Global Editions

اسرائیل کا ٹیکنالوجی میں ترقی کا راز

اسرائیل نے بہت کم عرصے میں ہائی ٹیک کی ایک فوج تیار کرلی ہے جو اپنے ملک کیلئے بے پناہ خدمات سرانجام دے رہی ہےاور اس طر ح اسرائیل میں ہائی ٹیک کمپنیوں کی تعداد ہی 5000 تک پہنچ چکی ہے۔ سٹیلتھ (Stealth)ان ہی میں سے ایک ہے ۔ دو سال قبل صرف چھ افراد نے کمپنی شروع کی تھی اور ان میں سے زیادہ تر وہ لوگ شامل تھے جنہوں نے ملٹری انٹیلی جنس کے شعبے میں کام کیا ہوا تھا۔ وہ لوگ فوج میں بڑے حسابی انداز میں اسرائیل کے دشمنوں کے سگنلز پکڑ کر ان سے ڈیٹا اخذ کرتے تھے۔ بعد ازاں ان ہی لوگوں نے ایک نئی نجی کمپنی اینی ڈاٹ ڈُو (Any.Do)کے نام سے تشکیل دی ۔اینی ڈاٹ ڈُو نے اپنی خدمات عام کمپنیوں کو فراہم کرنا شروع کردیں ہیں۔اینی ڈاٹ ڈُو کی سمارٹ فون کیلئے ایپلی کیشن دنیا بھر میں مقبول ترین ہے۔

ہر سال اسرائیل کی فوج ہزاروں نوجوانوں کو ٹیکنیکل کورسز کرواکر انہیں اپنے معیار پر لاکر ایک ریڈی میڈ ٹیم میں بدل دیتی ہے۔ تب انہیں ان ملکوں میں بھیجا جاتاہے جہاں وہ سرمایہ کاری کرنے کیلئے خطرات مول لینے میں عار نہیں سمجھتے۔ اسی لئے اسرائیل ہائی ٹیک خدمات اور اشیا کی فراہمی میں 25ارب ڈالر سالانہ کما رہاہے۔ اسرائیلی فوج کے ایسا کرنے سے وہاں پر معاشی معجزہ رونما ہو رہا ہے۔ اسرائیل کے فوجی کاروباری کمپلیکس میں وسیع ذخیرہء معلومات اور اس کے تجزئیے کو خاصی اہمیت حاصل ہے۔ اینی ڈاٹ ڈُو کے سی ای او عمر پرچک کا کہنا ہے کہ ان کی اصل مہارت انٹر نیٹ پر موجودمختلف ابلاغی ذرائع کے درمیان ہونےوالے بے شمار پیغامات کے تبادلے سے تعلق اخذ کرکے ان کا تجزیہ کرنا ہوتاہے۔ یہ لوگ مختلف کاموں کی فہرست اور ایک تیز رفتار ایکشن انجن بنا رہے ہیں۔

اسرائیل میں فوجی خدمات لازمی ہیں جو عموماً دو سال یا اس سے زیادہ عرصے کیلئے ہوتی ہیں۔ ان میں بہت سے مستقبل کے کاروباری لوگ ہیں جنہوں نے اسرئیلی ڈیفنس فورس کی میمرام (Mamram)کمپیوٹر ٹریننگ اکیڈمی میں درخواست دی ہے۔ تل ابیب سے باہر قائم فوجی بیس ، نئی کمپنیوں کیلئے تربیتی سکول کی طرح ہے جس میں نئے بھرتی ہونے والے کیڈٹس کو کمپیوٹر پروگرامنگ اور پراجیکٹ مینجمنٹ کا کام سکھایا جاتاہے۔ اسرائیل کے سائیبر سکورٹی ڈویژن میٹزوو(Matzov)کے انٹیلی جنس یونٹس میں خصوصی مہارتوں کے حامل نوجوان ہیکرز کوبھرتی کیا جاتاہے۔ جہاں پر سگنل انٹیلی جنس اور خفیہ طور پر بات چیت سننے کی تربیت دی جاتی ہے۔خطرات میں سرمایہ کاری کرنے والی فرم بنچ مارک کے شراکت دار مائیکل آئیزنبرگ(Michael Izeinberg)بتاتے ہیں کہ اصل میں ہوتا یہ ہے کہ ہم 18سال کے نوجوانوں کو بھرتی کرتے ہیں اور انہیں ڈیٹا سنٹر میں لے جاتے ہیں جو گوگل اور فیس بک کے مشترکہ ڈیٹا سنٹر جتنا ہے، وہا ں پر انہیں کہتے ہیں کہ یہاں بیٹھیں اور کوئی ایسا کام کرکے بتائیں جو اہم ہو۔ اس طرح ہمارے پاس( اسرائیل میں )دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ اعلیٰ اور بہترین بڑا ذخیرہء معلومات اکٹھا کرنے والےانجنئیرز اور تجزیہ کار تیار ہو گئے ہیں۔

اسی سے ثابت ہوتا ہے کہ کیوں گوگل (Google)، آئی بی ایم(IBM)، مائیکروسوفٹ(Microsoft)، ای ایم سی(EMC)، انٹیل(Intel)، ای بے(Ebay)، سسکو (Cisco)اور دیگر بڑی کمپنیوں نے اسرائیل میں اپنے تحقیقی مراکز بنا رکھے ہیں۔ جہاں پر ہائی ٹیک کے مختلف شعبوں میں قریباً اڑھائی لاکھ کے قریب افراد ملازم ہیں۔ اسرائیلی کمپنیاں گزشتہ دو سالوں سے موبائل کمپیوٹنگ، سائیبر سکیورٹی، اور ڈیٹا سٹوریج میں کام کررہی ہیں۔ اسرائیل کی ویز (Waze)کمپنی نے گوگل کو موبائل کیلئے میپ کی جو اپیلی کیشن بنا کر دی ہے، اس سے گوگل نے صرف جون کے مہینے میں ایک ارب ڈالر کمائے ہیں۔ اسرائیل کی ثقافتی شناخت بھی ملک کی نئی کمپنیوں کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ گوگل کے چیئرمین ایرک شمٹ(Eric Schmidt)نے گزشتہ سال تل ابیب کا دورہ کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ اسرائیلی کاروباری افراد "صرف آج کیلئے جیو" کے مقولے پر عمل کرتے ہوئے خطرات مول لیتے ہیں۔

بعض اوقات نئی کمپنیوں کے کام میں فوجی طرز عمل واضح نظر آتاہے جیسےگیون امیجنگ(Given Imaging)کمپنی نے گولی(Pill) کی جسامت جتنا کیمرہ تیار کیا ہے جس کا تصور فوجی ڈرون کے آگے نصب تصویری آلات سے لیا گیا ہے۔ اسرائیل کی نئی کمپنیوں کا ایک عنصر وہاں کے کالجوں کی کم فیسیں ہیں جو 3000ڈالر سالانہ ہیں۔ اینی ڈاٹ ڈُو کمپنی بہت بڑے ڈیٹا کا تجزیہ کرکے مستقبل کیلئے کام کرتی ہےجبکہ ویز بھی اسی ٹیکنیک کو استعمال کرتی ہے۔ ویز کے شریک بانی یوری لیون(Uri Levine)نے فوج میں سوفٹ وئیر ڈویلپر کے طور پر کام شروع کیا تھا۔

Read in English

Authors
Top