Global Editions

انٹرنیٹ بطور انسانی حق

گذشتہ کئی عشروں سے جسے ہم عالمی سطح کا ویب کہہ رہے ہیں، حقیقت میں ایسا نہیں ہے کیونکہ دنیا کی نصف آبادی کو ابھی تک انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہی نہیں ہے، انہیں ای میل کی سہولت ہے نہ ہی انہیں وکی پیڈیا تک پہنچ حاصل ہے۔چھ سال قبل ان لوگوں کوجنہیں انٹرنیٹ کی سہولت میسر نہیں ان کیلئے انسانی حقوق تنظیم قائم کی گئی، یہ تنظیم نفع نقصان کے بغیران لوگوں کوانٹرنیٹ تک رسائی فراہم کررہی ہے ۔اس غرض کیلئے مارک (Mark)،ایلون مسک (ElonMusk) ، گوگل(Google)، زکربرگ (Zuckerberg) اوررچرڈ برا نسن (Richard Branson) وغیرہ ملکر ہر شہری کی انٹر نیٹ تک پہنچ کو ممکن بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔

آخر انٹرنیٹ تک رسائی کیوں ضروری ہے؟میرے خیال میں انٹرنیٹ تک رسائی ہرانسان کا بنیادی حق ہونا چاہیے، اقوام متحدہ نے 1948ء میں انسانی حقوق کے اعلامیہ جاری کیا جس میں بنیادی انسانی حقوق اور آزادیوں کااحاطہ کیاگیا ہے جیسے غلام بنانے پر پابندی ،تعلیم تک رسائی اوررہنے کیلئے گھر اور ملازمت کی فراہمی کا حق شامل ہے۔ اس وقت اعلامیہ کے بنانے والے انٹرنیٹ کے وجود کے بارے میں پیشن گوئی نہیں کرپائے اگر اقوام متحدہ کااعلامیہ آج لکھا گیا ہوتا تو اس میں انٹرنیٹ سہولت فراہم کرنے کو انسان کے بنیادی حق کے طور پر تسلیم کر لیا جاتا لیکن اس سے مرادہر گز یہ نہیں ہے کہ حکومتیں ہر فرد کو انٹر نیٹ تک رسائی فراہم کریں، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ جن لوگوں کوانٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہے ان کے حق کا تحفظ کیا جائے اورجنہیں یہ سہولت میسر نہیں انہیں فراہم کی جائے۔ کسی حکومت کی طرف سے لوگوں کی انٹرنیٹ تک رسائی کو محدود کرنا، فراہمی کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنا یا انٹرنیٹ تک رسائی کو ختم کرنا بھی شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

آن لائن کی دنیا، افراد کی بہت سی ایسی چیزوں تک رسائی کو ممکن بناتی ہیں جسے اقوام متحدہ انسانی 249حقوق تصور کرتی ہے، جس میں تعلیم اور اظہار را ئے کی آزاد ی کا حق شامل ہے۔افغانستان کے دارلحکومت کا بل میں سینکڑوں نوجوان افغان عورتوں کہ اس لئے زہر دیا گیا کہ وہ سکول میں پڑھنا چاہتی تھیں۔ ان خواتین کو اپنے حقوق کے حصول کیلئے سفاکانہ اوروحشیانہ سلوک کاسامناکرناپڑا۔ عورتوں کیلئے ایک چھوٹا سا ئبر کیفے ہے جو آن لائن عطیہ کرنے والے افراد کی مدد سے کام کرتا ہے، اس چھوٹے سے کیفے نے اس ظلم کے خلاف آواز اٹھا کر در اصل عو رتوں کے اظہاررائے کی آزادی اور تعلیم تک رسائی کا حق کوبحال کروایا ہے۔

انٹر نیٹ بذات خودایک منفر د معاشرہ ہے جو ہمیں عالمی نقطہ نظر سے متعارف کرواتا ہے اورہمیں عالمی شہریت کا حصہ بنا دیتا ہے، انٹر نیٹ لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ باہمی رابطے، سیکھنے، ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت اور انسانیت کے اندر ذہنی طور پر سما جانے کے عمل کا حصہ بناتا ہے۔ انٹرنیٹ ہی وہ واحدجگہ ہے جہاں ڈیجیٹل سوسائٹی کے تما م لوگ برابری کی سطح پرمیں ایک دوسرے کے ساتھ تال میل کر سکتے ہیں جو دنیا کو ایک عملی شکل دینے میں مصروف ہے۔ آج کے دور میں وہ لوگ جن کو ا نٹرنیٹ تک رسائی حاصل نہیں ہے ان کی کوئی آواز نہیں ہے اور دنیا ان کی بات سنے بغیر چل رہی ہے اگر ان کے پاس انٹرنیٹ تک رسائی ہوتی تو و ہ دنیا میں اپنا حصہ ڈال سکتے تھے۔

کوسٹاگریمیٹکسس، سپیس ایکس میں انجینئررہے ہیں، آج کل الجزیرہ ٹی وی میں ٹیکنالوجی کے نامہ نگار ہیں۔

تحریر: Kosta Grammatis

عکاسی: ANDY FRIEDMAN

Read in English

Authors
Top