Global Editions

انٹرنیٹ سے منسلک گیجٹس کو محفوظ بنانے والےنئے آلات متعارف

باہم منسلک آلات کی دنیا بڑی تیزی سے پھیل رہی ہے لیکن یہ کتنی محفوظ ہے کچھ نہیں کہا جاسکتاکیونکہ ہم سمارٹ گیجٹس کواپنے اردگرد پھیلی ہوئی دنیا سےجوڑتے جارہے ہیں۔ جیسے اپنے بچوں کی گڑیا کوبیرونی دروازے سے، کاروں کو انٹرنیٹ سے منسلک کررہے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اس سے ہم اپنے اردگرد ممکنہ سائیبر حملے سے شدید تباہی کے خطرات بڑھا رہے ہیں۔ وائرڈ (Wired)میگزین میں بتایا گیاہے کہ کس طرح ایک سوفٹ وئیر کے ذریعے ہائی وے پر جاتی جیپ کو کنٹرول کرلیا گیا۔ ان خطرات کو روکنے اور انٹر نیٹ سے منسلک گیجٹس کو محفوظ کرنے کیلئے نئے نئےآلات مارکیٹ میں آرہے ہیں۔

سمارٹ گیجٹس کو لاحق سائبر حملے کے خطرات پر بات کرتے ہوئے سیکورٹی کمپنی ایف سیکور(F Security)کے ڈائریکٹر مائیک سٹاہلبرگ (Mike Stahlberg)کہتے ہیں کہ ہیک کئے گئے کریڈٹ کارڈز درد سر ہوتے ہیں۔ ایک گھر جس کا سمارٹ لاک ہیک کر لیا جائے تو وہ چوروں کیلئے کھلی دعوت بن جاتا ہے۔ تاہم بہت سی نئی سیکورٹی کمپنیوں نےتحفظ کیلئے انٹرنیٹ پر بہت سی چیزیں پیش کی ہیں۔اس ضمنمیں کمپنی ایف سیکورٹی نے سینس (Sense)کے نام سے ایسا آلہ متعارف کروایا ہے جو انٹرنیٹ سے منسلک آلات مثلاً سمارٹ فون(Smart phone)، سمارٹ لائٹ (Smart light)اور بےبی مانیٹر کی نگرانی کرسکتا ہے۔ یہ آلہ موسم بہار میں مارکیٹ میں آجائے گا۔ یہ آلہ آپ کے مختلف قسم کے ڈیٹا کی آمدورفت پر بھی نظر رکھتا ہے کہ کتنی تعداد میں ڈیٹا بھیجا یا وصول کیا گیا اور کون سی نقصان دہ سرگرمیوں کو روکا گیا۔ سائبر حملوں پر نظر رکھنے کیلئے اٹلانٹا (Atlanta)میں قائم کمپنی باسٹیل (Bastille)نے ایک الگ طریقہ اختیار کیا ہے۔ اس نے اپنے دفاتر میں سینسرز(Sensers) لگا کر انٹرنیٹ سے منسلک آلات کو الیکٹرومیگنیٹک دستخطوں (Electromagnetic Signature)سے نگرانی کا نظام بنایا ہے۔ سینسرز کے ذریعے وائی فائی(Wifi)، کم توانائی صرف کرنے والا بلیو ٹوتھ (Bluetooth)اور موبائل نیٹ ورک اور ان کے سوفٹ وئیرز کی نگرانی کرسکتے ہیں ۔

وقت کے ساتھ ساتھ سائیبر حملوں کے اہداف بڑھ رہے ہیں۔ مارکیٹ کی تحقیقی فرم گارٹنر(Gartner)نے پیش گوئی کی کہ 2020ء میں 21ارب گیجٹس انٹرنیٹ سے منسلک ہو جائیں گے جبکہ اس وقت 4.9ارب گیجٹس اس سے منسلک ہیں۔ سٹینفورڈ یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر فِل لیویس (Phil Levis)کہتے ہیں کہ جیسے جیسے گیجٹس انٹرنیٹ سے منسلک ہوتے جا رہے ہیںاس کے ساتھ ساتھمسائل بھی بڑھتے جارہے ہیں۔ فِللیویس یونیورسٹی کے سیکور انٹرنیٹ آف تھنگز پراجیکٹ (Secure Internet of Things Project)کے شریک ڈائریکٹر بھی ہیں۔ فِل لیوس ،سینسر کے ذریعے مانیٹرنگ کے نظرئیے کے قائل نہیں ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اس بات کی اشد ضرورت ہےکہ آلات بنانے والی کمپنیاں ان کے سوفٹ وئیرز میں مزید تحفظ فراہم کریں۔ انٹرنیٹ دو دہائیوں کے مقابلے میں اب زیادہ محفوظ ہے کیونکہ سوفٹ وئیرز بنانے والے خطرناک کوڈز کے حوالے سے زیادہ محتاط ہوگئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ قریباً دس سال میں لوگ سائبر حملوں کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوں گے۔

تحریر: راشیل میٹز (Rachel Metz)

Read in English

Authors
Top