Global Editions

اداریہ

جون 2010ءمیں کمپیوٹر وائرس سٹکسنیٹ (Stuxnet) نے مبینہ طور پرایران کے ناتانز(Natanz) نیوکلیئر افزودگی کے پلانٹ کو اپنا ہدف بنایا۔ یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ سٹکسنیٹ(Stuxnet) نے ایران کی نیوکلیئر افزودگی کی اہلیت میں 30 فیصد تک کمی کردی ۔ اگر ان دعووں پر یقین کیا جائے توہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایک نہایت ہوشیاری سے ڈیزائن کیا گیا کمپیوٹر پروگرام وہ مقاصد حاصل کر سکتا ہے جو ایک بھرپور جنگ سے بھی حاصل ہونا مشکل ہیں۔

2012ٰءمیں دنیا کے معروف ویزا اور ماسٹر کریڈٹ کارڈز کے سسٹم پر سائبر حملے نے 10 ملین کریڈٹ کارڈز کو متاثر کیا۔ ستمبر 2014ء میں دنیا کے بڑے ریٹیل سٹور ہوم ڈیپو(Home Depot)پر سائبر حملے میں 56ملین پلاسٹک کارڈز کا ڈیٹا چوری ہو گیا۔

موجودہ دور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا ہے جہاں بزنس سے لے کر جنگوں تک ہر شے سائبر سپیس میں منتقل ہو چکی ہےیہی وجہ ہے کہ موجودہ دور میں سائبر سکیورٹی بہت اہمیت اختیار کرچکی ہے۔

پاکستان میں تھری جی اور فور جی متعارف ہونے کے بعد یہاں انٹرنیٹ کےاستعمال میں تیزی سےاضافہ ہوا ہے۔ حکومت، بینکس اور کاروباری ادارے اپنے تمام ڈیٹا اور خدمات کو تیزی سے آن لائن منتقل کررہے ہیں۔ اس حوالے سے پاکستان میں سائبر سکیورٹی کے بارے میں جاننا اب اہمیت اختیار کرتا جارہا ہے۔اسی باعث انٹرنیٹ سینسر شپ، قانون سازی اور سائبر جرائم کو سمجھنے کی اشدضرورت ہے۔

ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو پاکستان کے اس شمارے میں ان معاملات کو نمایاں کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

ناہل محمود کے انفارمیشن سکیورٹی پر لکھے جانے والے مضمون سے ہمیںیہ بات سمجھنے میں مدد ملے گی کہ ہمارا بینکنگ سیکٹر کسی اعلیٰ ترین سیکورٹی پروٹیکشن کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے متروک روائتی نظام کے باعث محفوظ رہا ہے

صحافی کنور خلدون شاہد نے اپنے آرٹیکل میں ڈیجیٹل لٹریسی کے دور میں درپیش چیلنجز کی نشاندہی کی ہے جبکہ پاکستان میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے اپنےاس مضمون میں قانونی ماہرین، سائبر ورلڈ کے حقوق کیلئےجدوجہد کرنے والی غیر منافع بخش تنظیموں اور انٹرنیٹ سیکورٹی ماہرین کی آراء کو بھی شامل کیا ہے۔

سوال و جواب کے سیشن میں جواد علی نے پاکستان کےپہلے پی سی وائرس برین (Brain)کے موجد سے بات چیت کی ہے۔ ایک پاکستانی کی اس ایجاد کے باعث دنیا میں اربوں ڈالر کی اینٹی وائرس اور سائبر سیکورٹی کی مارکیٹ وجود میں آئی۔ یہ معلومات بھی دلچسپ ہیں کہ دوبھائیوں نے لاہور میں اپنے چھوٹے سے دفتر میں دنیا پر یہ ظاہر کردیا کہ کمپیوٹر کا نظام کس قدر خطروں میں گھرا ہواہے اور اسے محفوظ بنانے کی ضرورت ہے۔

احمد رضا نے اپنے آرٹیکل میں عالمی پس منظر کے حوالے سے سائبر ریڈی نس (Cyber Readiness)پر توجہ مرکوز کی ہے۔ اس میں انہوں نےبتایا ہے کہ بین الاقوامی ٹیلی کمیونیکیشن یونین اور اقوام متحدہ کی انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجیز کے انڈیکس میں بھارت سمیت چند ممالک کو اس خطے میں سائبر سیکورٹی کے حوالے سے نمایاں قرار دیا ہے۔

وردہ منیر کا آرٹیکل پاکستان میں سائبر سیکورٹی قوانین کے حوالے سے جاری بحث کا احاطہ کرتا ہے۔
آپ اس شمارے کو پڑھیں اور لطف اندوز ہوں!

تحریر: ڈاکٹر عمر سیف

Read in English

Authors
Top