Global Editions

آن لائن کورسز۔۔۔ نئے طریقہ تعلیم کا احیاء یا پرانے نظام تعلیم کی تباہی

چند سال پیشتر وسیع پیمانے پر آن لائن کورسز (Massive Open Online Courses) کے پرجوش حمایتی اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ یہ طریقہ تعلیم صدیوں پرانے تعلیمی نظام کو تبدیل کر دیگا۔ ان کا خیال تھا کہ انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کی مدد سے سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں طالب علموں کو اعلی درجے کی تعلیم مہیا کی جا سکتی ہے اور یہ تعلیم میعار کے اعتبار سے ہاروڈ، سٹینڈفورڈ اور ایم آئی ٹی سے کسی بھی طرح کم نہیں ہو گی جہاں درجنوں طالب علموں کو مخصوص کلاس رومز میں معمول کے مروجہ طریقوں کے مطابق اعلی تعلیم سے نوازا جاتا تھا۔ اس نئے طریقہ تعلیم کو اعلی تعلیم کے حصول کو سہل بنانے اور اسے عوام الناس تک پھیلانے کا ذریعہ سمجھا گیا تھا جو ان اعلی تعلیمی اداروں تک مالی و دیگر ذرائع نہ ہونے کے باعث تعلیم حاصل نہیں کر سکتے تھے۔ اس ضمن میں اب ماہرین کا خیال ہے کہ انٹرنیٹ کے ذریعے اعلی تعلیم کے حصول کے لئے آن لائن کورسز کے اجراء سے یا تو مروجہ نظام تعلیم یکسر تبدیل ہو جائے گا یا پھر مکمل طور پر تباہ ہو جائیگا۔ کمپیوٹر سائنسٹسٹ سبیسٹین تھورن (Sebastain Thrun) جو انٹرنیٹ کے ذریعے آن لائن کورسز فراہم کرنے والے ادارے کے شریک بانی ہیں انہوں نے پیشن گوئی کی تھی کہ آئندہ پچاس برسوں میں صرف ایسے دس تعلیمی ادارے ہونگے جو اعلی تعلیم فراہم کرنے کی ذمہ داریاں نبھائیں گے۔

پھر وہ وقت بھی آیا جب اس عمل کا ردعمل سامنے آنے لگا۔ اس ضمن میں سان جوز سٹیٹ یونیورسٹی (San Jose State University) میں ایک اہم عملی مظاہرہ ہوا۔ اس یونیورسٹی اور دیگر اداروں کے اساتذہ وسیع پیمانے پر آن لائن کورسز کے اجراء کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے اس انداز فکر کو مسترد کیا کہ آن لائن کلاسز کا اجراء کلاس رومز میں اساتذہ کی ضرورت کو ختم کر سکتا ہے یا ان کی اہمیت کو کم کر سکتا ہے۔ وسیع پیمانے پر آن لائن کورسز کے مختصر دورانئےوالے پروگرام بھی توجہ کا مرکز بنے۔ اس سارے ماحول میں خود سبیسٹین تھورن (Sebastain Thrun)بھی فریب نظر کا شکار ہوا اور اس نے اپنے ادارے کے فراہمی تعلیم کے عزائم میں کمی لاتے ہوئے لوگوں کو کارپوریٹ تربیت کی طرف توجہ مرکوز کی۔

