Global Editions

اوکولس رفٹ استعمال کرنے والوں کو مایوسی

گزشتہ ہفتے میں نے دریائی بھینس کو کاٹ ڈالا، ہیت بدلنے والے مینشن کو دریافت کیا، اور ایک اڑنے والے قالین پر سفر بھی کیا اور یہ سب کچھ ورچوئل رئیالٹی کی مدد سے کیا گیا۔ میں اوکولس رفٹ ہیڈ سیٹ استعمال کر رہا تھا جو میں نے 599 ڈالرز کا خریدا تھا۔ ورچوئل رئیالٹی سے لطف اندوز ہونا یقینی طور پر ایک ایسا تجربہ ہے جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ مجھے اس حالت میں دیکھنے والوں کو یقینی طور پر میں ایک احمق لگ رہا ہوںگا جب میں نے ایک سیاہ گیجٹ چہرے پر پہن رکھا تھا اور کرسی پر ہونقوں کی طرح بیٹھا تھا۔ میں اوکولس رفٹ کے استعمال کا تجربہ کر کے اس ٹیکنالوجی کے مستقبل کے بارے میں اندازہ لگانے کی کوشش کر رہا تھا کیونکہ کئی صارفین اس امر کی مسلسل شکایت کر رہے ہیں کہ ورچوئل رئیالٹی سے لطف اندوز ہونے کے لئے تیار کئے گئے ہیڈ سیٹ کے استعمال سے انہیں الٹیاں آتی ہیں یا چکر محسوس ہوتے ہیں یا انکھوں میں درد ہوتا ہے۔ صرف یہ ہی نہیں ہے کہ ورچوئل رئیالٹی سے لطف اندوز ہونے کے لئے تیار کئے جانیوالے گیجٹ کے استعمال سے صرف سر درد، چکر یا الٹیاں ہی آتی ہے بلکہ استعمال کے دوران کئی طرح کے ہارڈوئیر مسائل بھی اچانک سامنے آ جاتے ہیں۔ اوکولس رفٹ تیار کرنے والے ادارے کا ماننا ہے کہ گیم کی رفتار بڑھنے یا گھٹنے کے سبب صارف کو چکر آ سکتے ہیں یا سر، آنکھوں میں درد ہو سکتا ہے کیونکہ آپکا جسم اس گیم کی رفتار سے مطابقت نہیں رکھتا تاہم اس کے مسلسل استعمال سے آپکا جسم اس کا عادی ہو جائے گا اور پھر متذکرہ تکالیف دور ہو جائیں گی۔ یہ بات طے ہے کہ ورچوئل رئیالٹی کا مستقبل بہت تابناک ہے تاہم اس کے لئے ضروری ہے کہ ان نقائص کو دور کیا جائے جن کی نشاندہی صارفین مسلسل کر رہے ہیں۔ اگرچہ ورچوئل رئیالٹی ٹیکنالوجی تیار کر لی گئی ہے تاہم اس کے لئے تیار کی جانیوالی گیمز، فلموں اور دیگر مواد پر ابھی تک تجربات جاری ہیں۔ ابھی یہ بھی نہیں کہا جا سکتا ہے کہ یہ تجربات کب ختم ہونگے اور صارفین حقیقی معنوں میں ورچوئل رئیالٹی سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔ اس حوالے سے یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا انسٹیٹیوٹ آف کریٹو ٹیکنالوجیز کی اسٹنٹ ریسرچ پروفیسر ایون سوما (Evan Suma) کا کہنا ہے کہ ورچوئل رئیالٹی سے لطف اندوز ہونے کے لئے استعمال ہونے والے ہیڈ سیٹس کی وجہ سے صارفین کی جانب سے بیمار ہونے کی اطلاعات وہ اہم نکتہ ہے جس کا فوری اور موثر حل تلاش کرنا ان ہیڈ سیٹ تیار کرنے والے اداروں کے لئے ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ ان ہیڈ سیٹس کا وزن بھی کم کیا جائے۔ اکولس رفٹ کے تیار کردہ ہیڈ سیٹ کا وزن ایک پائونڈ کے قریب ہے جبکہ Vive کی جانب سے تیار کئے جانیوالے ہیڈ سیٹ کا وزن اس سے بھی زیادہ ہے۔ ان ہیڈ سیٹس کے حوالے اداروں کو غور کرنا چاہیے تاکہ صارفین ورچوئل رئیالٹی سے لطف اندوز ہو سکیں کیونکہ ابھی تک میں بھی بیس منٹ سے زیادہ اوکولس رفٹ پہن نہیں سکا۔

تحریر: ریچل میٹز (Rachel Metz)

vr.nauseax2760

Read in English

Authors
Top