Global Editions

اداریہ

پاکستان آبادی کے اعتبار سے دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے۔ یہاں 177 یونیورسٹیاں اور ڈگریاں جاری کرنے والے ادارے کام کر رہے ہیں لیکن ان تعلیمی اداروں میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں جس کا دنیا کی 500 بہترین درسگاہوں میں شمار ہو۔ ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو پاکستان کے تازہ شمارے کے سرورق پر شائع کئے جانیوالا نقشہ سائنسی میدان میں تحقیق کے حوالے سے دنیا کے ممالک کی کارکردگی کا خاکہ ہے جس میں وطن عزیز مشکل سے ہی دکھائی دیتا ہے۔

پاکستان میں اعلی تعلیم کا شعبہ دہائیوں تک نظر انداز رہا تاہم 2002ء میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کا ادارہ وجود میں آیا اور تب سے اب تک حکومتوں نے اس ضمن میں اربوں روپے اعلی تعلیم کے شعبے پر خرچ کئے۔ ہزاروں طالبعلموں کو سرکاری خرچ پرپی ایچ ڈی کے لئے بیرون ملک بھجوایا گیا، یونیورسٹی پروفیسرز کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا، ماڈل یونیورسٹی آرڈیننس تیار کیا گیا جس کے تحت تعلیمی اداروں کو ریسرچ انسٹیٹیوٹس میں تبدیل اور اساتذہ کو دیگر ممالک کے ساتھ باہمی تبادلے اور ریسرچ پراجیکٹس کے لئے بیرون ملک بھجوانا مقصود تھا۔اس شمارے میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے سابق سربراہ ڈاکٹر عطاء الرحمان نے اپنے مضمون میں اپنے ان اقدامات پر روشنی ڈالی ہے جو انہوں نے ملک میں اعلی تعلیم کے فروغ کے لئے اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ 2000ء میں ملک میں صرف 59 یونیورسٹیاں اور ڈگریاں ایوارڈ کرنے والے ادارے موجود تھے تاہم میرے اقدامات کی وجہ سے 2008ء تک ان اداروں کی تعداد 127 تک جا پہنچی، 2010ء میں یہ تعداد 137، اور 2014ء میں اعلی تعلیم دینے والے اداروں کی تعداد 157 ہو گئی‘‘ ان کے مطابق اس عرصے کےدوران یونیورسٹیوں میں داخلہ لینے والوں کی تعداد میں بھی خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اگرچہ ڈاکٹر عطاء الرحمان ایچ ای سی کی ترقی میں آنیوالی رکاوٹوں کا بھی ذکر کرتے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ صوبوں میں ایچ ای سی کے دفاتر قائم کر کے اس ادارے کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا گیا ہے۔

اپنی پالیسیوں کے باعث اگرچہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن شدید اعتراضات کی زد میں رہا ہے جہاں کئی اکیڈمیز نے تحقیق کے میعار میں بہتری کو نظر انداز کرتے ہوئے کمیشن پر نمبرز گیم کھیلنے کے الزامات بھی عائد کئے۔ یہ دلیل بھی دی جاتی ہے کہ میعار کو نظرانداز کرتے ہوئے یونیورسٹیوں اور پروفیسرز پر بے دریغ رقم خرچ کی گئی اور اس طرح ہائیر ایجوکشن کمیشن نے غیر میعاری مطبوعات کی نہ صرف ہول سیل لگائی بلکہ اس کے ذریعے بڑے پیمانے پر ادبی سرقے کو فروغ ملا۔ اسی وجہ سے کئی ماہرین تعلیم اور ناقدین جن میں پرویز ہودبھائی شامل ہیں نے پاکستانی یونیورسٹیوں کو ’’ ردی کی فیکٹریاں‘‘ قرار دیا ہے۔ ڈاکٹر ہود بھائی کے نکتہ نظر کو ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو پاکستان کے تازہ شمارے میں سوال و جواب سیکشن میں پیش کیا جا رہا ہے۔سرورق کی سٹوری میں صحافی خالد خٹک نے پاکستان میں اعلی تعلیم کے شعبے میں کارکردگی پر روشنی ڈالی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے قیام کے وقت یہاں صرف ایک یونیورسٹی تھی۔ حقائق پر مبنی اس سٹوری میں پاکستان کے تعلیمی شعبے خاص طور پر اعلی تعلیم کے شعبے کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت کا اعدادوشمار کی روشنی میں احاطہ کیا گیاہے اور پاکستانی اعلی تعلیمی اداروں میں ہونے والی تحقیق کے میعار کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ خالد خٹک نے اس حوالے سے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے موجودہ چئیرمین سے بھی صورتحال اور آئندہ کے منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

اس شمارے میں ڈاکٹر سعیدالحسن نے پاکستانی یونیورسٹیوں میں ہونے والی تحقیق کے نتائج اور معیار پر روشنی ڈالی ہے۔ ڈاکٹر سعید الحسن نے قرار دیا ہے کہ ’’ اگرچہ پاکستانی تعلیمی اداروں میں حالیہ برسوں کے دوران تحقیق کے شعبے میں خاصا کام ہوا ہے تاہم اگر اس کا جائزہ لیا جائے تو ہونے والی تحقیق کے میعار اور اس کے نتیجے میں اخذ ہونے والے نتائج کے حوالے نہایت تشویشناک صورتحال سامنے آتی ہے۔

ڈاکٹر شاہد سرویا نے اپنے مضمون میں پاکستان یونیورسٹیوں میں تحقیق کے شعبے میں ہونے والے ادبی سرقے پر روشنی ڈالی اور قرار دیا کہ تحقیق کے شعبے میں حقیقی اور میعاری ریسرچ نہایت ضروری ہے۔ اپنے مضمون میں ان کا کہنا تھا کہ ’’ سال 2015ء میں مختلف پاکستانی یونیورسٹیوں کے 20 تحقیق کاروں کو ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے ادبی سرقے پر بلیک لسٹ کیا گیا‘‘ یہ پہلو غیر میعاری تحقیق کا عکاس ہے۔

ڈاکٹر اطہر اسامہ نے اسلامی ممالک میں اعلی تعلیم اور تحقیق کے شعبے پر تفصیلی تجزیہ پیش کیا۔ ڈاکٹر اطہر اسامہ نے اس امر پر روشنی ڈالی کہ ’’ مسلم ممالک میں اعلی تعلیمی ادارے 859ء سے موجود ہیں جب فاطمہ الفیری نے مراکو میں ادارے Fes کی داغ بیل ڈالی جسے دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی قرار دیا جاتا رہا ہے‘‘ اس کے باوجود عرب دنیا میں اعلی تعلیم کے شعبے کی جانب رحجان حالیہ دور میں نظر آتا ہے ’’ عرب دنیا میں موجود مجموعی یونیورسٹوں میں سے تین تہائی یونیورسٹیا ں 20 ویں صدی کے آخری پچیس برسوں میں قائم کی گئیں‘‘

میں امید کرتا ہوں کہ آپ ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو کے تیسرے شمارے میں اعلی تعلیمی شعبے کے حوالے سے پیش کئے جانیوالے مواد کے مطالعے سے لطف اندوز ہونگے اور جان سکیں گے کہ اعلی تعلیمی شعبے میں پاکستان اس وقت دنیا میں کہاں کھڑا ہے۔

Authors

*

Top