اس سب کے باوجود تجربات کے ایک نئےعہد کا آغاز ہو گیا۔ اگرچہ چند ادارے اس عمل سے باہر رہے اور چند نے اس عمل میں دلچسپی کا اظہار بھی کیا۔ 2013 میں جارجیا ٹیک نے کمپیوٹر سائنسز میں پہلے آن لائن ماسٹر ڈگری پروگرام کا اعلان کیا جس کی فیس 6600 ڈالرز رکھی گئی اور یہ کیمپس میں حاصل ہونے والے ڈگری کورسز کے تقریباً ہم پلہ ہی تھی۔ اس کورس کے لئے چودہ سو طالبعلموں نے داخلہ لیا۔ یہ واضح نہیں کہ دیگر شعبوں میں ایسے پروگرامز شروع کئے گئے کہ نہیں؟ اور جارجیا ٹیک ڈگری کے حامل افراد کو روزگار کے مواقع ملے یا نہیں؟ البتہ اس پروگرام نے یہ ثابت کر دیا کہ وسیع پیمانے پر آن لائن اعلی تعلیم کا حصول ممکن ہے اور لاگت کے اعتبار سے بھی یہ قابل عمل ہے۔
اسی دوران آن لائن کورسز کی تعداد بڑھنا شروع ہو گئی اور یہ ان لوگوں کے لئے خاصی پرکشش تھی جو اپنے کسی خاص شعبے کے لئے سند نہیں رکھتے تھے۔ اس حوالے سے دلچسپ معلومات سامنے آئیں کہ درحقیقت وسیع پیمانے پر آن لائن کورسز سود مند ہیں یا نہیں۔ ایم آئی ٹی کے ڈیوڈ پرٹچارڈ (David Pritchard) اور دیگر تحقیق کاروں کی ایک جائزہ رپورٹ (Mechanics Review) میں شائع ہوئی جس میں آن لائن کورسزاور کیمپس میں جاری کورسز کے ساتھ تقابلی جائزہ لیا گیا۔ جائزے سے یہ امر سامنے آیا ہے کہ آن لائن کورسز مشکل مواد کے ابلاغ میں سود مند ہیں حتٰی کہ ان طالب علموں کے لئے بھی وہ سودمند ثابت ہوئے جو ایم آئی ٹی کے مطلوبہ میعار پر پورا نہیں اترتے تھے۔ اصل میں آن لائن کورس کے طالب علم فزکس کے مضمون کے بارے میں بنیادی معلومات رکھتے تھے اور انہوں نے امتحان میں ریگولر طالب علموں کی طرح اس مضمون میں نمایاں بہتری دکھائی۔ پرٹچارڈ کے مطابق ہو سکتا ہے کہ آن لائن طالب علموں نے "F" کےساتھ آغاز کیا ہو اور "F" پر ہی اختتام ہوا ہو لیکن وہ کلاس کے اچھے طالب علموں کی مانند اس مضمون کو سمجھنے اور اپنی استعداد کار بڑھانے میں کامیاب رہے ہیں۔

پرٹچارڈ وسیع پیمانے پر آن لائن کورسز پیش کرنےوالے اداروں کے بزنس ماڈل پر سوال اٹھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کے نزدیک یہ ادارے ایک پائیدار بزنس ماڈل نہیں رکھتے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ یہ ادارے جن افکار کی ترویج کر رہے ہیں اور ٹیکنالوجی کی مدد سے طالب علموں کو اعلی تعلیم سے نواز رہے ہیں وہ درحقیقت ٹیکنالوجی اس استعمال کے پہلو کو ضرورت سے زیادہ اجاگر کر رہے ہیں۔

سند اعتبار
آن لائن کورسز کے ضمن میں ایک اہم اور قابل توجہ معاملہ ہے ان کورسز کو اختیار کرنے والوں کی شرح انخلاء۔ ایک رپورٹ کے مطابق نوے فیصد طالب علم اپنے کورسز کو ختم نہیں کرتے۔ Penn نامی ادارے کے جائزے کے مطابق انخلاء کی یہ شرح 96 فیصد ہے۔ اس حوالے سے پرٹچارڈ کا کہنا تھا کہ آن لائن کورسز میں شریک ہونے والوں کی اکثریت سنجیدہ طالب علموں کی نہیں، درحقیقت وہ خود کو تفریح کے لئے ان کورسز میں خود کو انرول کرتے ہیں اور مفت میں ایک دو لیکچروں میں شرکت کو وہ معیوب نہیں سمجھتے۔ Penn کی رپورٹ کے مطا بق ا ٓن لائن کورسز میں داخلہ لینے والےطالب علموں کی نصف تعداد پہلی آن لائن کلاس سے کورس چھوڑ جاتے ہیں۔ پرٹچارڈ ایم او او سی کورس کے لئے سترہ ہزار طالب علموں نے خود کو ان رول کرایا، صرف دس فیصد طالب علموں نے دوسری اسائنمنٹ مکمل کی لیکن ان کی صرف نصف تعداد نے سرٹیفکیٹ کے خاتمے تک آن لائن کلاسز میں شرکت جاری رکھی۔

