Global Editions

امریکی ڈیٹا چوروں سے خطرہ، یورپ میں حفاطتی انتظامات سخت

گزشتہ برس اکتوبر میں یورپی یونین کی سب سے اعلیٰ عدالت نے سیف ہاربر نامی ڈیٹا پروٹیکشن معاہدے کو کالعدم قرار دے دیا۔ جس کے تحت4332 امریکی کمپنیوں کو یورپی یونین کے 500 ملین افراد کے پرسنل ڈیٹا تک رسائی حاصل تھی۔ یہ فیصلہ امریکی نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر ایڈورڈ سنوڈن (David Snowden) کے 2013 میں کئے گئے انکشافات کے بعد کیا گیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکی کمپنیوں کو گوگل اور مائیکروسافٹ کے ذریعے رسائی حاصل ہے۔ اب امریکی کمپنیوں کو یورپ میں صارفین کے ڈیٹا تک رسائی میں کافی مشکلات کا سامنا ہے۔ زیادہ شہرت نہ رکھنے والی امریکی کمپنیوں کو تو یورپ میں صارفین کے ڈیٹا تک بالکل رسائی بھی نہیں ہے۔ انٹرنیشنل سیکورٹی اینڈ کارپوریشن کے سٹینڈفورڈ سینٹر میں سینئیر تحقیق کار کے طور پر کام کرنے والے ہربرٹ لن کے مطابق اس اقدام سے سائبر سیکورٹی میں زیادہ مدد نہیں ملے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بات سے اتقاق کرتے ہیں کہ امریکی آئی ٹی انڈسٹری پوری دنیا سے بہتر ہے اور آپ کو اپنا بہترین ٹیلنٹ استعمال کرنے کا موقع بھی امریکہ میں ہی ملتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ، جرمنی اور یورپ کی دیگر انٹیلیجینس ایجنسیاں سنوڈن جیسے واقعات پر زیادہ نظر رکھنے کے قابل نہیں۔ ان کے خیال میں اس اقدام سے سیکورٹی اقدامات میں کوئی زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔ سیف ہاربر 2000ء میں قائم ہوا تھا۔ اس کے قیام کا مقصد یورپ میں کاروبار کرنے والی امریکی کمپنیوں کے اقدامات پر نظر رکھنا تھا۔ یہ ادارہ امریکی کمپنیوں کے اقدامات پر نظر رکھ کر صارفین کے ڈیٹا تک محدود رسائی دیتا ہے اور اسے مکمل طور پر ڈیلیٹ ہونے بھی بچانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف پرائیویسی پروفیشنلز نیوہمشائر کے صدر اور چیف ایگزیکٹو ٹریورہگیز کے مطابق عدالت نے کہا تھا کہ اب امریکی کمپنیوں کو یورپی صارفین کے ڈیتا تک رسائی نہیں دی جا سکتی۔ اس کے بعد اب امریکی کمپنیوں کو یورپ میں صارفین کے ڈیٹا تک محدود رسائی ہی مل سکتی ہے، تاہم اس کے لئے انہیں دوبارہ معاہدے کرنا پڑیں گے۔ عدالتی فیصلے کے بعد امریکی کمپنیوں کے لئے یورپ میں کاربار کرنا زیادہ آسان نہیں ہوگا، متعدد کمپنیوں کے لئے یورپ میں آپریٹ کرنا ناممکن ہو جائے گا۔۔ دنیا کے 118 ملکوں میں فی سیکنڈ 2300 کاروباری ٹرانزیکشنز کو آپریٹ کرنے والی کمپنی فرسٹ ڈیٹا نے قانونی ماہرین کی مدد حاصل کر لی ہے تاکہ اپنے ڈیٹا کو کسی طرح سے محفوظ بنایا جا سکے تاکہ قانون کی خلاف ورزی نہ ہو۔ کمپنی کے چیف پرائیویسی آفیسر کرسٹین سیوینر کے مطابق ہم پوری کوشش کر رہے ہیں اور اپنے تمام آپریٹرز کو بھی آگاہ کر چکے ہیں کہ کسی بھی طرح ڈیٹا محفوظ بنایا جائے۔ دوسری جانب جو کمپنیاں افورڈ کر سکتی ہیں وہ دیگر ممالک میں ڈیٹا سینڑ قائم کر رہی ہیں۔ نومبر میں مائیکروسافٹ نے اعلان کیا تھا کہ وہ یورپی یونین کے صارفین کے لئے جرمنی میں ڈوئچے ٹیلی کام کے اشتراک سے کلائوڈ ڈیٹا شروع کر رہی ہے۔ اس کے مطابق یہ صرف بحر اوقیانوس اور یورپ کے ممالک کےڈیٹا کا معاملہ نہیں بلکہ مکمل طور پر ایک کاروباری معاملہ ہے۔ مائیکروسافٹ کے مطابق جرمنی کے 83 فیصد کاروباری حضرات مقامی ڈیٹا سینٹر پر ہی انحصار کرتے ہیں۔ امریکی اور یورپی پالیسی میکرز کے درمیان مذاکرات سے امید ہے کہ نیا معاہدہ طے پا جائے گا۔ اس بات پر کافی تنقید سامنے آ رہی ہے کہ یورپ کو ایسی جگہ بنا دیا جائے جہاں ہر کوئی اپنی مرضی کے قوانین بنا کر کاروبار کر سکے۔

تحریر: میٹ ماہونے (Matt Mahoney)

Read in English

Authors
Top