Global Editions

انسانیت کی بقا ء کے لئے آلودہ گیسوں کااخراج روکنا ہوگا

کین کالڈئیرا (Ken Caldeira)کہتے ہیں کہ :
ـ”ــبہت سال پہلے میں نے نیوکلئیر پاور پلانٹ کے گیٹس پر احتجاج کیا تھا۔ بہت طویل عرصے سے مجھے اس بات پر یقین تھا کہ حیاتیاتی ، شمسی اور ہوا سےملنے والی توانائی باآسانی حاصل کی جاسکتی ہے میری خواہش ہے کہ میرا یہ یقین برقرار رہے۔”

میری سوچ اس وقت بدل گئی جب میں نے نیویارک یونیورسٹی کے مارٹی ہوفرٹ (Marty Hoffert)کے ساتھ مل کر تحقیقی کام کیاجو 1998ء میں پہلی بار نیچر (Nature)رسالہ میں شائع ہوا۔ یہ پہلا تجزیہ تھا جس میں تحقیق کی گئی کہ اگر ہمیں ماحولیاتی مسائل سے نپٹنا ہے تو ہمیں زہریلی گیسوں کا اخراج زیرو کرنا چاہئے۔ بدقسمتی سے ہمارے تجزیہ کے اخذ کردہ نتائج اب بھی برقرار ہیں۔ ہمیں زہریلی گیسوں کے زیرواخراج والی قابل رسائی اور قابل انحصار توانائی حاصل کرنے کیلئے بہت بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری اور تنصیبات کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ ہمیں بہتر توانائی اور ٹرانسپورٹیشن کیلئے بہت زیادہ تحقیق اور ترقیاتی پروگرام کی ضرورت ہے۔

یہ درست ہے کہ حالیہ برسوں میں ہوا اور شمسی توانائی کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ توانائی کے دونوں ہی ذرائع نمایاں طور پر سستے ہیں۔ لیکن ہوا اور شمسی توانائی پر اتنا انحصار نہیں کیا جاسکتا ہے جبکہ بیٹریوں میں اتنی توانائی جمع نہیں ہو سکتی جو جدید صنعتی معاشرے کو اس برے وقت سے بچا سکےکہ جب ہوا نہ چل رہی ہو یا سورج نہ چمک رہا ہو۔ حالیہ جائزے سے پتہ چلا ہے کہ شمسی اور ہوا کی توانائی والے ذرائع بجلی پیدا کرنے کیلئےزہریلی گیسوں کے اخراج کو دوتہائی کم کرسکتے ہیں۔ اس وقت بجلی پیدا کرنے والے ذرائع عالمی کاربن ڈائی آکسائیڈ کا ایک تہائی حصہ فضا میں چھوڑرہے ہیں جس میں ہر سال دو فیصد اضافہ ہوتاہے۔ اگر ہم ہوا اور شمسی توانائی سے بجلی پیدا کریں تو اگلے 10 یا 20 سالوں میں واپس اس سطح پر آسکتے ہیں جہاں پر آج ہم ہیں۔ ہمیں ماحولیاتی مسائل پر بہت زیادہ سوچنا اور کام کرنا ہو گا اسے اتنا ہی سنجیدہ لینے کی ضرورت ہے جتنا ہم قومی سیکورٹی کو لیتے ہیں۔
چشم کشا اعدادوشمار

نومبر میں عرب جزیرہ نما کے ملک یمن میں تاریخ میں پہلی بار سمندری طوفان کی طاقت کے برابر صحرائی بگولہ پیدا ہوا۔ اس سے ایک ہفتہ پہلے میکسیکو کے پیسیفک ساحل پر طاقتور ہوائوں سے پیدا ہونے والا شدید سمندری طوفان رونما ہوا۔ غیر معمولی طور پر عالمی حدت کے موضوع پر اس طرح کے طوفانوں اور دیگر منفی پہلوئوں سے متعلق پیش گوئیاں پہلے کی جاچکی ہے جن میں گرم ہوائوں کے جھکڑ اور خشک سالی شامل ہیں۔ دنیا کے بیشتر حصوں میں طبعی تبدیلیاں ہمیں بہت شدت سے خوفزدہ کر رہی ہیں ۔ہم پہلے ہی آلودہ گیسوں کے سبب ہر ہفتے آبی حیات کی حامل، سمندری پودوں (Coral Reef)پر مشتمل دو چٹانیں ضائع کر رہے ہیں۔