موکس (Massive Open Online Courses) کے بارے میں ہارورڈ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کا کہنا ہے کہ ہم موکس کے ذریعے اعلی تعلیم کی فراہمی کے ایک برتر مقام پر پہنچ رہے ہیں کیونکہ آن لائن لیکچرز کے ذریعے ہم طلبا کو اپنے ساتھ منسلک رکھتے ہیں تاہم بعض ایسی چیزیں بھی کیمپس کے اندر وقوع پذیر ہوتی ہیں جو ٹیکنالوجی کے ذریعے منتقل نہیں کی جا سکتیں۔ بالغ افراد خصوصاً ایسے افراد جو تعلیم حاصل کرنے کی رسمی عمر سے آگے نکل چکے ہوں ، ان کے لیے یہ نہایت فائدہ مند ہے۔ ایسے افراد جو اگر کسی موضوع میں دلچسپی نہ رکھتے ہوں یا کسی وجہ سے کلاس نہ لینا چاہیں، وہ اپنی سہولت کے مطابق موکس چھوڑ سکتے ہیں۔ جبکہ کیمپس کی تعلیم میں انہیں 12 ہفتے کا سمسٹر پورا کرنا ہوتا ہے۔

ٹیوشن کا جواز
جب ہاورڈ اور ایم آئی ٹی نے edX کی تشکیل کا اعلان کیا تو اس وقت اس کی تشکیل کا مقصد اختراعی تعلیم کا حصول بتایا گیا تھا۔ اس ضمن میں انہوں نے کم از کم کیمبرج کی حد تک ہی سہی لیکن طلباء کی توجہ ضرور حاصل کی۔ لیکن اس کے ساتھ ہی آنے والے وقت کے اشارے بھی ملنا شروع ہو گئے تھے۔ موکس پروگرام بذات خود کالج کی تعلیم کا نعم البدل ثابت ہوسکتے تھے تاہم ایسا نہیں ہوسکا۔البتہ موکس کی تیار کی گئی ٹیکنالوجیز آن لائن پروگراموں کے علاوہ کیمپس کے اندر بھی استعمال کی جاسکتی ہیں۔ ایم آئی ٹی میں ڈیجیٹل لرننگ کے ڈائریکٹر سنجے شرما کا کہنا ہے کہ ایم آئی ٹی کے طلبہ اگرچہ موکس کو پیش کرنے کا کریڈٹ نہیں لے سکتے تاہم وہ ان سے استفادہ ضرور حاصل کرتے ہیں۔ ان میں سے دو تہائی طلبا نے ایڈ ایکس(edX) کا سافٹ وئیر پلیٹ فارم استعمال کیا ہے۔ہارورڈ کے کمپیوٹر ماہر ڈیوڈ مالن کا کہنا ہے کہ ان کے کیمپس میں طریقی تدریس میں جدت لانے پر بحث مباحثہ جاری ہے۔ مالن نے کمپیوٹر سائنسز کے جو نئے کورسز متعارف کرائے ہیں ، وہ دن بدن مقبول ہورہے ہیں۔ ہارورڈ کے آن کیمپس پروگرام میں 800 طلبہ رجسٹر ہیں جبکہ موکس کے فاصلاتی نظام میں ساڑھے تین لاکھ سے زائد طلبا رجسٹر ہیں جن کا تعلق دنیا بھر سے ہے اور ان آن لائن طلبا کی عمریں 14 سے 80 برس کے درمیان ہیں۔ آن کیمپس اور موکس دونوں پروگرام میں ایک جیسے اعلیٰ معیار کے تدریسی طریقے استعمال کیے گئے ہیں ، دونوں کا تدریسی معیار بھی یکساں ہے۔ مالن نے لیکچرز کی ریکارڈنگ 1999 میں شروع کی تھی تاہم ان کا کہنا ہے کہ موکس کے لیے لیکچرز کی ریکارڈنگ میں بعض تبدیلیاں بھی کی جاسکتی ہیں۔ مثال کے طور پر کلاس روم میں دئیے گئے لیکچر کے غیر ضروری حصے حذف کردئیے جائیں یا لیکچر کے اہم ترین حصے الگ الگ کرکے ان کو ازسرنو ترتیب دیا تاکہ وہ مختصر مگر پراثر ہوسکیں۔اس طرح طلبا خود یہ فیصلہ کر سکیں گے کہ انہیں پورا لیکچر چاہئیے یا اس کا کوئی مخصوص حصہ۔ یہاں تک کہ کیمپس کے طلبہ بھی اگر براہ راست لیکچر نہ لینا چاہیں تو وہ اس کی ریکارڈنگ کا مطلوبہ حصہ حاصل کرسکیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ میں بھی یہ چاہتا ہوں کہ لیکچر میں 800 کے بجائے صرف وہ 400 طلبا ہی آئیں جو واقعی لیکچر لینا چاہتے ہیں۔اس طرح موکس ایک جدید نظام تعلیم وجود میں آنے کا امکان روشن ہوا ہے تو دوسری طرف روایتی نظام تعلیم کے لیے ایک ایک خطرہ بھی پیدا ہوگیا ہے۔ ایم آئی ٹی کے پرٹچارڈ کے بقول موکس کے آنے کے بعد سالانہ 45000 ڈالر ادا کرنے والے طلبا کو مطمئن کرنا مشکل ہوگا کہ جو لیکچر وہ اس خطیر رقم کے بدلے لیتے ہیں وہی لیکچر نہایت معمولی اخراجات کے بدلے انٹرنیٹ پر بھی مل سکتا ہے۔

اعلی تعلیم میں موکس (Massive Open Online Courses) کے بڑھتے ہوئے عمل دخل کے بعد یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ یہ پروگرام سکولوں میں بھی مقبول ہورہا ہے۔ موکس میں داخلہ لینے والے طلبا میں سے 28 فیصد اساتذہ ہیں یا پھر تدریس کے شعبےسے وابستہ رہے ہیں۔ ہارورڈ میں مالن کے کورس میں جہاں ٹیوشن ، فیس، کمرے اور دیگر اخراجات کی مد میں طلبا کو سالانہ 58607 ڈالر ادا کرنے پڑتے ہیں ، وہی تعلیم موکس پر بھی مل جاتی ہے۔ تاہم وہ تجربات جو کیمپس پر ہوتے ہیں ، انہیں ٹیکنالوجی کے ذریعے منتقل نہیں کیا جا سکتا۔ ہارورڈ کے طلبا جو اپنے چند ساتھی طلبا کے ہمراہ کورس کے لیکچرز اور ان کی دہرائی سے بھی مستفید ہوتے ہیں ، ہفتے میں 90 آموختہ اور چار راتوں کا دفتری کام بھی، یہ سب موکس میں نہیں ہوسکتا۔ کیمپس کی جو کلاس ڈائننگ ہال میں ہوتی ہے اور ایسی کلاسز کے یونیورسٹی کے 100 سے زائدٹیچنگ سٹاف شریک ہوتے ہیں۔ جبکہ دوسری جانب موکس میں طلبا کی بہت بڑی تعداد کے پیش نظر ٹیچنگ سٹاف کے ساتھ پانچ ٹیچنگ اسسٹنس(teaching assistants) بھی ہوتے ہیں۔ ان مباحث میں ہارورڈ ہی نہیں، دیگر سیکڑوں یونیورسٹیوں کے طلبہ بھی شریک ہوتے ہیں۔ انہیں ملازمتوں کے حصول کے لیے سرٹیفکیٹ ہی نہیں بلکہ اپنی درسگاہوں کے نیٹ ورک تک رسائی بھی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موکس براہ راست تعلیمی اداروں کے لئے خطرہ نہیں بلکہ یہ دونوں مل کر ایک ایسا تعلیمی نظام تشکیل دے رہے ہیں جو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اس شعبے میں انقلاب لے آئے گا۔

