Global Editions

اب پسینہ بھی بتائے گا کہ آپ کی صحت کیسی ہے۔۔۔۔

اگرچہ ایسی کئی ڈیوائسز مارکیٹ میں موجود ہیں جن کی مدد سے کسی بھی فرد کی صحت کو جانچا جا سکتا ہے۔ جن میں وئیر ایبل گھڑیاں اور دیگر پہننے والی ڈیوائسز شامل ہیں تاہم اگر یہ کہا جائے کہ جسم کی حدت اور دل کی دھڑکنوں کو جانچنے کے ساتھ ساتھ اگر جسم میں موجود کئی طرح کے کیمکلز کو بھی آسانی سے جانچا جا سکتا ہے تو سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ہونے والی جدید تحقیق کی روشنی میں ایسا کہنا بے جا نہ ہو گا۔ اس میدان میں بھی تحقیق کاروں نے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ حال ہی میں تحقیق کاروں نے ایسی وئیر ایبل ڈیوائس تیار کی ہے جو پسینے کی مدد سے جسم میں موجود مختلف کیمیکلز کو جانچ سکتی ہے۔ تحقیق کاروں کی ایک ٹیم نے ایسی لچکدار وئیر ایبل بینڈ تیار کی ہے جس میں نصب سینسر پسینے کی مدد سے جسم میں موجود سوڈیم، پوٹاشیم، گلوکوز اور لیکٹیٹ کی مقدار کو جانچ سکتی ہے اس کے ساتھ ساتھ جسم کے درجہ حرارت کو بھی معلوم کیا جا سکتا ہے۔ اس ڈیوائس کی مدد سے حاصل ہونے والے ڈیٹا بلیو ٹوتھ کے ذریعے سمارٹ فون میں موجود ایپ میں آسانی کے ساتھ منتقل بھی کیا جا سکتا ہے۔ حال ہی میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے الیکٹریکل انجیئنر اور کمپیوٹر سائنس کے پروفیسر علی جایوے (Ali Javey) کا تحقیق مقالہ سائنسی جریدے نیچر (Nature) میں شائع ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جسم میں موجود کئی طرح کیمیکلز ایسی صلاحیت رکھتے ہیں جس کی مدد سے کئی بیماریوں کا پتا چلایا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں تحقیقی مقالے کے شریک مصنف نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ سوڈیم اور پوٹاشیم کی شرح جسم میں موجود ہائیڈریشن کا پتہ دیتی ہے۔ اس طرح Lactate کی شرح ظاہر کرتی ہے کہ آپ کی پٹھے کتنے تھکے ہوئے ہیں اور انہیں آرام کی ضرورت ہے۔ تحقیق کاروں نے اپنی اس وئیر ایبل ڈیوائس کے بارے میں بتایا کہ اس ڈیوائس کو ہیڈ بینڈ یا آرم بینڈ کے ذریعے سر یا بازو پر باندھا جا سکتا ہے اور اس میں ایک حساس سینسر نصب ہے۔ اس بینڈ کو پہننے کے بعد استعمال کنندہ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ کئی طرح کی جسمانی مشقت کرے جس میں جاگنگ اور سائکلنگ وغیرہ شامل ہے اس طرح کی مشقت کے دوران تحقیق کار سینسر کی مدد سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو سمارٹ فونز کے ذریعے حاصل کرتے ہیں اور جانچ پڑتال کے بعد فرد کی صحت کے بارے میں جانچا جاتا ہے۔ پروفیسر علی جایوے کا کہنا تھا کہ اس سینسر کو کم لاگت کا حامل اور استعمال کے بعد تلف کیا جا سکے گا اور اس کو اس طرح ترقی دی جائے گی کہ صارفین اس سینسر کو گھڑی کی نچلی سطح پر جلد کے ساتھ چپکا سکیں اور چند گھنٹے استعمال کر کے اور مطلوبہ ریڈنگ لے کر تلف کر سکیں۔ بعد ازاں اس سینسر کو گھڑیوں میں بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ Sweat Sensing پر کام کرنے والے یونیورسٹی آف Cincinnati کے پروفیسر جیسن ہائکنفیلڈ (Jason Heikenfield) کا ماننا ہے کہ یہ طریقہ قابل عمل ہےاور تحقیق کاروں کی یہ کاوش ایک بڑی کامیابی ہے۔

تحریر: ریچل میٹز (Rachel Metz)

Read in English

Authors
Top