میں نے اور میرے ساتھیوں نے حال ہی میں ایک تحقیق کی کہ اگر ہم معدنی ایندھن سے پیدا ہونے والا کاربن فضا میں چھوڑنا جاری رکھتے ہیں تو اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ ہمیں زمین کے ماحول کو پہنچنے والے نقصان سے نکلنے کیلئے ہزاروں سال لگ جائیں گے۔ اگر ہم زمین میں موجود تمام معدنی ایندھن کے ذرائع استعمال کرلیں اور اس سے پیدا ہونے والے کاربن کو فضا میں چھوڑ دیں تو زمین کا درجہ حرارت 9 سینٹی گریڈ یا 15 فارن ہیٹ بڑھ جائے گا جو 10 ہزار سال بعد بڑھنا چاہئے۔ اس سے سمندری سطح آج کی نسبت 60 میٹر یا 200 فٹ بلند ہوجائے گی۔ ممکن ہے کہ گرم ممالک کی حدت میں اتنا اضافہ ہو جائے کہ انسانوں سمیت جانور اپنا وجود قائم نہ رکھ سکیں۔ لہٰذا ہماری طویل مدتی فلاح کیلئے ضروری ہے کہ ہم معدنی ایندھن سے پیدا ہونے والا کاربن فضا میں نہ جانے دیں۔

اگر ہم مستقبل قریب میں ماحولیاتی تبدیلی کے خطرات کو کم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں بہت سےاقدامات یقینی بنانے ہوں گے:
1- سیاہ کاربن کو فضا میں خارج ہونے سے روکیں۔
2- قدرتی گیس کی جگہوں سے میتھین گیس کے اخراج اور کوڑا کرکٹ کو پھیلنے سے روکیں۔
3- ہمیں گیسوں کے اخراج کو کم کرنا ، جنگلات کی کٹائی کو روکناہوگا، الیکٹرک کاریں اپنانا ہوں گی، شمسی، ہوا اور ایٹمی توانائی پلانٹس لگانا ہوں گے۔

اگرچہ موجودہ ٹیکنالوجیز ہمیں اس راستے کی طرف لے جارہی ہیں لیکن ان سے ہماری منزل حاصل نہیں ہوتی۔ بہت سے تجزیہ کاروں کو یقین ہے کہ ہمیں کاربن کے بغیر بجلی کی پیداوار میں اضافہ کرنا چاہئے اور بجلی کو مواصلات، صنعت اور حتیٰ کہ گھروں کو گرم کرنے کیلئے استعمال کرنا چاہئے۔ اس کیلئے ہمیں موجودہ سسٹم سے بہت بڑا نظام چاہئے۔کیا ہم آلودہ گیسوں کے اخراج کو روکنے کیلئے اپنے موجودہ سسٹم کو ڈرامائی انداز میں ترقی دے رہے ہیں۔

ہمارے لئے شمسی توانائی واحد ذریعہ رہ جاتا ہے جو لامحدود توانائی فراہم کرسکتا ہے۔ بدقسمتی سے، عالمی سطح پر اتنے بڑے پیمانے پر بجلی کا گرڈ نہیں ہے جو دن رات شمسی توانائی فراہم کرسکے۔ ہمارے پاس علاقائی سطح پر اتنی زیادہ تعداد میں اور طاقتور بیٹریاں نہیں ہیں جو پوری رات کیلئے بجلی کی طلب کو پورا کرسکیں۔ ہمیں بجلی پیدا کرنے، اسے ذخیرہ کرنے اور منتقل کرنے کے بہتر ذرائع تلاش کرنے کی ضرورت ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمیں توانائی کو بہتر انداز میں استعمال کرنا ہے

اقوام متحدہ کے جاری کئے گئے اعدادوشمار کے مطابق اس صدی کے آخر تک دنیا کی آبادی 11 ارب تک پہنچ جائے گی یعنی آج سے 50 فیصد زیادہ ہوجائے گی۔ اس لئے ترقی پذیر ممالک کو اپنی معیشتوں کو فروغ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ اگلی صدی تک دس گنا یا اس سے زائد توانائی کی ضرورت ہو گی۔ اگر ہم ماحول کو موافق کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں آلودہ گیسوں کا اخراج موجودہ سطح سے 10گناکم کرنا ہو گا۔ اس بات کو ایک اور طریقے سے سمجھیں کہ اگر ہم اپنا ماحول اور معیشت تباہ نہیں کرنا چاہتے تو ہمیں خدمات کے ہر شعبے میں 100 گناگیسوں کے اخراج کو کم کرنا ہو گا اور اس مقصد کیلئے آپ کو توانائی کے معجزے کی ضرورت ہے۔

