Global Editions

انفیکشن بتانے والی سمارٹ بینڈیج

زخموں کے علاج میں سب سے بڑی رکاوٹ بیکٹریا کے باعث ہونے والی انفیکشن ہے، اس انفیکشن کے باعث کئی طرح کی پیچیدگیاں پیدا ہو تی ہیں جو علاج میں رکاوٹ کا سبب بنتی ہیں لیکن اب اس ضمن میں تحقیق کاروں نے ایسا راستہ ڈھونڈ لیا ہے جس کی مدد سےاس انفکیشن کا پتا چلایا جا سکتا ہے۔ تحقیق کاروں نے ایسی سمارٹ بینڈیج تیار کر لی ہے جس کا فلوری لیمپ جِس کی اندرونی سطح پر لگا ہوا فاسفورس پارے کی تبخیر سے پیدا ہونے والے ہالا بنفشی اشعاع سے روشن ہو جاتا ہے اور زخموں میں بیکٹریا کی وجہ سے پیدا ہونے والی انفیکشن کا سراغ لگا لیتا ہے، اور اس کی مدد سے زخموں کے علاج میں خاصی مدد مل سکتی ہے۔ برطانیہ کی یونیورسٹی آف باتھ (Bath) کے بائیو فزیکل کیمسٹری کے پروفیسر ٹوبی جینکنز (Toby Jenkins) اس نئی سمارٹ بینڈیج کے خالق ہیں۔ اگرچہ اس بینڈیج کے ابھی تک انسانی تجربات نہیں ہوئے تاہم تحقیق کاروں کا کہنا ہے تجربہ گاہ میں اس بینڈیج کے متاثر کن نتائج سامنے آئے ہیں۔ تحقیق کاروں نے اس بینڈیج کے پروٹو ٹائپ کو آشکار کرتے ہوئے بتایا کہ اس سمارٹ بینڈیج پر مرہم کی طرح کا میٹیریل لگایا گیا ہے جس میں نہایت چھوٹے کیپسولز ہیں جو زخم کی جگہ پر غیر زہریلا مواد اس طرح خارج کرتے ہیں کہ وہ انفیکشن کا سبب بنے والے بیکٹریا کی کمیونٹیز کی نشاندہی کرتا ہے اور نشاندہی کے ساتھ ہی بینڈیج پر لگا فلوری لیمپ سبز رنگ کی شعاعیں خارج کرتا ہے۔ پروفیسر ٹوبی جینکنز کا کہنا ہے کہ اس بینڈیج کی مدد سے ڈاکٹرز کو ابتدائی علاج کے دوران ہی انفیکشن کا سبب بنے والے بیکٹٓریا کی موجودگی کے بارے میں معلومات حاصل ہو جائیں گی اور اس طرح ڈاکٹر زیادہ موثر انداز میں مریض کا علاج کر پائیں گے اس کے ساتھ ساتھ انفیکشن نہ ہونے کی صورت میں مریض کو دی جانیوالی اینٹی بائیوٹکس ادویات کی بھی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔ کارڈف یونیورسٹی سکول آف میڈیسن کے پروفیسر کیتھ ہارڈنگ (Keth Harding) کا کہنا ہے کہ اگرچہ ابھی تک اس سمارٹ بینڈیج کی کلینکل افادیت ثابت نہیں ہو سکی تاہم یہ موجودہ میڈیکل مائیکرو بائیولوجی طریقوں کو ترقی دینے کے لئے بلاشبہ اہم قدم ہے۔ اس ضمن میں مزید تحقیقات کے لئے جینکنز کی ٹیم کو برطانیہ کی میڈیکل ریسرچ کونسل نے مزید گرانٹ دینے کا اعلان کیا ہے تاکہ وہ اس سمارٹ بینڈیج کو مزید موثر بنانے کے لئے تحقیق جاری رکھ سکیں۔ جینکنز کا کہنا ہے کہ اگر سب کچھ منصوبے کےمطابق جاری رہا اور کوئی رکاوٹ سامنے نہ آئی تو یہ اس سمارٹ بینڈیج کے کلینکل تجربات 2018 تک شروع ہو جائیں گے۔

تحریر: مائیک اوورکٹ   (Mike Orcutt)

Read in English

Authors
Top