوظ سمجھا جاتا ہے لیکن ہمارے تصور میں بھی نہیں ہوتا کہ ہم اپنے ڈیٹا کو مداخلت کاروں سے تو محفوظ کر رہے ہیں لیکن یہ کمپنیوں کی آسان رسائی میں ہے۔ بعض کمپنیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ ڈیٹا کلائوڈ میں محفوظ کرتی ہیں لیکن یوزر اس پاس ورڈ کو محفوظ نہیں رکھتا جو کمپنی فراہم کرتی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے، کلائوڈ ڈیٹا کے تمام پیغامات، رابطہ نمبرز، کیلنڈرز، تصاویر، یوزر کے مقام کا دیٹا اور بہت کچھ جو یوزر غیر ارادی طور پر محفوظ کردیتا ہے ، حاصل کرسکتے ہیں۔ اس طرح ہم جانتے ہیں یا نہیں لیکن اپنی نجی معلومات کو خود ہی ظاہر کررہے ہیں۔

تحریر: ناتھن فریٹاس (Nathan Freitas)

Authors
Top