تبدیلی کا مرحلہ
رواں صدی میں گیسوں کا زیادہ تر اخراج ترقی پذیر ممالک میں متوقع ہے جو اپنے غریب طبقوں کو بنیادی صحت، تعلیم اور منافع بخش کام کی سہولتیں دینا چاہتے ہیں۔ کیا امیر ممالک غریب ملکوں کے لوگوں کو کہہ سکتے ہیں کہ وہ اپنی معاشی ترقی کیلئے معدنی ایندھن جلانے کی بجائے اپنے بچوں کو بھوکا رکھیں یا ایسی بیماریوں سے مرنے دیں جن کا علاج ہو سکتا ہے؟ نہیں ! لیکن ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ امیر ممالک غریب ملکوں کی توانائی کی ضرورت پوری کرنے کیلئے کاربن والے اور کاربن سے پاک توانائی کے نظام لگانےکے اخراجات کا فرق خود برداشت کریں۔ لیکن تاحال امیرممالک میں بھی کئی ایسے ہیں جو اپنے لوگوں کیلئے ایسے توانائی کے نظام کے اخراجات کا فرق برداشت نہیں کرسکتے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم ماحول دوست توانائی کیسے حاصل کرسکتے ہیں جس کی قیمت گیس اور کوئلے کی قیمتوں کا مقابلہ کرسکے۔ شمسی اور ہوا سے پیدا ہونے والی توانائی کی قیمتوں میں گزشتہ دس سالوں میں کسی حد تک کمی ہوئی ہے صحیح معنوں میں یہ کمی اس وقت ہوگی جب زیادہ سے زیادہ شمسی اور ہوا سے پیدا ہونے والی توانائی کے منصوبے شروع کئے جائیں گے۔ لیکن بہت تھوڑی زہریلی گیسیں خارج کرنے والے توانائی کے ذرائع پر کوئلے اور گیس سے زیادہ اخراجات ہوتے ہیں۔

چند لوگوں کو امید ہے کہ ہم شائد ایسی ٹیکنالوجیز کو فروغ دے لیں گے جو کاربن ڈائی آکسائیڈ کو ختم کرنے میں مدد دے سکےجو ہم ماحول میں چھوڑ چکے ہیں۔ یہ ممکن تو ہے لیکن مجھے یہ ٹیکنالوجی کا خواب ہی لگتا ہے۔دھویں کی چمنی کے ذریعے 10 فیصد کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں بھیجنا آسان ہے جبکہ ماحول میں 04.0کاربن ڈائی آکسائیڈ کو ختم کرنا مشکل ہے۔ یقیناً درخت لگا کر اور بائیوفضلہ پھیلاکر کاربن ڈائی آکسائیڈ کو محدود کیا جاسکتا ہےلیکن یہ کام کرکے ہمیں خود کو بے وقوف نہیں بنانا چاہئے کہ اس سے ماحولیاتی مسائل حل ہو جائیں گے۔

اگرچہ یہ تمام وجوہات مایوس کن ہیں لیکن اس کے باوجود میں پرامید ہوں۔ میری امید اس وجہ سے قائم ہے کہ انسانیت اس قسم کے خوفناک مسائل کو عالمی سطح پر اجتماعی طور پر حل کرسکتی ہے۔ اگر ہم لوگ اپنے ماحول میں تبدیلی چاہتے ہیں توہم سب کو اپنے رویے تبدیل کرنا ہوں گے۔ ہمارے لئے کارخانوں اور گھروں کی چھتوں پر دھواں چھوڑتی چمنیاں ناقابل قبول ہیں۔ ہمارے بچے ہماری طرف دیکھتے ہیں کہ ہر کوئی جانتے بوجھتے بھی کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں کیسے خارج کرسکتا ہے۔

تحریر: کین کالڈیئرا (Ken Caldeira) ( کین کالڈئیرا (Ken Caldeira)ماحولیاتی سائنسدان ہیں جو سٹینفورڈ یونیورسٹی (Stanford University)میں کارنیگی انسٹیٹیوٹ فار سائنس(Carnegie Institute for Science) کے گلوبل ایکولوجی (Global Ecology)کے شعبے میں ماحولیاتی سائنسدان کی حیثیت سے کام کررہے ہیں۔)

Read in English

Authors

*

Top