Global Editions

انسانوں میں سوروں کے اعضاء لگانے کے تجربات کامیاب

میں شیردل انسانوں کی بات اب پرانی ہو گئی، نئی بات سور دل انسانوں کی ہے جو زیادہ دور کی بات نہیں رہی۔ آپ حیران ہو رہے ہوں گے کہ یہ کیسی بات کی جارہی ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ جدید سائنس طبی لحاظ سے بہت جلد ایسا ممکن بنادے گی،یعنی اب جینیاتی سور وں کے اعضاء انسانوں کو لگ سکیں گے۔یہ بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ ہزاروں انسان اعضاء کی تبدیلی کے انتظار میں مر جاتے ہیں جبکہ انسانی اعضاء کے عطئیے بہت کم میسر آتے ہیں اور جہاں تک دل اور گردوں کا معاملہ ہے یہ محض چندگھنٹوں تک برف میں محفوظ کئے جاسکتے ہیں اس لئے یہ اعضاء قریب ترین موجود مریضوں کو ہی فراہم کئے جاسکتے ہیں۔

امریکی بائیوٹیکنالوجی کمپنی ریویویکور(Revivicor) ایسے جینیاتی سور تخلیق کررہی ہے جن کے اندرونی اعضاء انسانوں کو لگ سکیں گے۔ ڈاکٹروں نے ایک سور کا دل 945 دن تک ایک بن مانس میں لگائے رکھا۔ اسی طرح دو مختلف نسلوں کے جانوروں کے گردے تبدیل کئے گئے تو وہ 136 دن تک کام کرتے رہے۔ انسانوں میں جانوروں کے اعضاء کی منتقلی کیلئے یہ تجربات کئے جارہے ہیں کہ کم از کم 5 انسانی جینز کو سوؤرں میں منتقل کیا جائے تاکہ انسانی جسم کا سوؤرں کے اعضاء کو مسترد کرنے کو روکا جاسکے۔

امریکی بائیوٹیکنالوجی کمپنیریویویکور(Revivicor) نے جینیاتی تبدیل شدہ سور پیدا کئے ہیں۔ اس کمپنی کی سی ای او مارٹین روتھ بلاٹ (Martine Rothblatt) کی بیٹی کے پھیپھڑوں کی حالت بہت بگڑ چکی تھی۔ روتھ بلاٹ نے چار سال قبل تحقیق کرنے والوں پرسوؤرں کے اعضاء انسانوں کو منتقلی کے تجربات کیلئے لاکھوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی۔ وہ کہتی ہیں کہ اس کا ہدف لامحدود منتقلی کے قابل اعضاء کی فراہمی ہے ۔ اور اب وہ اس مرحلے پر ہے کہ محض چند سالوں میں سور کے پھیپھڑوں کوبھی انسانوں میں کامیابی سے منتقل کیا جاسکے گا۔ روتھ بلاٹ نے بتایا کہ ہم روزانہ ایک درجن کے قریب اعضاء بنانا چاہتے ہیں۔ اس کے لئے سالانہ 1000 جینیاتی تبدیل شدہ سور بنانے کا منصوبہ بنایا گیاہے۔

ما ہرین کا کہنا ہے کہ کہ ابھی مسئلہ یہ ہے کہ کسی ایک نسل کے اعضاء کو دوسری نسل میں منتقل کرنے سے جسم بڑ اشدید مدافعتی ردعمل ظاہر کرتاہے حتیٰ کہ بہت طاقتور ادویات بھی اس مدافعتی ردعمل کو پوری طرح سے نہیں روک پاتیں۔ 1984 ء میں ایک نومود بچے بیب فے کو بن مانس کا دل منتقل کیا گیا تھا لیکن افسوس کہ اس نے صرف تین ہفتے تک کام کیا۔ انسانی جسم سوؤروں کے ریشوں کو قبول کرنے میں سخت مدافعت کرتے ہیں۔اور یہی وجہ ہے کہ جتنے بھی انسانوں پر سوؤروں کے اعضاء کی منتقلی کا تجربہ کیا گیا وہ بڑی تیزی سے اور بری طرح سے ناکام ہوا۔

اس کے باوجود سائنسدان سوؤروں پر تجربات کررہے ہیں اور جسم کی مدافعت کو روکنے کیلئے جینیاتی تبدیل شدہ جانور پر تجربات کئے جارہے ہیں۔ایک بڑا کام اس وقت ہوا جب 2003 ء میں ریویویکور کے شریک بانی ڈیوڈ آیارس(David Ayares) نے شوگر مالیکیول کے بغیر والے سور تخلیق کئے۔ یہی شوگر مالیکیول اصل میں بیرونی اعضاء کو مسترد کرتا ہے۔یہ ایک ابتدائی کامیابی تھی جس کے بعد بندروں پر کئے گئے تجربات سے ظاہر ہوتاہے کہ دوسری نسل سے لئیگئے اعضاء سے ابھی تک سوؤروں کے ریشوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ ان برے اثرات کو ختم کرنے کیلئے آیارس کی ٹیم سوؤروں میں زیادہ سے زیادہ جینز منتقل کررہی ہے۔ آیارس کہتاہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ جینز سوؤروں میں منتقل کررہے ہیں تاکہ جسم میں اعضاء کو مسترد کرنے کا شدید ردعمل دب جائے۔ اگلے سال سوؤروں میں آٹھ انسانی جینز داخل کئے جائیں گیاس طرح اس تبدیلی سے ان کے اعضاء انسان کیلئے مزید قابل قبول ہوجائیں گے۔

سرجنز حال ہی میں ملنے والی کامیابیوں کو جینیاتی تبدیل شدہ سوؤروں کے نام کرتے ہیں۔ میری لینڈ کے شہر بیتھسڈا(Bethesda) کے نیشنل ہارٹ، لنگز اینڈ بلڈ انسٹیٹیوٹ (National Heart, Lungs and Blood Institute) کے سرجن محمد محی الدین نے بتایا کہ ریویویکور سے ملنے والا سور کا دل ڈھائی سال تک ایک بن مانس کے جسم میں دھڑکتا رہا۔ سور کے دل کو بن مانس کے دوران خون کے نظام کے ساتھ منسلک کیا گیا تھا لیکن اس نے خون کو پمپ نہیں کیا البتہ بن مانس کا دل اپنی جگہ پر رہنے دیا گیا۔ محی الدین نے بتایا کہ وہ جلد بن مانس کا دل مکمل طور پر تبدیل کرنے کی کوشش کریں گے ۔اور انہوں نے جو دل تبدیل کیا تھا اس میں تین انسانی جینز تھے لیکن اب جو تبدیلی کریں گے، اس میں سات انسانی جینز بھی ہوں گے۔ اعضاء منتقل کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ انہیں جس بڑے مسئلے کا سامنا ہے وہ اعضاء کی منتقلی میں اٹھنے والے بھاری اخراجات ہیں۔ اعضاء کو منتقل کرنے کی ایک سرجری پرایک لاکھ ڈالر اخراجات اٹھتے ہیں۔ جبکہ بندروں کو رکھنے، جانوروں کے قواعد و ضوابط پورے کرنے اور سرکاری حدود کوپوری کرنے کے اخراجات الگ ہیں۔

تحریر: انٹونیو ریگالیڈو

عکاسی: REBEKKA DUNLAP

Read in English

Authors

*

Top