Global Editions

اب ہجوم کو پرتشدد کارروائی سے روکیں۔۔۔ ٹیکنالوجی کی مدد سے یہ بھی ممکن

چین کی سب سے بڑی انٹرنیٹ کمپنی بائیڈو Baidu نے دعوی کیا ہے کہ اس کے انٹرنیٹ ڈیٹا کی مدد سے چین کے کسی بھی مقام پر عوام کے ہجوم ہو بےقابو ہونے پر وقت سے پہلے روکا جا سکتا ہے۔ چین کی ایک ارب سے زائد آبادی میں سے 657 ملین افراد بائیڈو کے استعمال کنندہ ہیں اور ماہانہ تقریباً 302 ملین افراد بائیڈو میپ سروس سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے منزل مقصود تک پہنچتے ہیں۔ بائیڈو کی جانب سے حال ہی میں ایک تحقیق میں قرار دیا گیا ہے کہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی مدد سے شہر کی صورتحال میں کسی غیر متوقع تبدیلی کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ اس وقت چین میں شہری سہولیات مثال کے طور پر ٹرانسپورٹ ، دکانیں اور دیگر مقاصد کے لئے حکومت بائیڈو ڈیٹا کی مدد لیتی ہے اس طرح بائیڈو چین میں عوامی سہولیات کی فراہمی میں ایک کردار ادا کر رہی ہے۔ اس کمپنی کی جانب سے کی گئی تازہ ترین تحقیق میں اس امر کا جائزہ لیا گیا ہے کہ کس طرح انٹرنیٹ استعمال کنندگان کے افعال و کردار میں تبدیلیوں کا پتا چلایا جا سکتا ہے۔ عوامی ہجوم کے دوران نمودار ہونے والی مشکلات کا جائزہ لینے کےلئے بائیڈو نے ایک مشین لرننگ سسٹم تیار کیا ہے جو آن لائن بائیڈو کی جانب سے شہریوں کو فراہم کی جانیوالی سہولت Baidu Maps کے بارے میں پوچھے جانیوالے سوالات کا تجزیہ کرتا ہے اور جائزہ لیتا ہے کہ کسی مخصوص مقام کی جانب عوامی حرکت کیونکر ہے۔ اسی مقصد کے لئے کمپنی جی پی ایس سسٹم کا بھی سہارا لیتی ہے۔ بائیڈو کے تحقیق کاروں کی جانب سے تیار کئے گئے مقالے میں کہا گیا ہے کہ بائیڈو میپ چونکہ عوام کی اکثریت استعمال کرتی ہے لہذا اس مسئلے کے حل کے لئے یہ ایک بہترین راستہ ہے۔ تحقیق کاروں کے مطابق ان کے وضع کردہ طریقے کے مطابق ہجوم کے بے قابو ہونے سے تین گھنٹے قبل ہی اس امر کا پتا چلایا جا سکتا ہے کہ کسی بھی مقام پر ہجوم کی تعداد بڑھ رہی ہے اور ان میں بے چینی پیدا ہو رہی ہے اور اس ؎ضمن میں ماضی میں ہونے والی ایسے ہی واقعات سے بھی استفادہ کیا جاتا ہے کمپنی کے مطابق اس طرح انتظامیہ کو قبل ازوقت انتباہ مل جاتا ہے اور وہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لئے مناسب اقدامات کر سکتی ہے۔ ایم آئی ٹی میڈیا لیب کے پروفیسر سینڈی پینٹلیند (Sandy Pentland) کا کہنا تھا کہ موبائل فون لوکیشنز کی مدد سے ایسا کرنا ممکن ہے۔ پروفیسر سینڈی اور انکے تحقیق کاروں کا گروپ بھی موبائل ڈیٹا اور فون سگنلز کی مدد سے عوامی رویے کے تجزیہ پر کام کر رہے ہیں۔

تحریر: ول نائیٹ (Will Knight)

Read in English

Authors

*

Top