Global Editions

انٹرنیٹ کمپنیاں نفرت انگیزمواد24گھنٹوں میں ہٹانے کی پابند،معاہدہ ہو گیا

گوگل، فیس بک، ٹوئیٹر اور مائیکروسافٹ نے حال ہی میں یورپ کے لئے ایک کوڈ آف کنڈکٹ پر دستخط کئے ہیں جس کے تحت سوشل میڈیا سے وابستہ یہ ادارے کسی بھی قسم کا نفرت انگیز مواد اور شر انگیز تقریر اپنی ویب سائٹ سے چوبیس گھنٹوں کے اندر ہٹانے کے پابند ہونگے۔ سماجی رابطوں کے ان اداروں کی جانب سے اس قسم کے معاہدے سے یورپ میں آزادی آظہار رائے کے حوالے سے ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے اور اب یہ ان کمپنیوں کی ذمہ داری بن گئی ہے کہ وہ آزادی اظہار رائے اور شرانگیزی کے درمیان حد فاصل قائم کریں۔ اس حوالے سے ٹوئیٹر کی یورپ کے لئے ہیڈ اٖف پبلک پالیسی کیرن وائٹ (Karen White) کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ آزادی اظہار رائے اور شرانگیز مواد کے درمیان ایک واضح تفریق ہے اور اس امر کو یقینی بنائیں گے کہ یہ تفریق قائم رہے۔ اگر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے اس بیانئے کو مان بھی لیا جائے تو مسئلہ حل نہیں ہوتا نظر نہیں آرہا۔ امریکی آئین ہر طرح کے اظہار کی آزادی دیتا ہے اور یہ کمپنیاں جہاں جہاں کام کر رہی ہیں وہاں بھی کچھ قوانین موجود ہیں جو ایسے اقدامات کے خلاف تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ نسل پرستی، ہم جنس پرستی اور مذہبی عدم برداشت کو اگرچہ بالعموم ناپسند کیا جاتا ہے مگر یہ غیر قانونی نہیں ہیں۔ فیس بک اور ٹوئیٹر کو ایسے ریمارکس پر قدغن نہیں لگانی چاہیے جنہیں قانونی تحفظ حاصل ہے۔ وہ اپنی ویب سائٹس سے متنازع مواد ہٹا سکتے ہیں اور وہ عوامی یا حکومتی دبائو پر ایسا کرتے بھی رہتے ہیں۔ یورپی یونین نےبھی غیر قانونی نفرت انگیز تقریر کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے کہ ایسا بیانیہ جس سے فرد یا گروہ میں اشتعال پھیلے یا وہ رنگ،نسل، مذہب کے بارے میں نفرت انگیز اور شر انگیز ہو یا اس میں کسی ملک یا اس کے شہریوں کو نشانہ بنایا جائے یہ تمام جرائم کے زمرے میں آئینگے اور اس کے مرتکب افراد کو قانون کے مطابق سزا دی جائیگی۔ تاہم حال ہی میں وضع کئے جانیوالا معاہدہ برسلز اور پیرس حملوں کے تناظر میں بھی دیکھے جا رہے ہیں۔ یورپ کی آزادی اظہار رائے کے تحفظ کے لئے یورپی یونین انٹرنیٹ فورم میدان میں آ گیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ سماجی رابطوں کی تنظیم کا حالیہ فیصلے سے آزادی اظہار رائے متاثر ہو گی۔ تاہم متنازع مواد کو ہٹایا جا سکتا ہے اگر یہ رضاکارانہ طور پر ہو۔ انٹرنیٹ کمپنیوں کو یہ متعین کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ فیصلہ کریں کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے یا نہیں۔

تحریر: مشعل ریلائے (Michael Reilly)

Read in English

Authors

*

Top