Global Editions

آن لائن لائبر یریوں تک رسائی

انٹرنیٹ نے علم کو ہماری دسترس میں کردیا ہے اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دنیا کے تمام لٹریچر کو آن لائن لے آئیں۔ اگر ہم صرف چند لائبریریاں بنانے پر اکتفا کریں گے اور علم کی مرکزیت اور پھیلائو میں مزاحمت کریں گے تو یہ درست نہیں ہو گا۔ علم کی مرکزیت سے کتابوں کی قیمتوں پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ ہمیں علم پھیلانے کیلئے بہت سے اشاعتی اداروں، فروخت کنندگان، مصنفین اور کتابیں پڑھنے والوں کی ضرورت ہے۔ اگر یہ تمام عناصر مل کرکام کریں تو ورلڈ وائڈ ویب سے ملتاجلتا ہمارا بہت سے اشاعتی اداروں اور لائبریریوں پر مشتمل ایک مضبوط نظام بن سکتاہے۔ امریکی عدالتوں نے بڑی لائبریریوں کی طرف سے علم تک محدود رسائی دینے کی سوچ کو مستردکردیا اور گوگل کو بے شمار الیکٹرانک کتابوں پر مشتمل لائبریری قائم کرنے کی اجازت دیدی ہے۔ عدالتوں نے کتابوں کو انٹرنیٹ پر لانے کیلئے اجتماعی لائسنس دینے اور بُک رائٹ رجسٹری کرانے کی تجویز دی ہے جس سے گوگل کو ایسی کتابیں شائع کرنے کا لائسنس دیدیا گیا ہے جن کے مصنفین اور پبلشرز ان پر دعویٰنہیں کرتے۔ لیکن کتابیں پڑھنے کے شوقین حضرات کیلئے یہ ایک محدود سہولت ہے۔ اب امریکہ کی غیر منافع بخش ڈیجیٹل پبلک لائیبریری کے کچھ حامی ایسی قانون سازی کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں جو شاید ہمیں اسی طرح کےلائسنس کی طرف لے جائے۔ ڈیجیٹل پبلک لائیبریری کو بھی وسیع لائبریریوں اور اشاعتی نظام قائم کرنے میں مدد دینی چاہئے۔ یہ وہ بیج ہے جو پہلے ہی بویا جاچکا ہے۔ تمام لائبریریوں کو الیکٹرانک کتابیں اسی طرح فراہم کرنی چاہئیں جس طرح وہ عام کتابیں فراہم کرتی ہیں اور انہیں اپنا علیحدہ سے ڈیٹا بیس قائم نہیں کرنا چاہئے۔ لائبریریاں پہلے ہی اپنی وسعت کے مطابق الیکٹرانک بکس خرید رہی ہیں۔ اب تو چھوٹی لائبریریاں بھی بڑا ذخیرہ کتب جمع کرسکتی ہیں کیونکہ ایک ہارڈ ڈرائیو میں رنگین پی ڈی ایف کی ایک لاکھ 50ہزار کتابیں اور ان کا کیٹلاگ ڈیٹارکھا جا سکتا ہے۔ آن لائین کتابیں فراہم کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے جیسا کہ نیٹ فلیکس (Netflex)اور ایمازون (Amazon)کی مثال دی جاسکتی ہے۔ لائبریریوں کے مالکان دو لاکھ کے قریب الیکٹرانک کتابیں خرید کر انٹرنیٹ پر لاسکتے ہیں۔ اگرچہ بہت سے پبلشرز نے لائبریریوں کو الیکٹرانک کتابوں کی فروخت پر پابندی عائد کردی ہے۔ لیکن امید ہے کہ یہ پابندی عارضی ہو گی۔ہمارے پاس اگرچہ بہت سی ای-کتابیں E-books))ہیں لیکن اس کے باوجود بے شمار کتابیں کمپیوٹر پر لاسکتے ہیں اور یہ کام پہلے سے ہو بھی رہاہے۔ اگر ہم ارادہ کرلیں تو سات ملکوں کی 31لائبریریوں میں روزانہ ایک 1000 کتابیں انٹرنیٹ پر لاسکتے ہیں۔ بوسٹن پبلک لائبریری اور لائبریری آف کانگرس میں روزانہ سینکڑوں کتابیں کمپیوٹر پر لائی جارہی ہیں۔ اسی لئے یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ لائبریریاں انٹرنیٹ پر ذخیرہ کتب بنانے پر کام کررہی ہیں اس وقت بھی 20 لاکھ کے قریب ویب سائٹس ایسی ہیں جو پڑھنے والوں کو مفت میں کتابیں حاصل کرنے، انہیں پڑھنے کی اجازت دیتی ہیں۔ اب ہمارے پاس تمام لوگوں کیلئے قابل رسائی آن لائن لائبریری بنانے کا موقع ہے۔ بوسٹن پبلک لائبریری اور یونیورسٹی کی لائبریریوں کے برابر آنے کےلئے ہمیں ایک لاکھ کتابوں کی ضرورت ہے۔ یہ کتابیں چار سال میں ایک لاکھ 60ہزار ڈالر خرچ کرکے جمع کی جاسکتی ہیں۔اس کے لئے امریکہ کی غیر منافع بخش ڈیجیٹل پبلک لائیبریری پنے74104654 وسیع نظام اور ڈیٹا کی وجہ سے ایسی لائبریریاں قائم کرنے میں مدد دے سکتی ہے لہذ ا اگر ہم انٹرنیٹ اور ورلڈ وائڈ ویب کی مثال سامنے رکھتے ہوئے مل کر کام کریں توتمام لوگوں کی آن لائن لائبریری کے ذریعےعلم تک رسائی ممکن بنائی جاسکتی ہے ۔

تحریر: بریوسٹر کاہلے، رک پریلنگر(Brewster Kahle, Rick Prelinger) (بریوسٹر کتابوں کی انٹرنیٹ آرکائیو کے بانی ہیں جبکہ رک پریلنگرمصنف، فلم میکر اور آرکائیو زپر کام کرتے ہیں۔)

Read in English

Authors
Top