Global Editions

آن لائن تعلیم کیلئے چینی حکومت کے اقدامات

چین میں روائتی طریقہ تعلیم میں تبدیلی لانے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ جسے دیکھتے ہوئے تعلیمی میدان میں چین کی کئی نئی کمپنیاں تدریس کے نئے طریقے کو متعارف کروا رہی ہیں۔ جبکہ چین کی یونیورسٹیاں امریکہ سے متاثر ہو کر آن لائن ایجوکیشن کا پلیٹ فارم استعمال کر رہی ہیں۔ دو دہائیوں سے چین کی وزارت تعلیم ملک کے100ملین دیہی طلبا کو ٹیلی ویژن کے ذریعے زرعی اسباق نشر کررہی ہے جس سے یہ دنیا کا سب سے بڑا پروگرام بن گیا ہے اس سے طلباء کی ایک بہت بڑی تعداد فائدہ اٹھا رہی ہے۔ جبکہ 2000ء کے شروع میں ایک فلاحی تنظیم لی کا شینگ فائونڈیشن (Li Ka Shing Foundation)نے 10,000سکولوں میں سیٹلائیٹ ڈشز اور کمپیوٹرز کی تنصیب کی۔ اب اس ماڈل کی بہت سی یونیورسٹیاں تقلید کررہی ہیں۔ تاہم ابھی یہ رحجان چین کے دیہی علاقوں تک نہیں پہنچا۔

اس نئے رحجان کا اظہار بیجنگ کے ٹیکنالوجی ضلع ژونگ گونکن(Zhongguancun)میں ہوا جو چین کی سلیکون ویلی بھی کہلاتا ہے جہاں پر ایک عمارت میں 15نئی کمپنیاں قائم ہوئی ہیں جسے مُوکس(MOOCs)ٹائم بلڈنگ کا نام دیا گیا ہے۔ اگرچہ مُوکس کوآن لائن انٹرنیٹ کے ذریعے تعلیم کی فراہمی کو (Massive Open Online Courses)کہا جاتا ہے لیکن چین میں ہر قسم کے الیکٹرانک ذریعے سے دی گئ تعلیم مُوکس کے زمرے میں آتی ہے۔

اسی ٹائم بلڈنگ میں نئی کمپنی ہیوجیانگ(Hujiang)کا کام قابل ذکر ہے۔ جس کے طلباء کی تعداد 80ملین تک پہنچ گئی ہے۔ ان میں زیادہ تر طلباء کالجوں میں داخلہ ٹیسٹ (Gaocao)کی تیاری کرتے ہیں۔ اسی طرح کی ایک اور نئی کمپنی جیکے ژیائویآن(Jike Xueyuan)نے پروگرامنگ اور ویب ڈیزائن کاٹیوٹوریل متعارف کروایا ہے جس میں اس کے پاس 8,00,000طلباء ہیں۔ چین کی سرکاری تعلیمی فرم ٹال ایجوکیشن گروپ (TAL EducationGroup)کے اعداد وشمار کے مطابق تعلیمی ٹیکنالوجی میں چین نے 2013 ء میں137 ملین ڈالر سرمایہ کاری کی تھی جو کہ 2014ء میں ایک ارب ڈالر تک پہنچ گئی ۔ جائیکے ژیائویآن(JikeXueyuan)کمپنی کےطلباء کی تعداد ایک لاکھ 20ہزار ہے، اس کے پاس یونیورسٹیوں اور نجی تعلیمی اداروں کی خاصی تعداد ہے۔ یہ کمپنی آن لائن تقریباً 300 کورسز کروارہی ہے۔ سنگہوایونیورسٹی (Tsinghua University)کے تعاون سے چلنے والی نئی کمپنی ژوٹانگ(Xuetang)نے ایم آئی ٹی اور ہارورڈ یونیورسٹی کے اشتراک سے چلنے والی مُوکس کمپنی ایڈ ایکس (Adex)کے تعاون سے چند کورسز شروع کروائے ہیں۔

اعلیٰ تعلیم کیلئے چین میں مقامی سطح پر ہی پلیٹ فارمز میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پیکنگ یونیورسٹی کے سابق فزکس کے طالبعلم نے ون مین یونیورسٹی (One Man University)کمپنی متعارف کروائی ہے۔ جو اپنے اساتذہ کے تیار کردہ محض 15منٹ پر محیط ویڈیوز لیکچرز فراہم کرتی ہے۔ اس کمپنی کے 56 ویب سائٹس اور ایک لاکھ 30ہزار رجسٹرڈ طلباء ہیں۔ مینلو پارک کیلیفورنیا (Manlo Park California)کمپنی کے شریک کار موہر ڈیویڈو(Mohr Davidow)کہتے ہیں کہ چین میں امریکی طرز کی تعلیم حاصل کرنے کی بڑی خواہش موجود ہے۔ ڈیویڈو کی کمپنی کیمبل (Campbell)کیلیفورنیا کی کمپنی ہاٹ چاک(Hotchalk)مالی معاونت فراہم کرتی ہے ہاٹ چاک امریکی یونیورسٹیوں کو چین میں ڈیجیٹل رسائی فراہم کرتی ہے۔ اس کی ضرورت اس لئے محسوس کی گئی کہ ہر سال 7لاکھ 50ہزار طلباء امریکی کالجز میں داخلہ کیلئے درخواستیں دیتےہیں جن میں سے قریباً دو لاکھ کی درخواستیں قبول کی جاتی ہیں۔ اس طرح اب باقی بچ جانے والے طلباء مُوکس کے ذریعے امریکی نظام تعلیم کا حصہ بن سکیں گے۔

اس رحجان میں کچھ تشویشناک پہلو بھی ہیں۔ اگرچہ چین کے 640ملین لوگ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ چین میں 46فیصد لوگوں کی انٹرنیٹ تک رسائی ہے جبکہ امریکہ میں یہ شرح87فیصد ہے۔ ایم آئی ٹی کے جسٹن ریچ (Justin Reich)کہتے ہیں کہ انہوں نے بھی تشویش ناک خبریں سنی ہیں کہ طلبا مُوکس میں اپنی دلچسپی کھو رہے ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں چین کی ٹائمز بلڈنگ کا دورہ کرکے طلبا کو لیکچر دیا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ان خبروں کے باوجود چین میں تعلیم کیلئے بہت زیادہ رحجان اور دلچسپی موجود ہے۔ پیکنگ یونیورسٹی کےپروفیسر رونگ وانگ(Rong Wang)کہتی ہیں کہ آن لائن کورسز روائتی تعلیم میں موجود بڑے خلا کو پُر کرتی ہے۔ روائتی سکولوں میں امتحانوں کا رواج ہے جبکہ بہت سے اساتذہ میں عملی ہدایاتی مہارت کی صلاحیت ہی موجود نہیں ہے۔ اور کام کرنے والے افراد سکولوں میں تعلیم حاصل نہیں کرسکتے ۔

تحریر:ڈیوڈ ٹالبوٹ (David Talbot)

Read in English

Authors
Top