اساتذہ کی تربیت
اساتذہ اور محققین نے موکس کے فوائد اور طلبا پر اس کے اثرات پر کام شروع کر دیا ہے۔ پرٹچارڈ جیسے محققین جو موکس کے ہر قدم کو ریکارڈ کر رہے ہیں ، ان کے مطابق روایتی طلبا کے لیے موکس ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص ہر وقت کندھے پر کیمرہ اٹھائے گھوم رہا ہو۔ تاہم یہ ریکارڈ شدہ ڈیٹا مضامین کی تعلیم تدریس اور اس کا طریقہ کار بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔ نیو امریکا فائونڈیشن کے ڈائریکٹر کیون کیری نے موکس (Massive Open Online Courses) پر تحقیق کرتے ہوئے بتایا کہ ابھی اس پروگرام کو وہ مقام حاصل نہیں ہوسکا جس کا یہ حقدار ہے۔ ان پروگراموں میں طلبہ کی تعداد تو بہت زیادہ ہے لیکن انہیں پڑھانا مشکل ہے کیونکہ تمام طلبہ ایک جیسے پس منظر سے تعلق نہیں رکھتے۔ ان کا کہنا ہے کہ طلبا کو آن لائن پڑھانا ایسے ہی جیسے دوسری جماعت کے طلبہ کو ساتویں جماعت تک لانا۔ ان کا نیا پروگرام ایڈوانسڈ پلیس منٹ فزکس کے متعلق ہے۔ اس پروگرام میں شرکت کرنے والے ہائی سکول کے طلبہ کو کچھ مشکلات کا سامنا بھی ہے لیکن ان کا خیال ہے کہ یہ پروگرام سکولوں اور اس کے بعد اعلی تعلیم کے لیے سود مند ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ اساتذہ اس پروگرام کے ذریعے جو کچھ سیکھیں گے، وہ اپنے طلبا کو منتقل بھی کریں گے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ موکس نے ان بہت بڑی توقعات کو پورا نہیں کیا جو اس سے وابستہ کر لی گئی تھیں۔ تھورن جیسے موکس کے حامیوں اور مصلیحین کا خیال تھا کہ ریڈیو، ٹی وی، ڈاک یعنی ہر ذریعے سے تعلیم و تدریس کا سلسلہ جاری کیا سکتا ہے۔ کامیابی یا ناکامی کاسوال ایک طرف رکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان تمام طریقوں نے تعلیم کے فروغ میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ کون سا طریقہ کب کامیاب ہوتا ہے، یہ سوال بھی غیر اہم ہے کیونکہ جو کامیابی پہلے حاصل نہیں ہو سکی، وہ اب ہوسکتی ہے۔ اب اگر موکس کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس کی واحد وجہ صرف یہ ہوگی کہ تعلیمی اداروں نے اس طریقے کو استعمال کرنے کا ہنر سیکھ لیا ہے۔

تحریر: جسٹن پوپ (Justin Pope)
(جسٹن پوپ اعلی تعلیم کے رپورٹر کی حیثیت سے ایسوسی ایٹد پریس کے ساتھ وابستہ رہے ہیں۔ اس وقت وہ لانگ ووڈ یونیورسٹی ورجینیا میں چیف آف سٹاف ہیں)

Read in English

Authors
Top