Global Editions

! اور اب سمارٹ گھر۔۔۔

ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں گھر روبوٹس سے بھرے ہوں یعنی گھر میں موجود ہر شے کو روبوٹس کے ذریعے استعمال میں لایا جائے، اگر یہ ہو سکتا ہے تو یہ بھی ممکن ہے کہ مستقبل میں بننے والے گھر ہی اپنے طور پر روبوٹ ہوں۔ یہی وہ خیال ہے جس پر کئی ٹیکنالوجسٹس مستقبل کی روزمرہ زندگی کے خدوخال بدلنے کے لئے کام کر رہے ہیں۔ اسی اچھوتے خیال پر کام کرنے والی ایک کمپنی برین آف تھنگز (Brain of Things) نے چند روز پیشتر کیلیفورنیا میں آزمائشی بنیادوں پر تین مختلف مقامات پر ایسے تین اپارٹمنٹ قائم کرنے کا اعلان کیا تھا یہ اپارٹمنٹ اپنے تئیں ایک روبوٹ ہی ہونگے۔ یہ تینوں اپارٹمنٹس میں ہر طرف حساس سینسرز نصب کئے جائیں گے ان اپارٹمنٹس کا فرنیچر اور وہاں استعمال ہونے والے اپلائنسز مکمل طور پر خودکار ہونگے۔ اس کےساتھ ساتھ ان اپلائنسز میں یہ خوبی بھی ہو گی کہ وہ خود کو مکینوں کی عادات کے مطابق خود کو ان کے مطابق ڈھال سکیں۔ یعنی ان اپلائنسز میں مصنوعی ذہانت اور گہری آموزش کی صلاحیت بھی موجود ہو گی۔ اس امر کےلئے ہمیں کمپیوٹر سرورز کا مشکور ہونا چاہیے جن کی مدد سے ایسے ماڈلز تیار کئے جا سکتے ہیں جو حاصل شدہ ڈیٹا مشین الگورتھم کی مدد سے عملی کردار میں ڈھال سکتے ہیں۔ سٹنفورڈ کے ریسرچ فیلو اشوتوش سیکسینا (Ashutosh Sexena) جو اس کمپنی کے بانی بھی ہیں کا کہنا ہے کہ یہ گھر اپنے مکینوں کے بارے سب جانتا ہو گا یعنی وہ کب فلم دیکھ رہے ہیں، جاگ رہے ہیں یا سو رہے ہیں۔ حتیٰ کہ اگر وہ گھر میں چہل قدمی بھی کر رہے ہوں گے تو ہمارا بنایا گیا گھر اس وقت بھی ان کی حرکات وسکنات کو جانچ رہا ہو گا تاکہ اسے معلوم ہو سکے کہ گھر کے مکین کس وقت کیا چاہ رہے ہیں۔ اس گھر کی کھرکیوں کے پردے خودکار انداز میں کام کرینگے یعنی صبح کے وقت یہ پردے خودبخود اوپر اٹھ جائیں گے اور شام کے وقت سورج ڈھلتے ہی دوبارہ نیچے گر جائیں گے۔ اسی طرح اگر گھر کے مکین کو رات میں پیاس لگی ہے اور وہ پانی پینے کے لئے اٹھنا چاہتا ہے تو گھر یہ بھانپتے ہوئے کہ مکین کو پیاس لگی ہے ازخود وہ راستہ روشن کر دیگا تاکہ وہ آسانی سے فریج تک پہنچ سکے اور پانی پی سکے۔ یہاں یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے اور چند ماہرین اس پر متفق بھی ہیں کہ واقعی ہمیں ایسے گھروں کی ضرورت ہے جہاں زندگی خودبخود آگے بڑھتی رہے تاہم یہ بھی ایک ناقابل نتسیخ حقیقت ہے کہ بدلائو ہی زندگی کی علامت ہے اور اگر ہم اپنے گھروں کو مصنوعی ذہانت، انٹرنیٹ وائی فائی سے رابطہ اور دیگر مواصلاتی صلاحیتیوں سے لیس کر دیں تو ہمارے گھر بھی سمارٹ گھر کہلائیں گے۔ سیکسینا اور ان کے ساتھیوں نے اس امر کو مرکز نگاہ بنایا کہ کس طرح روبوٹس میں نہ صرف سیکھنے کی صلاحیت پیدا کی جا سکتی ہے اور اس صلاحیت کے بل پر روبوٹس دیگر ڈیوائسز کے ساتھ کمیونیکیشن کر سکتے ہیں۔

تحریر: ول نائیٹ (Will Knight)

Read in English

Authors

*

Top